سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-430 Fatwa no: 1447-430

سیلاب میں وفات پانے والے کے ورثاء کو ملنے والی رقم سے مرحوم کی طرف سے نفلی حج کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص سیلاب میں فوت ہوا، ورثاء کو مختلف مرحلوں میں 28 لاکھ روپے بطور معاوضہ ملے، ان میں سے بیٹیوں کو کوئی حصہ نہیں دیا گیا، ایک بھائی 10 لاکھ روپے رکھ کر کہتا ہے: "میں والد کی طرف سے حج کروں گا"، جبکہ والدہ اور نابالغ بچے بھی راضی ہیں۔ 1. کیا بیٹیوں کو حصہ نہ دینا جائز ہے؟ 2. کیا معاوضے کی رقم سے والد کی طرف سے حج بدل کرنا درست ہے، جبکہ اس پر حج فرض نہیں تھا؟ 3. اگر سب راضی ہوں تو کیا تب بھی اس رقم سے حج جائز ہوگا؟برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

سوال میں ذکر کردہ  ورثاء کو ملنے والی رقم کی حیثیت ہبہ (گفٹ ) کی ہے ، اور ہبہ کا اصول یہ ہے کہ واہب (دینے والا) جس کو نامزد کرکے دے، وہی اس کا مالک شمار ہوتا ہے، چونکہ یہ رقم ورثاء کے نام دی گئی ہے، لہٰذا بیٹیوں سمیت تمام ورثاء اس میں شریک ہوں گے، بیٹیوں کو محروم کرنا شرعاً جائز نہیں ، جہاں تک اس رقم سے والد مرحوم کی طرف سے حج کرانے کا تعلق ہے، تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ چونکہ والد صاحب پر حج فرض نہیں تھا، اس لیے ان کی طرف سے حجِ بدل کرانا ورثاء پر شرعاً لازم نہیں ، البتہ اگر بالغ ورثاء اپنی خوش دلی سے اپنے حصے سے حج کرانا چاہیں، تو یہ نفلی حجِ بدل شمار ہوگا، جو جائز ہے ، لیکن چونکہ ورثاء میں نابالغ بچے بھی شامل ہیں، اور شرعاً نابالغ کی اجازت معتبر نہیں، اس لیے بھائی پر لازم ہے کہ نابالغ بچوں کے حصے کی رقم الگ رکھے،اس کے بعداگر باقی بالغ ورثاء خوش دلی(یعنی لوگوں کی طعن سے بچنے کے لئے نہ ہو) سے اپنے حصے کی رقم سے والد مرحوم کی طرف سے حج کی اجازت دے دیں، تو اس رقم سے والد کی طرف سے نفلی حج کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
‌حكم ‌الهبة...أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض.
(فصل في حكم الهبة (6/ 127) دار الكتب العلمية)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  :
‌‌(باب ‌الحج ‌عن ‌الغير) الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة صلاة كان أو صوما أو حجا أو صدقة أو قراءة قرآن أو الأذكار إلى غير ذلك من جميع أنواع البر، ويصل ذلك إلى الميت وينفعه، وقالت المعتزلة: ليس له ذلك.
(باب ‌الحج ‌عن ‌الغير ،(2/ 83) دار الكتاب الإسلامي)
تكملة فتح القدير نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار:
(قوله: ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل إلخ) أقول: ينتقض هذا بما ذكره المصنف في باب الحج عن الغير من كتاب الحج حيث قال: ثم ظاهر المذهب أن الحج يقع عن المحجوج عنه، وبذلك تشهد الأخبار الواردة في الباب كحديث الخثعمية فإنه عليه الصلاة والسلام قال فيه «حجي عن أبيك واعتمري» فإن ذلك صريح في ‌وقوع ‌القربة ‌عن ‌غير ‌العامل. 
(‌‌‌‌باب الأجر متى يستحق(9/ 98) دار الفكر - بيروت)
حاشية ابن عابدين:
ولا إشكال في ذلك إذا كان متنفلا عنهما، فإن كان على أحدهما حج الفرض وأوصى به لا يسقط عنه بتبرع الوارث عنه بمال نفسه، ‌وإن ‌لم ‌يوص ‌به ‌فتبرع ‌الوارث عنه بالإحجاج أو الحج بنفسه، قال أبو حنيفة يجزيه إن شاء الله تعالى «لقوله صلى الله عليه وسلم للخثعمية أرأيت لو كان على أبيك دين» الحديث انتهى.
( مطلب في الفرق بين العبادة والقربة والطاعة (2/ 608) دار الفكر - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب