سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-436 Fatwa no: 1447-436

طالبعلم سے ضبط شدہ سگریٹ ضائع کرنے کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
محترم مفتی صاحب! میری ہمشیرہ ایک اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ ایک دن انہوں نے ایک طالبعلم کی جیب کی تلاشی لی تو اس سے سگریٹ کا ڈبہ برآمد ہوا، انہوں نے وہ سگریٹ مجھے دے دیا اور کہا کہ اسے کسی مناسب طریقے سے ٹھکانے لگا دوں، اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ: کیا میں اس سگریٹ کو خود استعمال کرسکتا ہوں؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ شرعاً کسی شخص کا مال اُس کی رضامندی کے بغیر لینا یا تلف کرنا جائز نہیں، خواہ وہ مال معمولی ہی کیوں نہ ہو ،صورتِ مسئولہ میں آپ کی ہمشیرہ نے طالب علم سے سگریٹ کا ڈبہ لے کر آپ کے حوالے کیا، تو یہ ڈبہ شرعاً اس طالب علم کی ملکیت ہے،اگرچہ اسکول کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی وجہ سے وقتی طور پر ضبط کرنا جائز ہے، مگر اسے ضائع کرنا، خود استعمال کرنا یا کسی اور کو دینا شرعاً درست نہیں، بلکہ جس طالب علم سے لیا ہے اسی  کو  واپس کرنا ضروری   ہے ۔ 
الفتاوى العالمكيرية:
وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير. ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين ‌أخذ ‌مال ‌أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق..
(‌‌ فصل في التعزير (2/ 167) دار الفكر بيروت )
درر الحكام شرح غرر الأحكام:
إذا لم يكن له مال وغصب أموال الناس وخلطها ببعضها وبه صرح في شرح المنظومة ويجب عليه تفريغ ذمة برده ‌إلى ‌أربابه ‌إن ‌علموا وإلا إلى الفقراء.
 (باب زكاة المال (1/ 180) دار إحياء الكتب العربية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب