سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-424 Fatwa no: 1447-424

رضاعی بھائی سے نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زینب نامی لڑکی نے مدتِ رضاعت میں حامدہ نامی خاتون کا دودھ پیا تھا، بعد میں زینب کا نکاح حامدہ کے بڑے بیٹے جاسم سے ہوا، اور نکاح کے کچھ عرصے بعد جاسم کا انتقال ہو گیا، اب اہلِ خانہ زینب کا نکاح حامدہ کے دوسرے بیٹے قاسم سے کرانا چاہتے ہیں، حالانکہ زینب نے رضاعت کے زمانے میں اسی قاسم کے ساتھ حامدہ کا دودھ پیا تھا،اب سوال یہ ہے کہ: 1. زینب کا جاسم (یعنی حامدہ کے بڑے بیٹے) سے نکاح شرعاً درست ہوا تھا یا نہیں؟ 2. جاسم کے انتقال کے بعد زینب کا نکاح حامدہ کے چھوٹے بیٹے قاسم سے کروانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں واضح فرمائیں۔۔
جواب :

واضح رہے کہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق شرعاً  زینب کا نکاح نہ حامدہ کے بڑے بیٹے جاسم سے درست تھا، اور نہ ہی اس کے انتقال کے بعد چھوٹے بیٹے قاسم سے جائز ہے، کیونکہ دونوں زینب کے رضاعی بھائی ہیں ، جس طرح نسبی بھائی سے نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی بھائی سے بھی نکاح جائز نہیں  ۔
الفتاوى العالمكيرية:
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع .
(كتاب الرضاع،(1/ 343) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب