سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-417 Fatwa no: 1447-417

جانور کو نصف حصّے پر پرورش کیلئے دينے كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں: اسلم نامی شخص نے اشرف کوپالنے کے لئے گائے،بھینس، بکریاں اور مرغیاں خرید کر دے دئے ، اور اس کے ساتھ معاہدہ کیا کہ: اصلی جانورمیرے ہوں گے، "ان کی دیکھ بھال اور خوراک تم (اشرف) نے دینی ہے،اور دودھ بھی اشرف ہی استعمال کرے گا ،اس میں اسلم کا کوئی حصہ نہیں ہوگااور نیز جانوروں کے بچے کے حوالے سے یہ معاہدہ ہوا کہ جانور جو بچے دیں گے ان کو سال بعد فروخت کرکے جو نفع ہوگا ، نصف نصف تقسیم کریں گے، ایسا معاملہ کرنا کیسا ہے ؟بالفرض نفع ایک لاکھ آتا ہے تو اس کو کیسے تقسیم کریں ؟برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
جواب :

واضح رہے کہ جانور کو نصف حصے کے عوض یا آئندہ ہونے والے  بچوں میں شرکت کی  شرط پر کسی کو  پرورش کیلئے دینا   درحقیقت  ’’اجارہ‘‘(کرایہ داری ) کا معاملہ ہے اور اس میں چونکہ اجیر     ( جانور پالنے والے ملازم ) کی اجرت مجہول ہے، اسلئے  یہ اجارہ  فاسداور ناجائز ہے،لہذا اس طرح معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے ، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے ، البتہ اس کی  متبادل جائز صورتیں درج ذیل ہیں:
 (الف)۔۔۔ابتداء ہی سےجانوروں کا مالک(اسلم) ، پرورش کرنے والے (اشرف)کو جانوروں  کا آدھا حصہ فروخت کردےاور پرورش کرنے والا اس سودے کو قبول کرلے،اس کے بعد مالک اس کی  قیمت پرورش کرنے والے(خریدار اشرف) کی خدمت کا معاوضہ قرار دے لیکن خدمت کے لئے  مدت متعین کردے اور احتیاطاً اتنی مدت مقرر کریں جو   پرورش کی عمومی  مدت سے زیادہ ہو(مثلاً:اگر ایک سال اس کی پرورش کی مدت ہو تو ڈیڑھ سال مدت مقرر  کی جائے تاکہ بعد میں جھگڑے کا باعث نہ بنے)یا اس کی  قیمت معاف کردےاورمعاف کرنے کی صورت میں پرورش کرنے والے سے کہے کہ تم اس کی پرورش کرو اور پرورش کرنے والا اس پر راضی ہوجائے، تواس صورت میں دونوں  جانوروں  میں برابر کے شریک  ہونگے اور اس کی کل منفعت (بچے، دودھ وغیرہ)میں بھی دونوں شریک ہونگے ، اگرجانوروں  کو فروخت کردیں تو اس کی قیمت ميں بھی دونوں شریک ہوں گے، تاہم اس صورت میں پرورش کرنے والا  (اشرف )کسی وقت چارے کا نصف خرچ وصول کرنا چاہے تو کرسکے گا،(البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس صورت میں اگر دونوں بخوشی یہ طے کرلیں کہ مثلاً: خدمت والا کہے کہ گھاس وغیرہ کی جو نصف رقم تم پر لازم ہوتی ہے وہ میں بخوشی (نہ بطورِ تبادلہ )معاف کرتا ہوں اور دوسرا کہہ دے کہ چونکہ دودھ ہم دونوں کا ہے تو میں اپنا دودھ کا حصہ تمہیں بخوشی(نہ بطورِ تبادلہ ) معاف کرتا ہوں ،اور دونوں اسے رضامندی سے قبول کرلیں )۔
(ب)۔۔۔یااگر مالک (اسلم) صرف بچوں  میں پرورش کرنے والے (اشرف) کو شریک کرناچاہتاہے اور اصل جانور میں شریک  نہیں کرنا چاہتا،  تو اس کے لئے یہ طریقہ اختیار کرسکتا ہے کہ  فروختگی کے بعد قیمت معاف نہ کرے،بلکہ معاملہ  کی اختتام میں مالک(اسلم) ، جانور کے دوسرے نصف حصہ کوواپس خریدے اور مذکورہ قیمت(جو کہ پرورش کرنے والے کے ذمہ باقی ہے) باہمی رضامندی سے اس(جانور کے دوسرے نصف حصہ )كے ثمن میں سے شمار کرے،تو اس صورت میں (واپس خریدنے کی وجہ سے) اصل جانور دوبارہ  مالک(اسلم)کی ملکیت  میں آ جائے گا، جبکہ بچوں میں دونوں نصف نصف شریک ہوں گےاور انہیں فروخت کر کے نفع بھی نصف نصف آپس میں تقسیم کریں گے(مثلاً: اگر بچوں کی مجموعی قیمت ایک لاکھ روپے ہو تو پچاس ہزار مالک (اسلم) کا حصہ ہوگا اور پچاس ہزار پرورش کرنے والے (اشرف) کا )، تاہم یہ بات واضح رہے کہ دونوں عقد الگ الگ طے کیے جائیں، ایک عقد کو دوسرے کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے۔
(ج)۔۔۔یا جانور کا کوئی حصہ فروخت کئے بغیرپرورش کرنے والے(اشرف) کو  اُس کی محنت کی اُجرت الگ سے رقم وغیرہ کی صورت میں دی جائے توایسی صورت میں جانور پورا کا پورا، اس کے بچے اور دودھ وغیرہ مالک (اسلم)ہی کی ملکیت ہوں گےاور پرورش کرنے والے(اشرف) کو صرف اس کی محنت کی اجرت ملے گی ،البتہ اگر بعد میں اجرت کی رقم کے عوض جانور کے نصف حصے کی خرید و فروخت باہمی رضامندی سے کر لی جائے، تو اس کی بھى  شرعاً گنجائش ہے۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار(ص579):
 (تفسد الاجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكلما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) ‌كجهالة ‌مأجور ‌أو ‌أجرة أو مدة أو عمل. 
الفتاوى العالمكيرية (4/ 445):
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما وكذا لو دفع الدجاج على أن يكون البيض بينهما أو بزر الفيلق على أن يكون الإبريسم بينهما لا يجوز والحادث كله لصاحب الدجاج والبزر
المحيط البرهاني (6/ 43):
وعلى هذا إذا دفع البقرة إلى إنسان بالعلف، ليكون الحادث بينهما نصفان، فما حدث فهو لصاحب البقرة، ولذلك الرجل مثل علفه الذي علفها، وأجر مثل ما قام عليها؛ لأنه غير متبرع في ذلك حيث شرط لنفسه نصف الحادث، وعلى هذا إذا دفع الدجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفان. والحيلة ‌أن ‌يبيع ‌نصف ‌البقرة من ذلك الرجل، ونصف الدجاجة ونصف بذر العلق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما، فيكون الحادث منهما على الشركة.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب