سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-434 Fatwa no: 1447-434

صاحبِ ترتیب پہلے قضا پڑھے گا، پھر جمعہ میں شریک ہوگا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص صاحب ترتیب ہو اور اس کی نماز فجر جمعہ کے دن قضا ہو جائے، پھر خطبہ جمعہ کے دوران اسے یاد آئے تو کیا وہ نماز جمعہ کے بعد قضا کرے یا خطبہ کے دوران؟ اگر کسی نے خطبہ کے دوران نماز فجر قضا پڑھ لی تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب :

اگر گر کوئی شخص صاحبِ ترتیب ہو (یعنی بلوغ کے بعد سے اس کے ذمے چھ یا اس سے زیادہ فرض نمازیں قضا نہ ہوں) اور جمعہ کے دن فجر کی نماز قضا ہوگئی ہو، پھر اسے دورانِ خطبہ یا نمازِ جمعہ کے دوران یاد آئے، تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر فجر کی قضا میں مشغول ہونے کی صورت میں نہ جمعہ کا وقت نکلنے کا اندیشہ ہو، نہ جماعت کے فوت ہونے کا خطرہ ہو، تو وہ پہلے فجر کی قضا ادا کرے گا، پھر جمعہ میں شریک ہوگااور اگر فجر کی قضا ادا کرنے کی صورت میں جمعہ کی جماعت تو فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، لیکن ظہر کا وقت باقی ہو تو امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک اس صورت میں  بھی فجر کی قضا لازم ہے، جمعہ کی جماعت رہ جائے تو بعد میں ظہر ادا کرے گا (یہی راجح ہے)   جبکہ امام محمدؒ کے نزدیک اگر جماعت کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو اگر چہ بعد میں وقت باقی ہو تب بھی ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا ان کے نزدیک جمعہ مکمل کرےگا اور قضاء بعد میں پڑھے گا اوراگر فجر کی قضا  میں مشغول ہونے کی صورت میں جمعہ اور ظہر دونوں کے  فوت ہونے کا اندیشہ ہو، تو بالاتفاق  ترتیب ساقط ہو جائے گی اور  اس صورت میں  پہلے جمعہ پڑھے گا اس کے بعد کسی وقت  فجر کی قضاء کرے گا ،لہذا مسئولہ صورت میں دوران خطبہ یاد آنے کی صورت میں پہلے فجر کی قضا  نماز ادا کرے گا اس بعد جمعہ میں شریک ہوگا ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وعلى هذا إذا شرع الرجل في صلاة الجمعة ثم تذكر ‌أن ‌عليه ‌الفجر فهذا على ثلاثة أوجه: إن كان بحال لو اشتغل بالفجر لا تفوته الجمعة فعليه أن يقطع الجمعة ويبدأ بالفجر ثم بالجمعة مراعاة للترتيب فإنه واجب عندنا، وإن كان بحال لو اشتغل بالفجر تفوته الجمعة والظهر عن الوقت يمضي فيها ولا يقطع بالإجماع؛ لأن الترتيب ساقط عنه لضيق الوقت، وإن كان بحال لو اشتغل بالفجر تفوته الجمعة ولكن لا يفوته الظهر فعلى قول أبي حنيفة وأبي يوسف يصلي الفجر ثم يصلي الظهر ولا تجزئه الجمعة، وعلى قول محمد يمضي في الجمعة ولا يقطع؛ لأن عنده فرض الوقت هو الجمعة وهو يخاف فوتها لو اشتغل بالفجر فيسقط عنه الترتيب، كما لو تذكر العشاء في صلاة الفجر وهو يخالف طلوع الشمس لو اشتغل بالعشاء، وعندهما فرض الوقت هو الظهر وأنه لا يفوت بالاشتغال بالفائتة فلا يسقط الترتيب والله أعلم.».
 (فصل بيان شرائط الجمعة (1/ 258) دار الكتب العلمية)
الفتاوى العالمكيرية:
ولو أن مصلي الجمعة تذكر ‌أن ‌عليه ‌الفجر فإن كان بحيث لو قطعها واشتغل بالفجر تفوته الجمعة ولا يفوته الوقت فعند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - يقطع الجمعة ويصلي الفجر ثم يصلي الظهر وعند محمد - رحمه الله تعالى - يتم الجمعة ولو كان بحيث إنه إذا قضى الفجر أدرك الجمعة مع الإمام فإنه يشتغل بالفجر إجماعا وإن كان بحيث إذا قطع الجمعة واشتغل بالفجر يفوته الوقت أتم الجمعة إجماعا ثم يصلي الفجر بعدها، كذا في السراج الوهاج.».
وفيه ايضا (1/ 148):
ولو ذكر في الجمعة ‌أن ‌عليه ‌الفجر فإن كان لا يخاف فوت الجمعة يقطعها ويبدأ بالفجر ولو فات الوقت يتم الجمعة لسقوط الترتيب بضيق الوقت أما لو خاف فوت الجمعة لا الوقت فعندهما يبدأ بالفجر وعند محمد يتم الجمعة، كذا في معراج الدراية.
(الباب السادس عشر في صلاة الجمعة (1/ 122) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب