نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ زید کا کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلق رکھنا شرعاً سخت گناہ، ناجائز اور حرام ہے، جس سے فوراً سچی توبہ کرنا اور آئندہ ایسی حرکات سے مکمل پرہیز کرنا ضروری ہے، جہاں تک زید کے لیے اس عورت کی بھانجی سے نکاح کا تعلق ہے، تو شرعی اصول کے مطابق حرمتِ مصاہرت صرف اس عورت کے اصول و فروع اور ان کی ازواج ( بیویوں )کے ساتھ نکاح کو حرام قرار دیتی ہے،اور بھانجی مذکورہ عورت کے اصول اورفروع میں سے نہیں ہے اس لیے زید کا اس عورت کی بھانجی سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حرمتِ نکاح کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔
فتح القدير للكمال بن الهمام:
الثاني المصاهرة، يحرم بها فروع نسائه المدخول بهن وإن نزلن، وأمهات الزوجات وجداتهن بعقد صحيح وإن علون وإن لم يدخل بالزوجات، وتحرم موطوءات آبائه وأجداده وإن علوا ولو بزنا والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح، وتحرم موطوءات أبنائه وأبناء أولاده وإن سفلوا ولو بزنا، والمعقودات لهم عليهن بعقد صحيح .
(فصل في بيان المحرمات (3/ 208)ط: دار الفكر، بيروت)
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي»:
والنوع الثاني: المحرمات بالمصاهرة، وهن أنواع أربعة فروع نسائه المدخول بهن وأصولهن وحلائل فروعه وحلائل أصوله.
(فصل في المحرمات (2/ 101)ط: دار الكتاب الإسلام)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔