سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-429 Fatwa no: 1447-429

زمین کرایہ پر دیتے وقت بھنگ کی کاشت سے لاعلمی کی صورت میں کرایہ لینے كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی زمین ایک سال کے لیے تین لاکھ روپے کرایہ پر دی، بعد میں معلوم ہوا کہ کرایہ دار نے اس زمین میں بھنگ کاشت کی،اب درج ذیل امور کی شرعی حیثیت دریافت طلب ہےکہ کیا مالکِ زمین کے لیے یہ تین لاکھ روپے کرایہ لینا جائز ہے؟ اگر یہ رقم لینا جائز ہو، تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا عُشر ادا کرنا ہوگا؟برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر زمین کرایہ پر دیتے وقت مالکِ زمین کو یہ علم نہ ہو کہ کرایہ دار اس میں بھنگ کاشت کرے گا، تو زمین کا کرایہ لینا شرعاً جائز ہےاور چونکہ یہ رقم زمین کے کرایہ کے بدلے میں حاصل ہوئی ہے، اس لیے مذکورہ کرایہ کی رقم پر عشر لازم نہیں ہوگا ،البتہ اگر وہ رقم نصاب کے بقدر ہو (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو) یا اس  کو دوسرے  قابل زکوۃ اموال کے ساتھ ملانے سے نصاب پورا ہو رہا ہو  اور  زكوة كی سالانہ تاریخ آنے پر وہ رقم موجود ہو تو مذکورہ کرایہ کی رقم پر   زکوٰۃ واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔
الأشباه والنظائر - ابن نجيم:
وذكر قاضي خان في فتاواهإن بيع العصير ‌ممن ‌يتخذه ‌خمرا إن قصد به التجارة فلا يحرم وإن قصد به لأجل التخمير حرم وكذا غرس الكرم على هذا (انتهى) وعلى هذا عصير العنب بقصد الخلية أو الخمرية
(‌‌القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها (ص23)ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب