سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-420 Fatwa no: 1447-420

حکومتی قرض کی جلد ادائیگی پر ملنے والی رعایت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
كيا فرماتے ہيں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ حکومتِ پنجاب کی "اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم" کے تحت گھر کی تعمیر کے لیے قرضہ لینے والوں کو یہ سہولت دی جا رہی ہے کہ اگر وہ لیا گیا قرض (مثلاً 15 لاکھ روپے) ایک مقررہ مدت (1 سے 3 سال) میں مکمل واپس کر دیں، تو انہیں کل رقم کا 20فیصد (یعنی 3 لاکھ روپے) معاف کر دیا جائے گااور اگر 4 سے 6 سال میں مکمل ادائیگی کریں تو 10فیصد (یعنی ڈیڑھ لاکھ روپے) کی معافی دی جائے گی، سوال یہ ہے کہ کیا شرعی لحاظ سے اس اسکیم سے فائدہ اُٹھانا، یعنی مقررہ مدت میں مکمل ادائیگی کر کے رعایت حاصل کرنا جائز ہے؟ کیا یہ کسی سودی معاملے میں داخل تو نہیں ہوگا؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

سوال میں ذکر کردہ صورتحال کے مطابق، حکومتِ پنجاب کی طرف سے "اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم" کے تحت گھر بنانے کے لیے قرضہ لینے والوں کو مقررہ مدت میں ادائیگی پر جو سہولت دی جا رہی ہے، شرعی اعتبار سے اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، یہ سہولت حکومت کی طرف سے تبرع  شمار ہوگی۔ 
بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
فعلى قول من يقول: إن القرض لا يتأجل بالتأجيل، يجوز " ضع وتعجل " في القروض، لأنها من الديون الحالة التي يجوز فيها " ضع وتعجل ". والأصل فيه حديث كعب بن مالك رضي الله عنه: (أنه كان له على عبد الله بن حدرد الأسلمي دين، فلقيه فلزمه، فتكلما حتى ارتفعت الأصوات، فمر بهما النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا كعب: وأشار بيده كأنه يقول: النصف. فأخذ نصف ما عليه وترك نصفا)
الوضع عند التعجيل من غير شرط:
وكذلك المنع من الوضع بالتعجيل في الديون المؤجلة إنما يكون إذا كان الوضع شرطا للتعجيل. أما إذا عجل المدين من غير شرط، جاز للدائن أن يضع عنه بعض دينه تبرعا. وعليه حمل الجصاص رحمه الله الآثار التي تدل على جواز "ضع وتعجل" قال رحمه الله تعالى: (ومن أجاز من السلف إذا قال: عجل لي وأضع عنك، فجائز أن يكون أجازوه إذا لم يجعله شرطا فيه، وذلك بأن يضع عنه بغير شرط.
 (أحكام البيع بالتقسيط (ص51)مكتبه معارف القرأن)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب