سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-418 Fatwa no: 1447-418

جانور نصف پر دينے كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ محمد نفیس الرحمن نے دو عدد بکریاں 80 ہزار میں خریدیں اور مورخہ 12 ستمبر 2025 کو جناب الف گل صاحب کو آدھے پر دیں، دونوں بکریوں میں الف گل آدھے آدھے کے مالک ہوگا، الف گل صاحب بکریوں کو چارہ ڈالے گا اور دودھ آدھا آدھا ہوگا، جو کہ محمد نفیس الرحمن نے اپنے حصے کا آدھا دودھ الف گل صاحب کو ہدیہ کر دیا ہے۔ بکریوں کے بچے دونوں فریقین کے آدھے آدھے ہوں گے، مزید یہ کہ سخت سردی کے موسم میں جبکہ بارشیں ہو رہی ہوں تو بکریوں کے لیے بوسہ دونوں مل کر خریدیں گے، جس کی آدھی رقم محمد نفیس الرحمن اور آدھی رقم الف گل صاحب ادا کرے گا، اگر بکری کو ذبح کیا گیا تو گوشت آدھا آدھا تقسیم ہوگا،بکری کی فروخت کی صورت میں رقم آدھی آدھی تقسیم ہوگی کیا یہ صورتِ حال شرعاً درست ہے؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر محمد نفیس الرحمن نے جناب الف گل صاحب کو بکریوں کی پرورش کے بدلے نصف شراکت یا آئندہ ہونے والے  بچوں میں  شرکت کی شرط پر بکریاں دی ہیں، تو یہ اجارہ فاسد ہے، کیونکہ اجیر (پرورش کرنے والے) کی اجرت مجہول ہے، اور شرعی اصول کے مطابق یہ صورت جائز نہیں ،البتہ   اس کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہےکہ  ابتداء میں محمد نفیس الرحمن بکریوں کا نصف حصہ الف گل صاحب کو فروخت کر دے اور وہ اس بیع کو قبول کرے،اس کےبعد  محمد نفیس الرحمن  وہ قیمت معاف کر دے،اور  پرورش کرنے والے سے کہے کہ تم اس کی پرورش کرو اور پرورش کرنے والا اس پر راضی ہوجائے اس صورت میں دونوں بکریوں میں برابر شریک شمار ہوں گے، اور دودھ، بچے، گوشت، قیمت، اور تمام منافع میں نصف نصف کے حق دار ہوں گےاور اخراجات بھی اسی حساب سے ہوں گے، یعنی اس صورت میں پرورش کرنے والا  (الف گل صاحب  )کسی وقت چارے کا نصف خرچ وصول کرنا چاہے تو کرسکے گا ۔ (البتہ اگر دونوں فریق باہمی رضا مندی سے یہ طے کر لیں کہ مثلاً: خدمت کرنے والا(الف گل صاحب) یہ کہے کہ چارے کی جو نصف لاگت تم پر لازم ہے، وہ میں خوش دلی سے (نہ بطورِ تبادلہ )معاف کرتا ہوں اور دوسرا فریق (محمد نفیس الرحمن )یہ کہے کہ چونکہ دودھ ہم دونوں کا مشترک ہے، تو میں اپنا حصہ تمہیں بغیر کسی معاوضے کے خوش دلی سےدیتا ہوں، اور دونوں اس پر راضی ہوں، تو یہ صورت بھی شرعاً درست ہے)۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار(ص579):
 (تفسد الاجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكلما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) ‌كجهالة ‌مأجور ‌أو ‌أجرة أو مدة أو عمل. 
الفتاوى العالمكيرية (4/ 445):
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما وكذا لو دفع الدجاج على أن يكون البيض بينهما أو بزر الفيلق على أن يكون الإبريسم بينهما لا يجوز والحادث كله لصاحب الدجاج والبزر
المحيط البرهاني (6/ 43):
وعلى هذا إذا دفع البقرة إلى إنسان بالعلف، ليكون الحادث بينهما نصفان، فما حدث فهو لصاحب البقرة، ولذلك الرجل مثل علفه الذي علفها، وأجر مثل ما قام عليها؛ لأنه غير متبرع في ذلك حيث شرط لنفسه نصف الحادث، وعلى هذا إذا دفع الدجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفان. والحيلة ‌أن ‌يبيع ‌نصف ‌البقرة من ذلك الرجل، ونصف الدجاجة ونصف بذر العلق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما، فيكون الحادث منهما على الشركة .

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب