سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-435 Fatwa no: 1447-435

صفائی کے لیے خواتین عملہ کی فراہمی کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں دبئی میں صفائی کے شعبے سے وابستہ ہوں، جہاں مختلف گھروں، دفاتر اور گوداموں میں صفائی کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں، ہم مؤکلین کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کے تحت عملہ (مرد و خواتین) فراہم کرتے ہیں، یہ عملہ گھنٹوں کی بنیاد پر مقررہ مقامات پر صفائی کے لیے جاتا ہے،یہ کاروبار بنیادی طور پر حلال اور جائز خدمت کے دائرے میں آتا ہے، لیکن ایک شرعی پہلو کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے،بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب خواتین اسٹاف کسی کے گھر یا آفس میں جاتی ہیں تو وہاں موجود بعض لوگ غیر اخلاقی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ان سے نازیبا حرکات کرتے ہیں یا ان پر جسمانی تعلق کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں بعض عملہ اس طرح کی باتوں کو مسترد کر دیتا ہے، جبکہ بعض اس میں شامل ہو جاتے ہیں ،یہ واقعات معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں، یعنی ہر مہینے یا چند ماہ بعد ایک آدھ بار ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، مگر بہرحال یہ کاروبار کے دوران پیش آ جاتے ہیں،سوال یہ ہے کہ اگر اس قسم کے واقعات پیش آئیں، لیکن ہمارا مقصد صرف صفائی کی جائز سروس مہیا کرنا ہو، اور ہم ان غیر اخلاقی عملوں کی حمایت یا اجازت نہ دیتے ہوں، تو کیا ایسا کاروبار شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟میں اس بارے میں اسلامی نقطہ نظر اور شرعی رہنمائی چاہتا ہوں تاکہ اگر کسی پہلو میں اصلاح کی ضرورت ہو تو اسے شرع کے مطابق درست کیا جا سکے ،اللہ تعالیٰ ہمیں حلال روزی اور پاکیزہ کاروبار کی توفیق عطا فرمائے ،جزاکم اللہ خیراً
جواب :

واضح رہے کہ صفائی کے لیے عملہ فراہم کرنا فی نفسہٖ جائز اور مباح کام ہے، لیکن اگر کسی گھر یا دفتر میں خواتین کو بھیجتے وقت یقین یا غالب گمان ہو کہ وہاں ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا جاتا ہے، تو ایسی جگہ خواتین کو بھیجنا ''تعاون علی الإثم' 'کی وجہ سے ناجائز ہوگا ،البتہ اگر وہاں کے حالات معلوم نہ ہوں اور بظاہر کسی فحاشی یا بدعملی کا اندیشہ نہ ہو، تو ایسی جگہ صفائی کے لیے خواتین بھیجنا اور اس پر اجرت لینا جائز ہے، بعد میں اگر کوئی نامناسب صورتِ حال پیش آ بھی جائے، تو بھی بھیجنے والے پر شرعاً کوئی گرفت نہیں ہوگی ۔ 
الدر المختار مع رد المحتار:
جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) .... (بخلاف بيع أمرد ممن يلوط به وبيع سلاح من أهل الفتنة) لأن المعصية تقوم بعينه ثم الكراهة في مسألة الأمرد مصرح بها في بيوع الخانية وغيرها واعتمده المصنف على خلاف ما في الزيلعي والعيني وإن أقره المصنف في باب البغاة. قلت: وقدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها. فليحفظ توفيقا.
 (قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني (قوله لا تقوم بعينه إلخ) يؤخذ منه أن المراد بما لا تقوم المعصية بعينه ما يحدث له بعد البيع وصف آخر يكون فيه قيام المعصية وأن ما تقوم المعصية بعينه ما توجد فيه على وصفه الموجود حالة البيع كالأمرد والسلاح ويأتي تمام الكلام عليه ..... (قوله على خلاف ما في الزيلعي والعيني) ومثله في النهاية والكفاية عن إجارات الإمام السرخسي (قوله معزيا للنهر) قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع ‌الجارية ‌المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب ممن يتخذ منه المعازف، وأما في بيوع الخانية من أنه يكره بيع الأمرد من فاسق يعلم أنه يعصي به مشكل.
والذي جزم به الزيلعي في الحظر والإباحة أنه لا يكره بيع جارية ممن يأتيها في دبرها أو بيع غلام من لوطي، وهو الموافق لما مر وعندي أن ما في الخانية محمول على كراهة التنزيه، وهو الذي تطمئن إليه النفوس إذ لا يشكل أنه وإن لم يكن معينا أنه متسبب في الإعانة ولم أر من تعرض لهذا.
وفي حاشية الشلبي على المحيط اشترى المسلم الفاسق عبدا أمرد وكان ممن يعتاد إتيان الأمرد يجبر على بيعه (قوله فليحفظ توفيقا) بأن يحمل ما في الخانية من إثبات الكراهة على التنزيه، وما في الزيلعي وغيره من نفيها على التحريم، فلا مخالفة وأقول هذا التوفيق غير ظاهر لأنه قدم أن الأمرد مما تقوم المعصية بعينه وعلى مقتضى ما ذكره هنا يتعين أن تكون الكراهة فيه للتحريم فلا يصح حمل كلام الزيلعي وغيره على التنزيه، وإنما مبنى كلام الزيلعي وغيره على أن الأمرد ليس مما تقوم المعصية بعينه كما يظهر من عبارته قريبا عند قوله وجاز إجارة بيت.
(‌‌كتاب الخظر والاباحة  (6/ 391) دار الفكر - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب