سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-421 Fatwa no: 1447-421

خالہ سے حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے بعد بھانجی سے نکاح کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ا گر زید کا کسی عورت کے ساتھ غلط تعلقات ہو تو اس عورت کی بھانجی کا نکاح زید کے ساتھ جائز ہے کہ نہیں ہے یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ زید کا کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلق رکھنا شرعاً سخت گناہ، ناجائز اور حرام ہے، جس سے فوراً سچی توبہ کرنا اور آئندہ ایسی حرکات سے مکمل پرہیز کرنا ضروری ہے، جہاں تک زید کے لیے اس عورت کی بھانجی سے نکاح کا تعلق ہے، تو شرعی اصول کے مطابق حرمتِ مصاہرت صرف اس عورت کے اصول و فروع اور ان کی ازواج ( بیویوں )کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیتی ہے،اور بھانجی  مذکورہ عورت  کے اصول اورفروع میں سے نہیں  ہے اس لیے زید کا اس عورت کی  بھانجی سے نکاح  کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حرمتِ نکاح کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔ 
فتح القدير للكمال بن الهمام:
الثاني المصاهرة، يحرم بها ‌فروع ‌نسائه ‌المدخول ‌بهن وإن نزلن، وأمهات الزوجات وجداتهن بعقد صحيح وإن علون وإن لم يدخل بالزوجات، وتحرم موطوءات آبائه وأجداده وإن علوا ولو بزنا والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح، وتحرم موطوءات أبنائه وأبناء أولاده وإن سفلوا ولو بزنا، والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح .
(فصل في بيان المحرمات (3/ 208)ط: دار الفكر، بيروت)
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي»:
والنوع الثاني: المحرمات بالمصاهرة، وهن أنواع أربعة ‌فروع ‌نسائه ‌المدخول ‌بهن وأصولهن وحلائل فروعه وحلائل أصوله.
(فصل في المحرمات  (2/ 101)ط: دار الكتاب الإسلام)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب