نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسودی لین دین ناجائز اور حرام ہے قرآن واحادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں،لہذا صورت مسئولہ میں شخص مذکور نے سود پر قرض لےکر گناہ کا ارتکاب کیاہے،اس پر اسے توبہ اور استغفار کرناچاہیئےاوراصل مالک کیلئے سودی رقم کامطالبہ کرنا جائز نہیں،باقی اگر سود دینے والے کوکسی طرح سود نہ لینے پرقائل کرسکتا ہے تواس کی کوشش کرنا چاہیئے،لیکن اگر وہ مانگنے پر مصر ہو اور اس سے شخص مذکور کی جان،مال یاعزت وابرو کا خطرہ ہو توپھر اس صورت میں دینے کی گنجائش ہے۔
قال الله تبارك وتعالى في القرآن العظيم:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَاإلخ.
(سورةالبقرة:الآية:275)
وفي بدائع الصنائع:
أَنَّ الْقَرْضَ تَبَرُّعٌ.أَلَا يَرَى أَنَّهُ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ لِلْحَالِ... كَأَنَّ الْمُسْتَقْرِضَ انْتَفَعَ بِالْعَيْنِ مُدَّةً، ثُمَّ رَدَّ عَيْنَ مَا قَبَضَ، وَإِنْ كَانَ يَرُدُّ بَدَلَهُ فِي الْحَقِيقَةِ، وَجُعِلَ رَدُّ بَدَلِ الْعَيْنِ بِمَنْزِلَةِ رَدِّ الْعَيْنِ إلخ.
(فصل في حكم القرض:ج7،ص 396،ط دارالكتب العلمية)
وفي مجلة الأحكام العدلية:
يُتَحَمَّلُ الضَّرَرُ الْخَاصُّ لِدَفْعِ ضَرَرٍ عَامٍّ.(26)... الضَّرَرُ الْأَشَدُّ يُزَالُ بِالضَّرَرِ الْأَخَفِّ.(27)... إذَا تَعَارَضَ مَفْسَدَتَانِ رُوعِي أَعْظَمُهُمَا ضَرَرًا بِارْتِكَابِ أَخَفِّهِمَا.(28).
(المقالةالثانية في بيان القواعدالكلية:ج1،ص 19،ط نورمحمد كارخانة)
Mufti
تاریخ جواب: 10 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 12 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔