سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-425 Fatwa no: 1447-425

رضاعی پھوپھی کی بہن(ماموں زاد بہن) سے نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ خالد کی ایک بیٹی نے اپنی دادی (یعنی خالد کی والدہ) کا دودھ پیا ہے، اس وجہ سے وہ خالد کی رضاعی بہن بن گئی، اور خالد کی ایک حقیقی بہن کا بیٹا طیب ہے،یوں وہ بچی طیب کی رضاعی پھوپھی بن گئی، اس لیے ان دونوں کا نکاح شرعاً ناجائز ہے،اب سوال یہ ہے کہ خالد کی دوسری بیٹی (جس نے دادی کا دودھ نہیں پیا) کیا اس کا نکاح طیب سے شرعاً درست ہے یا نہیں؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں ، جزاکم اللہ خیرا
جواب :

صورتِ مسئولہ میں خالد کی جس بیٹی نے اپنی دادی (یعنی خالد کی والدہ) کا دودھ نہیں پیا، اس کا نکاح طیب سے شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حرمتِ نکاح کی کوئی اور مانع نہ ہو؛کیونکہ رضاعی رشتہ صرف اس بیٹی کے ساتھ قائم ہوا ہے جس نے دادی کا دودھ پیا، دوسری بیٹی اس رضاعی تعلق سے خارج ہےاور چونکہ وہ طیب کی ماموں زاد بہن ہے، اس لیے اس سے نکاح کرنے میں  شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔
الفقه على المذاهب الأربعة:
وكذلك لأخ الرضيع أن يتزوج أخت أخيه من الرضاع، كما لغيره من حواشيه، وذلك لأن الحرمة ‌بالنسبة ‌للرضيع لا تسري إلا على فروعه فقط.
(‌‌مبحث من يحرم بالرضاع ومن لا يحرم (4/ 235) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب