نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں زید کی اولاد کے لیے، زید کے رضاعی باپ (یعنی زید کے حقیقی بھائی) کی دوسری بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد کے ساتھ نکاح شرعاً جائز نہیں؛ کیونکہ وہ ان کے رضاعی دادا کی اولاد ہیں، جس طرح نسبی دادا کی بلاواسطہ اولاد( بیٹوں اور بیٹیوں ) سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے ، اسی طرح رضاعی دادا کی بلا واسطہ اولاد( بیٹوں اور بیٹیوں ) سے بھی نکاح کرنا جائز نہیں ۔
الفقه على المذاهب الأربعة(4/ 235):
هذا إذا رضع الطفل، أما إذا رضع أبوه، أو جده أو جدته أم أبيه، أو رضعت أمه، أو جدته لأمه من امرأة كانت المرضعة في الحالة الأولى جدة له من جهة الأب فأبناؤها وبناتها أعمام له أو عمات، وفي الحالة الثانية كانت المرضعة جدة له من جهة الأم فأبناؤها وبناتها أخوال له وخالات. فيجري التحريم على هذا الوجه.
فتح القدير للكمال بن الهمام (3/ 448):
(قوله ولبن الفحل)...(يتعلق به التحريم) يعني اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد يتعلق به التحريم بين من أرضعته وبين ذلك الرجل بأن يكون أبا للرضيع، فلا تحل له إن كانت صبية؛ لأنه أبوها ولا لإخوته؛لأنهم أعمامها ولا لآبائه؛ لأنهم أجدادها ولا لأعمامه؛ لأنهم أعمام الأب ولا لأولاده وإن كانوا من غير المرضعة؛ لأنهم إخوتها لأبيهاولا لأبناء أولاده؛لأن الصبية عمتهم،وإذا ثبتت هذه الحرمة من زوج المرضعة فمنها أولى.
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔