سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-426 Fatwa no: 1447-426

رضاعی دادا كی اولاد سے نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے اپنے سگے بھائی کی بیوی (یعنی بھابھی) کا دودھ بچپن میں پیا ہے، بعد میں اس بھائی نے دوسری شادی کی، اور اس دوسری بیوی سے اس کے ہاں اولاد ہوئی، اب سوال یہ ہے کہ کیا زید کی اولاد اور اُس بھائی کی دوسری بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد کے درمیان نکاح شرعاً جائز ہے یا نہیں؟برائے کرم قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں زید کی اولاد کے لیے، زید کے رضاعی باپ (یعنی زید کے حقیقی بھائی) کی دوسری بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد کے ساتھ نکاح شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ وہ ان کے رضاعی دادا کی اولاد  ہیں، جس طرح نسبی دادا کی بلاواسطہ  اولاد( بیٹوں اور بیٹیوں )  سے نکاح  کرنا جائز نہیں ہے ، اسی طرح رضاعی دادا  کی بلا واسطہ اولاد( بیٹوں اور بیٹیوں )   سے بھی نکاح کرنا جائز نہیں ۔ 
الفقه على المذاهب الأربعة(4/ 235):
هذا إذا رضع الطفل، أما إذا رضع أبوه، أو جده أو جدته أم أبيه، أو رضعت أمه، أو جدته لأمه من امرأة كانت المرضعة في الحالة الأولى جدة له من جهة الأب فأبناؤها وبناتها أعمام له أو عمات، وفي الحالة الثانية كانت المرضعة جدة له من جهة الأم فأبناؤها وبناتها أخوال له وخالات. فيجري التحريم على هذا الوجه.
فتح القدير للكمال بن الهمام  (3/ 448):
(قوله ولبن الفحل)...(يتعلق به التحريم) يعني اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد يتعلق به التحريم بين من أرضعته وبين ذلك الرجل بأن يكون أبا للرضيع، فلا تحل له إن كانت صبية؛ لأنه أبوها ولا لإخوته؛لأنهم أعمامها ولا لآبائه؛ لأنهم أجدادها ولا لأعمامه؛ لأنهم أعمام الأب ولا لأولاده وإن كانوا من غير المرضعة؛ لأنهم إخوتها لأبيهاولا لأبناء أولاده؛لأن الصبية عمتهم،وإذا ثبتت هذه الحرمة من زوج المرضعة فمنها أولى.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب