نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں(1)۔۔۔۔ چونکہ چاندی کی قیمت روزانہ بدلتی رہتی ہے اور مختلف علاقوں میں نرخ بھی مختلف ہوتے ہیں، نیز ہر علاقے میں وہی نرخ معتبر سمجھے جاتے ہیں جو مقامی مارکیٹ میں رائج ہوں، اس لیے رقم کی صورت میں کسی ایک متعین مقدار کا بیان کرنا ممکن نہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ زکوٰۃ یا صدقۂ فطر ادا کرتے وقت اپنے علاقے کی مارکیٹ کے مطابق چاندی کی موجودہ قیمت خود معلوم کرکے ادائیگی کی جائے۔
البتہ یکم رمضان المبارک (زکوٰۃ کٹوتی کے دن )کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی جو قیمت مقرر کی گئی تھی اس کے مطابق ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت پانچ لاکھ تین ہزار پانچ سو انتیس (503,529) روپے بنتی ہے۔
(2)۔۔۔۔واضح رہے کہ زکوۃ اور صدقۃ الفطر کے وجوب کا نصاب ایک نہیں ہے بلکہ ان دونوں میں فرق ہے وہ یہ کہ زکوۃ کے وجوب کے لئے مالِ نامی(سونا ،چاندی ،نقدی یا مالِ تجارت ہونا) اور حولانِ حول (سال بھر گذرنا)شرط ہے، جبکہ صدقۃ الفطر کے وجوب کے لیے مالِ نامی ہونا اور حولانِ حول شرط نہیں ہے، بلکہ اگر کسی شخص کے پاس عیدالفطر کے دن سونا، چاندی، نقدی یا مالِ تجارت میں سے کوئی ایک چیز، یا ان میں سے بعض کو ملا کر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر مال موجود ہو تو اس پر صدقۃ الفطر واجب ہوگا،نیز اگر مذکورہ اموال (سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت) تنہا نصاب تک نہ پہنچتے ہوں، لیکن ان کے ساتھ ضرورت سے زائد سامان بھی موجود ہو اور تمام اشیاء کی مجموعی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر ہو جائے تو اس صورت میں بھی صدقۃ الفطر واجب ہوگایعنی صدقۃ الفطر کے وجوب میں ضرورت سے زائد سامان کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔
(3)۔۔۔ واضح رہے کہ صدقۃ الفطر کے وجوب کا جو نصاب ہے، وہی نصاب زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر لینے کی حرمت کا بھی معیار ہے۔ لہٰذا زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر ایسے شخص کو دینا جائز نہیں جو سید ہو، یا اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ مالیت کے برابر رقم، سونا، مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو۔
اسی طرح اگر کسی شخص کی ملکیت میں کچھ سونا، کچھ چاندی، کچھ نقد رقم، کچھ مالِ تجارت اور کچھ ضرورت سے زائد اشیاء ہوں اور ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو جائے تو وہ بھی زکوٰۃ اور صدقۃ الفطر لینے کا مستحق نہیں ہوگا۔
البتہ جس شخص کے پاس مذکورہ نصاب سے کم مالیت ہو، اس کے لیے زکوٰۃ یا صدقۃ الفطر لینا جائز ہے۔
خلاصہ یہ کہ زکوٰۃ یا صدقۃ الفطر کا حقدار وہ شخص ہے جو نہ سید ہو اور نہ ہی نصابِ مذکور کے بقدر مال کا مالک ہو، اگرچہ یہ نصاب ضرورت سے زائد اشیاء کو ملا کر ہی کیوں نہ پورا ہو رہا ہو۔
حاشية ابن عابدين :
(قوله وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء. اهـ.
وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها (قوله: ويقوم في البلد الذي المال فيه) فلو بعث عبدا للتجارة في بلد آخر يقوم في البلد الذي فيه العبد بحر
(باب زكاة الغنم(2/ 286) دار الفكر - بيروت)
الفتاوى العالمكيرية:
ويقومها المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو بعث عبدا للتجارة إلى بلد آخر فحال الحول تعتبر قيمته في ذلك البلد، ولو كان في مفازة تعتبر قيمته في أقرب الأمصار إلى ذلك الموضع كذا في فتح القدير ناقلا عن الفتاوى»..........................لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي.
( مسائل شتى في الزكاة (1/ 180)تا السابع في المصارف (1/ 189) دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔