سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-423 Fatwa no: 1447-423

دو بندوں کی جماعت میں تیسرے نمازی کی شرکت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر جماعت میں صرف امام اور ایک مقتدی ہو، اور دورانِ نماز ایک دوسرا مقتدی آ جائے، تو ایسی صورت میں امام کو آگے بڑھنا چاہیے یا پہلے والے مقتدی کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں وضاحت فرمائیں، نیز حوالہ بھی عنایت فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں دونوں صورتیں جائز ہیں ،خواہ امام آگے بڑھ جائے یا مقتدی پیچھے ہوجائے اور یہ بھی درست ہے کہ آنے والا شخص مقتدی کو پیچھے کھینچ لے بشرطیکہ مقتدی کی نماز کے فساد یا لڑائی جھگڑا کا اندیشہ نہ ہو۔
حاشية ابن عابدين:
[تتمة] إذا اقتدى بإمام فجاء آخر يتقدم الإمام موضع سجوده كذا في مختارات النوازل. وفي القهستاني عن الجلابي أن المقتدي يتأخر عن اليمين إلى خلف إذا جاء آخر. اهـ. وفي الفتح: ولو اقتدى واحد بآخر فجاء ثالث يجذب المقتدي بعد التكبير ولو جذبه قبل التكبير لا يضره، وقيل يتقدم الإمام اهـ ومقتضاه أن الثالث يقتدي متأخرا ومقتضى القول بتقدم الإمام أنه يقوم بجنب المقتدي الأول. والذي يظهر أنه ينبغي ‌للمقتدي ‌التأخر إذا جاء ثالث فإن تأخر وإلا جذبه الثالث إن لم يخش إفساد صلاته، فإن اقتدى عن يسار الإمام يشير إليهما بالتأخر، وهو أولى من تقدمه لأنه متبوع ولأن الاصطفاف خلف الإمام من فعل المقتدين لا الإمام، فالأولى ثباته في مكانه وتأخر المقتدي، ويؤيده ما في الفتح عن صحيح مسلم «قال جابر سرت مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة فقام يصلي فجئت حتى قمت عن يساره فأخذ بيدي فأدارني عن يمينه، فجاء ابن صخر حتى قام عن يساره فأخذ بيديه جميعا فدفعنا حتى أقامنا خلفه» اهـ وهذا كله عند الإمكان وإلا تعين الممكن. والظاهر أيضا أن هذا إذا لم يكن في القعدة الأخيرة وإلا اقتدى الثالث عن يسار الإمام ولا تقدم ولا تأخر.
 (كتاب الصلاة،‌‌باب الإمامة (1/ 568)ط: دار الفكر - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب