سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-432 Fatwa no: 1447-432

شراب فروشی کے لیے ہوٹل میں بلا معاوضہ جگہ فراہم کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
محترم مفتی صاحب! ایک مسلمان شخص بیرونِ ملک میں ایک ہوٹل کھولنا چاہتا ہے، لیکن وہاں کے ماحول کے مطابق اگر ہوٹل میں شراب نہ ملے تو گاہک (خصوصاً غیر مسلم یا شراب نوش افراد) آتے نہیں، جس سے کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے وہ شخص خود شراب بیچنے کے بجائے کسی غیر مسلم یا دوسرے فرد کو ہوٹل کے ایک حصے میں مفت جگہ مہیا کرنا چاہتا ہے، تاکہ وہ اپنی مرضی سے وہاں شراب فروشی کرے۔ مسلمان مالک کا اس میں کوئی براہِ راست مالی لین دین یا نفع نہ ہوگا، صرف یہ مقصد ہے کہ شراب نوش بھی آئیں اور باقی کاروبار چلے، تو کیا اس طرح کسی کو مفت جگہ دینا، تاکہ وہ شراب بیچے، شرعاً جائز ہے؟ اور کیا ایسا کرنا "تعاون علی الإثم" میں داخل ہوگا یا نہیں؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ اپنے ہوٹل میں کسی کو شراب فروخت کرنے کے لیےمفت میں  جگہ مہیا کرنا،(اگرچہ مالک کا اس میں کوئی براہِ راست مالی لین دین یا نفع نہ ہو) شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ "تعاون علی المعصیت" (گناہ پر مدد) ہے، جو کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ناجائز ہے، حضرت اقدس، فقیہ النفس، مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب ؒ نے فتاویٰ رشیدیہ میں نشہ آور چیزوں کی فروخت کے لیے کسی کو مکان یا دکان کرایہ پر دینے کو تعاون علی الإثم کی وجہ سے ناجائز قرار دیا ہے، سوال و جواب ملاحظہ ہوں:
”سوال : نشہ فروخت کو واسطے فروخت مسکرات کے مکان یا دوکان کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں اور اس میں حنفیہ کا اصح مذہب کیا ہے؟ 
جواب : اصح اور فتویٰ اس پرہے کہ نہ دیوے۔ فقط “(فتاوی رشیدیہ ص 513: )
نیز اس میں شراب کے کاروبار کرنے والے کی بالواسطہ حوصلہ افزائی بھی پائی جاتی ہے، حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ نے فقہ البیوع(۲/1۰۵4) میں لکھا ہے کہ:  
"جس ہوٹل یا دکان میں شراب یا دیگر  حرام اشیاء فروخت کی جاتی ہوں اگر ممکن ہو تو وہاں سے جائز اشیاء بھی نہ خریدی جائیں، تاکہ حرام فروخت کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہو اور اس سے نفرت کا اظہار ہو سکے"، لہذا شراب فروشی کے لیے ہوٹل میں جگہ فراہم    کرنے سےاجتناب لازم ہے ،اور  لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے شرعی و اخلاقی طریقے اختیار کیے جائیں، مثلاً:  کھانے کے معیار کو عمدہ بنائیں، خدمت میں خوش اخلاقی اپنائیں اور ماحول کو صاف و پرکشش رکھیں تاکہ لوگ خود بخود آپ کی طرف متوجہ ہوں۔ 
فقه البیوع علی المذاهب الاربعة:
٥١١ - حكم الفنادق والمطاعم التي تباع فيها الخمور: أما الفنادق والمطاعم والخطوط الجوية التي تباع فيها الخمور والأشياء المحرمة، فالأحسن لمسلم متدين أن يجتنب عن التعامل معها مهما وجد لذلك سبيلا، وذلك لئلا يكون منه تشجيع لمن يتعاطون المحرمات، وليظهر نفرته من ذلك ۔
(فقه البیوع علی المذاهب الاربعة (۲/1۰۵4) مكتبة معارف القرأن)

درر الحكام شرح غرر الأحكام:
 (إجارة بيت بالأمصار وبقرانا ليتخذ بيت نار) للمجوس (أو كنيسة أو بيعة) لليهود والنصارى (أو ‌يباع ‌فيه ‌الخمر) ، وإنما قال بقرانا، إذ قد نقل عن أبي حنيفة أنه جوز ما ذكر في السواد لكن قالوا مراده سواد الكوفة؛ لأن غالب أهلها أهل الذمة، وأما في سواد بلادنا فأعلام الإسلام فيها ظاهرة فلا يمكنون فيها أيضا وهو الصحيح كذا في الكافي.
 (‌‌کتاب الكراهية ،حمل خمر ذمي بأجر (1/ 320) دار إحياء الكتب العربية)
البناية شرح الهداية (12/ 220):
 (ومن أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار) ش: للمجوس م: (أو كنيسة) ش: للنصارى م: (أو بيعة) ش: لليهود م: (أو يباع فيه الخمر) ش: لأهل الذمة أو الفسقة من المسلمين م: (بالسواد) ش: يتعلق بالجميع تقديره: من أجر بيتا في السواد ليتخذ فيه بيت نار وكذلك البواقي، وإنما قيد بالسواد لأن أهل الذمة يمنعون عن إحداث البيع، والكنائس وبيع الخمر في الأمصار ولا يمنعون عن ذلك في السواد لأن عامة شعائر الإسلام من الجمع والجماعات والأعياد وإقامة الحدود وغير ذلك يختص بالأمصار، ففي هذه الأشياء استحقاق بالمسلمين بخلاف السواد.
وقالوا أيضا في سواد الكوفة، لأن الغالب فيها أهل الذمة والروافض، أما في سوادنا فيمتنعون عن إحداث ذلك، لأن الغلبة في سوادنا لأهل الإسلام فيمنعون عن ذلك في السواد والأمصار جميعا.
 (وقالا: لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك) ش: أي يؤجره، يقال: أكراني داره أو دابته، أي أجرنيها، والمعنى: أنه لا يجوز أن يكري بيته بشيء من الذي ذكرناه، وبه قالت الثلاثة رحمهم الله م: (لأنه إعانة على المعصية) ش: والمعين على المعصية عاص. 
(كتاب الكراهية، أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار (3/ 310)، دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب