نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںحضرت اقدس مفتی فرید صاحبؒ کے بیان کردہ اصول کی روشنی میں سوال میں ذکرکردہ الفاظ میں تعلیق اور تاکید کے دونوں پہلو موجود ہیں ، تاہم جس طرح حضرتؒ نے عرف کی بنیاد پر تعلیق کے پہلو کو راجح قرار دیا ہے، ہمارے نزدیک بھی اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے عرف کی بنیاد پر تعلیق کا پہلو راجح ہے، جیسا کہ سابقہ فتویٰ (5621)میں اسی بنیاد پر جواب دیا گیا تھا۔
البتہ چونکہ الفاظ میں تاکید کا احتمال بھی پایا جاتا ہے، جس کا تقاضہ یہ ہے کہ بیوی پر فوراً تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اس لیے اگر شوہر کی نیت تعلیق کی نہ ہو بلکہ اس نے" تہ دا پہ ما طلاقہ شے '' جیسے الفاظ محض بعد والے کلام (یعنی : زا دیرا غلہ یہ موبائل سگنل چار نا کولہ زا بیا واپس شوم ) میں تاکید پیدا کرنے کے لئے استعمال کیے ہوں، اور تعلیق کا ارادہ بالکل نہ ہو، تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کی نیت معلوم کرکے اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر فیصلہ کیا جائے ،اگر نیت واضح نہ ہو تو عرف کو بنیاد بناکر اسے تعلیق پر محمول کیا جائے گا ۔
حاشية ابن عابدين:
قُلْت: وَقَدْ يَكُونُ الْكَلَامُ مُتَضَمِّنًا لِلتَّعَلُّقِ بِدُونِ تَصْرِيحٍ بِأَدَاتِهِ كَمَا مَرَّ فِي قَوْلِهِ وَيَكْفِي مَعْنَى الشَّرْطِ إلَخْ، وَمِنْهُ مَا فِي الْبَحْرِ حَيْثُ قَالَ: وَفِي الْمُحِيطِ: وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ: لَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ لَدَخَلْت فَهَذَا يُخْبِرُ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَّدَهُ بِالْيَمِينِ فَيَصِيرُ كَأَنَّهُ قَالَ إنْ لَمْ أَكُنْ دَخَلْت الدَّارَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ طَلُقَتْ، وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ لَا دَخَلْت الدَّارَ يَتَعَلَّقُ بِالدُّخُولِ. اهـ.»
(کتاب الطلاق ، مطلب في ألفاظ الشرط (3/ 352)، دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وَقَالَ ابْنُ سِمَاعَةَ سَمِعْتُ أَبَا يُوسُفَ يَقُولُ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَهَذَا يُخْبِرُ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَّدَ ذَلِكَ بِالْيَمِينِ كَأَنَّهُ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ إنْ لَمْ أَكُنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ طَلُقَتْ وَإِنْ كَانَ دَخَلَ لَمْ تَطْلُقْ لِأَنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَرْطٍ بَلْ هُوَ خَبَرٌ عَنْ الْمَاضِي أَكَّدَهُ بِالْيَمِينِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا طَلُقَتْ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ تَطْلُقْ.
(کتاب الايمان ،فَصْلٌ فِي الْيَمِينِ بِغَيْرِ اللَّهِ (3/ 23)، دار الكتب العلمية)
«مجموعة الفوائد البهية على منظومة القواعد الفقهية» (ص93):
إذا جاء حكمٌ من الشرع، أو اسمٌ عُلِّق به حكم شرعي، ولم يُحَدّ، لا في الشرع، ولا في اللغة؛ فإنه يُرْجَع حينئذ إلى العرف ويكون مُحَكَّما، وهو ما يشير إليه الفقهاء بقولهم: (العرف مُحَكَّمٌ) .
(القاعدة الخامسة عشر: العرف محكم (ص93) دار الصميعي للنشر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔