سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-38 Fatwa no: 1447-38

اصل رقم کی ادائیگی کے بعد سودی رقم دینے سے انکار کرنا شرعاً کیسا ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک آدمی نے پچاس ہزار(50،000) روپے دوسرے آدمی کو سود پر دیئےتھے،اب اس نے اصل(50،000) رقم مالک کوواپس کردیا ،لیکن وہ مزید سودی رقم دینے سے انکار کررہاہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیااس کا انکار کرنا درست ہے یانہیں؟
جواب :

سودی لین دین ناجائز اور حرام ہے قرآن واحادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں،لہذا صورت مسئولہ میں شخص مذکور نے سود پر قرض  لےکر گناہ کا ارتکاب کیاہے،اس پر اسے توبہ اور استغفار کرناچاہیئےاوراصل مالک کیلئے سودی رقم کامطالبہ کرنا جائز نہیں،باقی اگر سود دینے والے کوکسی طرح سود نہ لینے پرقائل کرسکتا ہے تواس کی کوشش کرنا چاہیئے،لیکن اگر وہ مانگنے پر مصر ہو اور اس سے شخص مذکور کی جان،مال یاعزت وابرو کا خطرہ ہو توپھر اس صورت میں دینے کی گنجائش ہے۔
قال الله تبارك وتعالى في القرآن العظيم:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَاإلخ.
(سورةالبقرة:الآية:275)
وفي بدائع الصنائع:
أَنَّ الْقَرْضَ تَبَرُّعٌ.أَلَا يَرَى أَنَّهُ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ لِلْحَالِ... كَأَنَّ الْمُسْتَقْرِضَ انْتَفَعَ بِالْعَيْنِ مُدَّةً، ثُمَّ رَدَّ عَيْنَ مَا قَبَضَ، وَإِنْ كَانَ يَرُدُّ بَدَلَهُ فِي الْحَقِيقَةِ، وَجُعِلَ رَدُّ بَدَلِ الْعَيْنِ بِمَنْزِلَةِ رَدِّ الْعَيْنِ إلخ.
(فصل في حكم القرض:ج7،ص 396،ط دارالكتب العلمية)
وفي مجلة الأحكام العدلية:
يُتَحَمَّلُ الضَّرَرُ الْخَاصُّ لِدَفْعِ ضَرَرٍ عَامٍّ.(26)... الضَّرَرُ الْأَشَدُّ يُزَالُ بِالضَّرَرِ الْأَخَفِّ.(27)... إذَا تَعَارَضَ مَفْسَدَتَانِ رُوعِي أَعْظَمُهُمَا ضَرَرًا بِارْتِكَابِ أَخَفِّهِمَا.(28).
(المقالةالثانية في بيان القواعدالكلية:ج1،ص 19،ط نورمحمد كارخانة)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 12 May 2026

واللہ اعلم بالصواب