سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-416 Fatwa no: 1447-416

تین طلاق کے بعد غیر مقلدین سے فتویٰ لےکر اس پر عمل کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں، عابدہ بی بی بنت عجب گل، ایک اہم مسئلے میں شرعی رہنمائی کی طلبگار ہوں ، وہ یہ ہے ہے کہ میرے شوہر، عنایت اللہ بن نعمت اللہ، نے پہلی بار آج سے تقریباً چار سال قبل مجھے طلاق کے الفاظ دو مرتبہ کہے، جس کے بعد ہم نے رجوع کر لیا تھا۔ اس واقعے کے دو سال بعد انہوں نے ایک بار صرف "طلاق" کا لفظ کہا۔ اور اس کے تقریباً دو سال بعد، ایک ہی مجلس میں شوہر نے تین مرتبہ واضح الفاظ میں کہا: "میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔" پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر، چند قدم آگے جا کر واپس آئے اور دوبارہ ان ہی الفاظ کو دہرایا "میں عنایت اللہ آپ کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔" بعد میں شوہر نے غیر مقلدین سے فتویٰ لیا کہ تین طلاق ایک طلاق شمار ہوتی ہے، اب شوہر غیر مقلدین کے فتوے کی بنیاد پر نکاح کو برقرار سمجھتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے اب شوہر کے نکاح میں رہنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ ، برائے کرم اس عمل کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ قرآن وحدیث اور صحابہ کرام    کے فیصلوں کی روشنی میں تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یاعلیحدہ علیحدہ ، ہر صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں ،نیز امام اعظم امام     ابو حنیفہ رحمہ  اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ، امام بخاری رحمہ اللہ،امام مسلم رحمہ اللہ ، الغرض جمہور فقہاء ومحدثین  رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے ،اس مسئلہ میں غیر مقلد ین کامسلک علمی اعتبار سے درست نہیں ، اس پرعمل کرنااور تین طلاقوں کےبعد دونوں کا بیوی کی حیثیت سے  ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں،  لہذا مسئولہ صورت میں جب آپ کے شوہر نے آپ کو پہلی بار دو طلاقیں دے کر رجوع کیا تھا، اور اس کے دو سال بعد ایک اور طلاق دی، تو اسی وقت آپ پر تین طلاقیں واقع ہو چکی تھیں، اور نکاح ختم ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی تھی ، اس کے بعد نہ رجوع ہوسکتاہے  اور نہ حلالہ کے بغیر دوبارہ آپس میں نکاح ہوسکتاہے ، اور ان تین طلاقوں کے بعد آپ دونوں ساتھ رہنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، دونوں پرلازم ہےکہ آئندہ  بھی ایک دوسرے سے الگ رہیں اوراب تک جو گناہ ہوا ہے ا ُس پرخوب گڑگڑا کرسچی توبہ واستغفار کریں ، چونکہ تین طلاقیں پہلے ہی واقع ہوچکی تھیں ،اس لیے اس کے دو سال بعد دی گئی طلاقیں شرعاً لغو شمار ہوں گی۔ 
صحيح البخاري:
4961 - حدثني محمد بن بشار: حدثنا يحيى، عن عبيد الله قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة: أن رجلا ‌طلق ‌امرأته ‌ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: (لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول).
(باب: من أجاز طلاق الثلاث، (5/ 2014) دار ابن كثير،)
شرح صحيح البخاري لابن بطال:
قالت: عائشة مرة: إن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت، فطلق، فسئل النبى صلى الله عليه وسلم أتحل للأول؟ قال: (لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول) . اتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع طلاق الثلاث فى كلمة واحدة، فإن ذلك عندهم مخالف للسنة، وهو قول جمهور السلف، والخلاف فى ذلك شذوذ، وإنما تعلق به أهل البدع، ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التى لا يجوز عليها التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة، وإنما يروى الخلاف فى ذلك عن السلف الحجاج بن أرطاة، ومحمد بن إسحاق. قال أبو يوسف القاضى: كان الحجاج بن أرطاة يقول: ليس طلاق الثلاث بشىء، وكان ابن إسحاق يقول: ترد الثلاث إلى واحدة. واحتجوا فى ذلك بما رواه ابن إسحاق، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: طلق ركانة بن يزيد امرأته ثلاثا فى مجلس واحد، فحزن عليها حزنا شديدا، فسأله النبى، عليه السلام: (كيف طلقتها؟) ، قال: ثلاثا فى مجلس واحد، قال: (إنما تلك واحدة، فارتجعها إن شئت) ، فارتجعها. وروى ابن جريج، عن ابن طاوس، عن أبيه، أن أبا الصهباء قال لابن عباس: ألم تعلم أن الثلاث كانت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأبى بكر، وصدرا من خلافة عمر ترد إلى الواحدة؟ قال: نعم. قال الطحاوى: هذان حديثان منكران قد خالفهما ما هو أولى منهما، روى سعيد ابن جبير، ومجاهد، ومالك بن الحارث، ومحمد بن إياس بن البكير، والنعمان بن أبى عياش، كلهم عن ابن عباس فيمن طلق امرأته ثلاثا أنه قد عصى ربه، وبانت منه امرأته ولا ينكحها إلا بعد زوج، روى هذا عن عمر، وعلى، وابن مسعود، وابن عمر، وأبى هريرة، وعمران بن حصين، ذكر ذلك الطحاوى بالأسانيد عنهم..
 (باب: من أجاز طلاق الثلاث (7/ 390) مكتبة الرشد)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب