نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسوال میں ذکر کردہ صورتحال کے مطابق، حکومتِ پنجاب کی طرف سے "اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم" کے تحت گھر بنانے کے لیے قرضہ لینے والوں کو مقررہ مدت میں ادائیگی پر جو سہولت دی جا رہی ہے، شرعی اعتبار سے اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، یہ سہولت حکومت کی طرف سے تبرع شمار ہوگی۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
فعلى قول من يقول: إن القرض لا يتأجل بالتأجيل، يجوز " ضع وتعجل " في القروض، لأنها من الديون الحالة التي يجوز فيها " ضع وتعجل ". والأصل فيه حديث كعب بن مالك رضي الله عنه: (أنه كان له على عبد الله بن حدرد الأسلمي دين، فلقيه فلزمه، فتكلما حتى ارتفعت الأصوات، فمر بهما النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا كعب: وأشار بيده كأنه يقول: النصف. فأخذ نصف ما عليه وترك نصفا)
الوضع عند التعجيل من غير شرط:
وكذلك المنع من الوضع بالتعجيل في الديون المؤجلة إنما يكون إذا كان الوضع شرطا للتعجيل. أما إذا عجل المدين من غير شرط، جاز للدائن أن يضع عنه بعض دينه تبرعا. وعليه حمل الجصاص رحمه الله الآثار التي تدل على جواز "ضع وتعجل" قال رحمه الله تعالى: (ومن أجاز من السلف إذا قال: عجل لي وأضع عنك، فجائز أن يكون أجازوه إذا لم يجعله شرطا فيه، وذلك بأن يضع عنه بغير شرط.
(أحكام البيع بالتقسيط (ص51)مكتبه معارف القرأن)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔