سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-39 Fatwa no: 1447-39

اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے کے بدلے حاصل ہونے والے فری منٹس کے استعمال کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک مدرسہ کے طالبعلم نے اپنی ضرورت کی خاطر موبائل اکاؤنٹ بنایااور اپنے اکاؤنٹ میں حفاظت اور ضرورت کے لئے کچھ رقم رکھی،کمپنی والے اکاؤنٹ میں رقم رکھنے کے بدلے میں اسے کچھ فری منٹ دیتی ہے ،تو پوچھنا یہ ہے کہ ان فری منٹ کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

صورت مسئولہ  میں اکاؤنٹ کے اندر رکھی ہوئی رقم کی شرعی حیثیت قرض کی ہے اور کمپنی والے اس کے بدلہ میں جو فری منٹ دیتے ہیں تو گویا کہ یہ قرض پر نفع دینا ہے ،جو کہ سودکے زمرہ میں آتا ہے،اس لئے اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے کی صورت میں کمپنی کی طرف سے جو فری منٹ ملتے ہیں اس کا استعمال کرنا شرعا جائز نہیں ۔
كما في قوله تعالى:
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ.
(سورة بقرة،آيت276،275)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
وَفِي الْخُلَاصَةِ الْقَرْضُ بِالشَّرْطِ حَرَامٌ وَالشَّرْطُ لَغْوٌ بِأَنْ يُقْرِضَ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ بِهِ إلَى بَلَدِ كَذَا لِيُوَفِّيَ دَيْنَهُ.وَفِي الْأَشْبَاهِ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ فَكُرِهَ لِلْمُرْتَهِنِ سُكْنَى الْمَرْهُونَةِ بِإِذْنِ الرَّاهِنِ.
(مَطْلَبٌ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ،ج5،ص166،ط:دارالفكر)
وفى الفقه الإسلامي وأدلته:
أما القول بأن «كل قرض جر نفعاً» ليس حديثاً فهو صحيح، ولكن ذلك ثبت عن جماعة من الصحابة أنهم نهوا عن قرض جر نفعاً، ونهيهم مستمد من السنة النبوية وهو أن النبي صلّى الله عليه وسلم «نهى عن سلف وبيع» والسلف هو القرض في لغة الحجاز، مثل أن يقرض شخص غيره ألف درهم على أن يبيعه داره أو على أن يرد عليه أجود منه أو أكثر، والزيادة حرام كما تقدم إذا كانت مشروطة أو متعارفاً عليها في القرض، فإن لم تكن مشروطة ولا متعارفاً عليها فلا بأس بها، ويمكن فهم قاعدة «كل قرض جر نفعاً فهو ربا» على أنه في القرض الذي شرط فيه النفع أو جرى عليه العرف، كما قرر الكرخي وغيره.
(ربا المصارف أو فوائد البنوك،ج5،ص3746،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 12 May 2026

واللہ اعلم بالصواب