سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-415 Fatwa no: 1447-415

تین طلاق كو معلق کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اسرائیل نامی شخص نے ایک جرگے میں غلام مرسلین صاحب پرچند الزامات لگاتے ہوئے کہا: " یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی بات جھوٹی ہو تو میری بیوی کو مسلسل تین طلاق ہو۔"اب اس پس منظر میں درج ذیل سوالات کی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں: 1. اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ فرید خان نامی شخص نے غلام مرسلین صاحب کو سڑک کی مرمت کرنے کے لیے دو لاکھ روپے دیے ہیں جبکہ غلام مرسلین صاحب حلفاً کہتے ہیں کہ مجھے کوئی رقم نہیں ملی؟ 2. اسرائیل نامی شخص دوسرا الزام یہ لگا رہا ہے کہ سڑک مرمت کرنے والی مشین کے اپریٹر کو 30 ہزار روپیہ غلام مرسلین صاحب نے دیے ہیں اور ساتھ یہ کہا ہے کہ اسرائیل نامی شخص کی جو روڈ ہے اس پر کام نہیں کرنا جبکہ غلام مرسلین صاحب یہ کہہ رہے ہیں مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں اور نہ میں نے اپریٹر کو کوئی پیسے یا کوئی بھی ایسی بات کہی؟ 3. اسرائیل نے ایک جرگے میں، جس میں پانچ افراد موجود تھے، کہا: "میں کلمہ پڑھ کر قسم کھاتا ہوں کہ آج کے بعد پانی، بجلی، اور راستہ بند نہیں کروں گا۔" لیکن بعد میں اسرائیل نے اس بات سے انکار کر دیا اور عملاً ایک سال سے پانی بند کر رکھا ہے۔ 4. اب ہمارا سوال یہ ہے کیا ان باتوں سے اسرائیل نامی شخص کی بیوی پرطلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب :

(4،2،1)۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں اسرائیل نامی شخص کا یہ کہنا"یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی بات جھوٹی ہو تو میری بیوی کو مسلسل تین طلاق ہو"  اس سے گویا ان باتوں کے جھوٹی ہونے پر تین طلاق معلق کی گئی ہیں، لہٰذا اگر ذکر کردہ باتوں میں سے کوئی بھی بات حقیقت میں جھوٹی ہو تو یہ بات کہتے وقت  ہی  بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ آپس میں نکاح ممکن نہ ہو گا ۔
(3)۔۔۔ صورتِ مسئولہ میں اسرائیل کے یہ الفاظ: "میں کلمہ پڑھ کر قسم کھاتا ہوں کہ آج کے بعد پانی، بجلی اور راستہ بند نہیں کروں گا"، شرعاً قسم کے الفاظ ہیں ،اگر اس نے واقعی یہ الفاظ کہے تھے اور بعد میں پانی بند کر دیاتھا تو اس کی وجہ سے  قسم کی خلاف ورزی پائی گئی ، جس کی وجہ سے اسرائیل پر  قسم کا کفارہ  لازم ہوگیا  ہے،کفارہ یہ ہے کہ زید دس مسکینوں کودووقت کاکھاناپیٹ بھرکرکھلائےیادس مسکینوں کوکپڑاپہنادے یادس مسکینوں میں سے ہرمسکین کوپونے دوکلواوراحتیاطاً دوکلوگندم یاگندم کاخالص آٹایااس کی قیمت دیدےاوراگراس کی استطاعت نہ ہوتوتین دن مسلسل روزے رکھے۔
النهاية في شرح الهداية:
التعليق بشرط كائن تنجيز؛ أي: بشرط ثابت موجود كما إذا قال: ‌امرأتي ‌طالق ‌إن ‌كان ‌زيد ‌في ‌الدار والحال أنه في الدار يقع الطلاق.
(كتاب الطلاق، ‌‌فصل في المشيئة (8/ 100) بترقيم الشاملة آليا)

الاختيار لتعليل المختار:
وإذا حنث فعليه الكفارة: إن شاء أعتق رقبة، وإن شاء أطعم عشرة مساكين أو كساهم، فإن لم يجد ‌صام ‌ثلاثة ‌أيام ‌متتابعات.
(کتاب الأیمان ،(4/ 48) دار الكتب العلمية)
الفتاوى العالمكيرية:
وإذا أضافه إلى الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط ‌اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
 (الفصل الثالث في تعليق الطلاق (1/ 420)دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب