نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںشادی کے موقع پر شوہر کی جانب سے بیوی کو دیے گئے زیورات اگرمہر کا حصہ ہوں، یا بطور ہبہ (تحفہ) مالک بنا کر دینے کی واضح صراحت کے ساتھ دیے گئے ہوں، یا اگرچہ صراحت نہ کی گئی ہو، لیکن متعلقہ خاندان یا علاقے کے عرف و رواج میں زیورات کو مالک بنا کر دینے کا معمول ہو، تو ان تمام صورتوں میں یہ زیورات بیوی کی ملکیت شمار ہوں گےاور شوہر کے لئے ان کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر یہ زیورات نہ مہر کا حصہ ہوں اور نہ ہی بطور ہبہ مالک بنا کر دیے گئے ہوں، بلکہ صرف استعمال کے لیے عاریت کے طور پر دیے گئے ہوں اور دیتے وقت اس کی صراحت کی گئی ہو، یا صراحت تو نہ کی گئی ہو لیکن متعلقہ خاندان میں زیورات صرف استعمال کے لیے دیے جانے کا رواج ہوتو ایسی صورت میں یہ زیورات بدستور شوہر کی ملکیت میں رہیں گے اور اس کے لئے واپسی کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔
جہاں تک بیوی کی طرف سے ساس کو دیے گئے زیورات کا تعلق ہےتو اگریہ زیورات صرف وقتی استعمال یعنی عاریت کے طور پر دیے گئے تھے، تو وہ بدستور بیوی کی ملکیت ہیں، اور وہ جب چاہے ان کی واپسی کا مطالبہ کر سکتی ہے،لیکن اگر یہ زیورات بطورِ ہبہ (گفٹ) دیے گئے تھے، تو چونکہ ساس بیوی کی ذی رحم محرم نہیں ہے، اس لیے شرعاً بیوی کو ان زیورات سے رجوع (واپس لینے) کا حق حاصل ہے،اگرچہ اس طرح کے ہبہ سے رجوع کرنا مکروہ (ناپسندیدہ) ہے، لیکن شرعاً رجوع ہو جاتا ہے، بشرطیکہ ساس اس پر رضامند ہو،اگر ساس رضامند نہ ہو، تو بیوی کو شرعی عدالت (قاضی) کے ذریعے بھی وہ زیورات واپس لینے کا حق حاصل ہے۔
الفتاوى العالمكيرية :
لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى
ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده؛ لأنه رشوة، كذا في البحر الرائق وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية.
(الفصل السادس عشر في جهاز البنت (1/ 327)دار الفكر بيروت)
معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام:
قال في الذخيرة: زوج بنته وجهزها فماتت فزعم أبوها أن الجهاز أعاره منها ولم يهبه فالقول للزوج وعلى الأب بينة؛ إذ الظاهر أنه إذا جهز بنته يدفع بطريق التمليك، والبينة الصحيحة فيه أن يشهد عند التسليم إلى بنته إني أعطيت هذه الأشياء بنتي عارية، أو يكتب نسخة معلومة وتشهد البينة على إقرارها أن جميع ما في هذه النسخة ملك والدي عارية منه في يدي، لكن هذا يصلح للقضاء لا للاحتياط لجواز أنه شراها لها في صغرها، فبهذا الإقرار لا يصير للأب ديانة، والاحتياط أن يشتري ما في هذه النسخة ثم تبرئه بنته عن الثمن. وعن السعدي أن القول للأب؛ إذ اليد استفيدت من قبله فهو أعرف؛ ولأن العارية تبرع والهبة تبرع، والعارية أدناهما فحمل على الأدنى، قال الصدر الشهيد: والفتوى أنه لو كان العرف مستمرا أن الأب يدفع ذلك جهازا لا عارية كما في ديارنا فالقول للزوج، ولو كان العرف مشتركا فالقول للأب. قال في الملتقط: القول للزوج مع يمينه على علمه................................. (فرع) : بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج، فلما زفت إليه أراد أن يأخذ منها الديباج ليس له ذلك لو بعث إليها على وجه التمليك من الفتاوى الرشيدية.
(فصل في دعوى الجهاز،(ص151) دار الفكر)
الفتاوى العالمكيرية:
في الفتاوى الغياثية الرجوع في الهبة مكروه في الأحوال كلها ويصح، كذا في التتارخانية. يجب أن يعلم بأن الهبة أنواع، هبة لذي رحم محرم وهبة لأجنبي أو لذي رحم ليس بمحرم أو لمحرم ليس بذي رحم وفي جميع ذلك للواهب حق الرجوع قبل التسليم هكذا في الذخيرة، سواء كان حاضرا أو غائبا أذن له في قبضه أو لم يأذن له، كذا في المبسوط
ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم ينفرد الواهب بذلك هكذا في الذخيرة. وللواهب أن يرجع في بعض الهبة إن شاء، كذا في الظهيرية .
(الباب الخامس في الرجوع في الهبة ،(4/ 385) دار الفكر بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔