سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-413 Fatwa no: 1447-413

تلبیہ یا قائم مقام ذکر کے بغیر عمرہ ادا کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
اگر کسی شخص نے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن تلبیہ پڑھنا بھول گیا اور مکمل عمرہ ادا کر لیا، تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور یہ جو حکم ہے کہ اگر تلبیہ کے قائم مقام کوئی ذکر کر لیا ہو تو وہ بھی کافی ہے، تو اس میں بھی کچھ تفصیل اگر آپ سمجھا دیں کہ تلبیہ کے قائم مقام ذکر سے مراد کیا ہے؟ اگر احرام باندھنے کے بعد بندہ نماز پڑھ لے، اذکار کر لے، سفر کی دعا پڑھ لے، یا اذان کا جواب دے دے، لیکن نیت تلبیہ کی نہ ہو، تو کیا یہ ذکر تلبیہ کے قائم مقام ہو جائے گا؟ نیز یہ بتائیں کہ اگر تلبیہ یا اس کے قائم مقام ذکر میقات میں داخل ہونے کے بعد کیا گیا ہو، تو کیا اس کا اعتبار ہوگا؟
جواب :

واضح رہے کہ احرام کے لئے صرف نیت کافی نہیں، بلکہ نیت کے ساتھ ساتھ تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی ذکر بھی ضروری ہے،جیسے نماز کے لئے نیت کے ساتھ تکبیرِ تحریمہ لازم ہوتی ہے، اسی طرح احرام کے انعقاد کے لیے تلبیہ یااس کا قائم مقام ذکر ضروری ہےاور قائم مقام ذکر (جیسے ذکرِ الٰہی، دعا، اذکار وغیرہ) اس وقت ہی معتبر ہوگا جب وہ تلبیہ کی نیت سے کیا گیا ہو، اگر نیت تلبیہ کی نہ ہو، تو وہ قائم مقام نہیں بن سکتا۔
نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ میقات سے پہلے احرام باندھنا واجب ہے، اگر کوئی شخص بغیر احرام کے میقات سے گزر جائے اور افعالِ حج یا عمرہ شروع کرنے سے پہلے واپس میقات کی طرف لوٹ کر احرام باندھے، اور پھر مناسک ادا کرے، تو اس پر کچھ واجب نہیں ہوگا  ،لیکن اگر وہ بغیر احرام باندھے میقات سے گزرنے کے بعد، واپس میقات کی طرف لوٹے بغیر ہی عمرہ یا حج کے مناسک ادا کر لے، تو اس پر ایک دم واجب ہوگا، (اگرچہ میقات سے گزرنے کے بعد تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی ذکر کربھی لیا ہو کیونکہ وہ  احرام کے انعقاد کے لیے شرعاً کافی نہیں)، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ میقات سے احرام باندھتے وقت نہ تلبیہ پڑھا گیا اور نہ ہی اس کے قائم مقام کوئی ذکر کیا گیا، اس لیے احرام منعقد نہیں ہوا، اور بغیر احرام کے عمرہ ادا کرنے کی وجہ سے اس پر ایک دم واجب ہے۔
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 151):
(قوله والتلبية لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك) وهذه تلبية رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي واجبة عندنا أو ما قام مقامها من سوق الهدي ولو كان مكان التلبية تسبيح أو تهليل أو ما أشبه ذلك من ذكر الله ونوى به الإحرام صار محرما .... (قوله فإذا لبى فقد أحرم) يعني لبى ونوى لأن العبادة لا تتأدى إلا بالنية فلا يصير شارعا بمجرد النية ‌ما ‌لم ‌يأت ‌بالتلبية أو ما يقوم مقامها من الذكر.
الفتاوى العالمكيرية (1/ 222):
(وأما شرطه فالنية) حتى لا يصير محرما بالتلبية بدون نية الإحرام كذا في محيط السرخسي، ولا يصير شارعا بمجرد النية ‌ما ‌لم ‌يأت ‌بالتلبية أو ما يقوم مقامها من الذكر أو سوق الهدي أو تقليد البدنة كذا في المضمرات.
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير (3/ 110):
وحاصله أن مسألة العود على ثلاثة أوجه: في وجه لا يسقط بالعود بالاتفاق. وفي وجه يسقط به بالاتفاق، وفي وجه على الاختلاف الذي ذكرناه.
وبيانه أن من دخل مكة يريد الحج أو العمرة لا يجوز له أن يتجاوز الميقات بغير إحرام، فإن جاوز فإما أن يعود إليه أو لا، فإن لم يعد وجب عليه الدم، وإن عاد، فإما أن يعود قبل الإحرام أو بعده، فإن عاد قبله سقط الدم بالاتفاق لأنه أنشأ التلبية الواجبة عند ابتداء الإحرام، وإن عاد بعده فإما أن يعود بعدما ابتدأ الطواف واستلم الحجر أو قبله، فإن عاد بعده لا يسقط الدم بالاتفاق لأنه لما طاف واستلم الحجر وقع شوطا معتدا به، وذلك ينافي إسقاط الدم عنه لأن الإسقاط إنما هو باعتبار أنه مبتدئ من الميقات تقديرا وبعدما وقع منه شوط معتد به لا يتصور كونه مبتدئا، وظهر لك مما ذكرنا أن قوله واستلم الحجر لبيان أن المعتبر في ذلك الشوط وإن عاد قبله فعلى الاختلاف المذكور.
تحفة الفقهاء (1/ 395):
ثم الآفاقي إذا جاوز ‌الميقات ‌بغير ‌إحرام وهو يريد الحج أو العمرة ثم عاد إلى الميقات قبل أن يحرم فأحرم منه وجاوزه محرما فإنه لا يجب عليه الدم لأنه قضى حقه بالإحرام فأما إذا أحرم بعد المجاوزة من داخل الميقات للحج أو العمرة ومضى على إحرامه ذلك ولم يعد فيحب عليه الدم لأنه أدخل النقص في إحرامه
فأما إذا أحرم ثم عاد إلى الميقات وجدد التلبية والإحرام فيسقط عنه الدم في قول أصحابنا الثلاثة وعندزفر لا يسقط ولو عاد إلى الميقات محرما ولم يجدد التلبية لا  يسقط عنه الدم عند أبي حنيفة وعند أبي يوسف ومحمد يسقط لبى أو لم يلب. ولو لم يعد إلى الميقات حتى طاف شوطا أو شوطين أو وقف بعرفة في الحج تأكد عليه الدم حتى لا يسقط عنه وإن عاد إلى الميقات وجدد الميقات والتلبية .

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب