سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-414 Fatwa no: 1447-414

''تہ دا پہ ما طلاقہ شے زا دیرا غلہ یہ'' میں تعلیق و تاکید کا دونوں کا احتمال ہے

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری منگنی ہو چکی ہے اور اسی موقع پر باقاعدہ نکاح بھی پڑھا گیا، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے۔ نکاح کے بعد میں اپنی منگیتر کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک دو مرتبہ تنہائی میں ملاقات بھی ہوئی یہاں تک کہ ازدواجی تعلقات بھی قائم کیے ہیں۔ ایک دن میں اپنی منگیتر کے گھر جا رہا تھا کہ اچانک موبائل سگنل بند ہو گیا، تو میں واپس آگیا بعد میں جب سگنل بحال ہوا تو میری بیوی (منگیتر) نے کہا: "آپ نہیں آئے تھے، جھوٹ بول رہے ہیں کہ سگنل کام نہیں کر رہا تھا۔" اس پر میں نے کہا: "میں آیا تھا، آپ کیوں نہیں مان رہی؟" اس طرح ہمارے درمیان غصے میں بات بڑھ گئی، باتوں باتوں میں میں نے کہا: "تہ دا پہ ما طلاقہ شے زا دیرا غلہ یہ موبائل سگنل چار نا کولہ زا بیا واپس شوم"یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا ۔ واضح رہے کہ بعض حضرات نے اس کو تعلیق پر محمول کرکے طلاق کے عدمِ وقوع (بشرطِ صحتِ اقرارِ زوج) کا فتویٰ دیا ہے، اور بعض حضرات نے تنجیز پر محمول کرکے تین طلاقوں کے وقوع کا قول کیا ہے۔ جبکہ مفتی فرید صاحبؒ نے "طلاق بشرطِ تعلیق یا بطورِ تاکید کا مسئلہ" کے عنوان کے تحت "تو مجھ پر تین طلاق سے حرام ہے کہ زور آور نے نمبروار کو گالی دی" کے جواب میں نیت کا اعتبار کرتے ہوئے تاکید کا بھی قول ذکر کیا، جس سے منجّز طلاق کے وقوع کا پہلو نکلتا ہے، اور ساتھ تعلیق کا قول بھی بیان کیا کہ عرف میں اس طرح کے جملے تعلیق کے لیے استعمال ہوتے ہیں،آخر میں یہ بات کہی کہ عرف پر عمیق نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ تعلیق کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: کیا یہ الفاظ "تہ دا پہ ما طلاقہ شے زا دیرا غلہ یہ موبائل سگنل چار نا کولہ زا بیا واپس شوم" مفتی فرید صاحبؒ کے بیان کردہ اصول کے مطابق تعلیق اور تاکید دونوں پہلو رکھتے ہیں؟ یا یہ صرف تعلیق ہی کے زمرے میں آتے ہیں؟تفصیلی راہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
جواب :

حضرت اقدس مفتی فرید صاحبؒ کے بیان کردہ اصول کی روشنی میں سوال میں ذکرکردہ الفاظ میں تعلیق اور تاکید کے دونوں پہلو موجود ہیں ، تاہم جس طرح حضرتؒ نے عرف کی بنیاد پر تعلیق کے پہلو کو راجح قرار دیا ہے، ہمارے نزدیک بھی اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے عرف کی بنیاد پر تعلیق کا پہلو راجح ہے، جیسا کہ سابقہ فتویٰ (5621)میں اسی بنیاد پر جواب دیا گیا تھا۔
البتہ چونکہ الفاظ میں تاکید کا احتمال بھی پایا جاتا ہے، جس کا تقاضہ یہ ہے کہ بیوی پر فوراً تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اس لیے اگر شوہر کی نیت تعلیق کی نہ ہو بلکہ اس نے" تہ دا پہ ما طلاقہ شے '' جیسے الفاظ محض بعد والے کلام (یعنی : زا دیرا غلہ یہ موبائل سگنل چار نا کولہ زا بیا واپس شوم ) میں تاکید پیدا کرنے کے لئے استعمال کیے ہوں، اور تعلیق کا ارادہ بالکل نہ ہو، تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کی نیت معلوم کرکے اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر فیصلہ کیا جائے ،اگر نیت واضح نہ ہو تو عرف کو بنیاد بناکر اسے تعلیق پر محمول کیا جائے گا ۔
حاشية ابن عابدين:
قُلْت: وَقَدْ يَكُونُ الْكَلَامُ مُتَضَمِّنًا لِلتَّعَلُّقِ بِدُونِ تَصْرِيحٍ بِأَدَاتِهِ كَمَا مَرَّ فِي قَوْلِهِ وَيَكْفِي مَعْنَى الشَّرْطِ إلَخْ، وَمِنْهُ مَا فِي الْبَحْرِ حَيْثُ قَالَ: وَفِي الْمُحِيطِ: وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ: لَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ لَدَخَلْت فَهَذَا يُخْبِرُ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَّدَهُ بِالْيَمِينِ فَيَصِيرُ كَأَنَّهُ قَالَ إنْ لَمْ أَكُنْ دَخَلْت الدَّارَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ طَلُقَتْ، وَلَوْ قَالَ: ‌أَنْتِ ‌طَالِقٌ ‌لَا ‌دَخَلْت ‌الدَّارَ يَتَعَلَّقُ بِالدُّخُولِ. اهـ.» 
(کتاب الطلاق ، مطلب في ألفاظ الشرط (3/ 352)، دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وَقَالَ ابْنُ سِمَاعَةَ سَمِعْتُ أَبَا يُوسُفَ يَقُولُ فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ إنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَهَذَا يُخْبِرُ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَّدَ ذَلِكَ بِالْيَمِينِ كَأَنَّهُ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ إنْ لَمْ أَكُنْ دَخَلْتُ الدَّارَ فَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ طَلُقَتْ وَإِنْ كَانَ دَخَلَ لَمْ تَطْلُقْ لِأَنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَرْطٍ بَلْ هُوَ خَبَرٌ عَنْ الْمَاضِي أَكَّدَهُ بِالْيَمِينِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا طَلُقَتْ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ تَطْلُقْ.
 (کتاب الايمان ،فَصْلٌ فِي الْيَمِينِ بِغَيْرِ اللَّهِ (3/ 23)، دار الكتب العلمية)
«مجموعة الفوائد البهية على منظومة القواعد الفقهية» (ص93):
إذا جاء حكمٌ من الشرع، أو اسمٌ عُلِّق به حكم شرعي، ولم يُحَدّ، لا في الشرع، ولا في اللغة؛ فإنه يُرْجَع حينئذ إلى العرف ويكون مُحَكَّما، وهو ما يشير إليه الفقهاء بقولهم: (‌العرف ‌مُحَكَّمٌ) .
 (القاعدة الخامسة عشر: العرف محكم (ص93) دار الصميعي للنشر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب