سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-437 Fatwa no: 1447-437

عشاء کی نماز شفق ِ احمر میں ادا کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
جواب :

بطور تمہید پہلے یہ سمجھنا مناسب ہے کہ صاحبین اور ائمہ ثلاثہ﷭کے نزدیک عشاء کی نماز کا وقت  شفقِ احمر(وہ سرخی جو شمالاً جنوباً چوڑائی میں پھیلتی ہے)کے غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہےاور شفق ِ احمر اس وقت غائب ہوجاتی ہے جب سورج پندرہ درجے زیر ِافق چلا جاتا ہے  اورحضرت امام ابو حنیفۃ﷫کے نزدیک عشاء کی نماز کا وقت شفقِ ابیض(وہ سفیدی جو سرخی کے بعد شمالاً جنوباً چوڑائی میں صبحِ صادق کی طرح پھیلی رہتی ہے)کے غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہےاور عام طور پر سورج كے اٹھاره درجے زير ِافق چلے جانےپر شفق ِ ابیض غائب ہوجاتی ہے ، چونکہ صاحبین اور ائمہ ثلاثہ﷭کے قول کے مطابق عشاء کی نماز کا وقت تین درجے پہلے شروع ہوتا ہے اور اورحضرت امام ابو حنیفۃ﷫کے قول کے مطابق تین درجے  بعد شروع ہوتا ہے اس لئے دونوں قولوں کے درمیان تقریباًبارہ  منٹ کا فرق ہوتا ہے ،یعنی صاحبین اور ائمہ ثلاثہ﷭ کے نزدیک عشاء کی نماز کا وقت تقریبا ً بارہ منٹ پہلے جبکہ حضرت امام ابو حنیفۃ﷫کے قول کے مطابق تقریباً  بارہ منٹ بعد شروع ہوتا ہے ،علماء کرام ؒ نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز ِ عشاء کے وقت میں حضرت امام ابو حنیفۃ﷫ کے قول پر عمل کرنے میں احتیاط ہے ، اس لئے عام حالات میں حضرت امام ابو حنیفۃ﷫کے قول پر ہی عمل کیا جائے ، تاہم  ضرورت کے وقت صاحبین اور ائمہ ثلاثہ ﷭کے قول پر عمل کرنا بھی  جائز ہے، اور آج کل عام طور پر نماز کے نقشہ جات میں عشاءکی نماز کا وقت شفقِ ابیض کے مطابق(یعنی حضرت امام ابو حنیفۃ﷫کے قول کے مطابق ) لکھا ہواہوتاہے۔ 
صورت ِ مسئولہ میں بظاہر سات دن تک ادا کی جانے والی نماز یں  شفقِ احمر کے ختم ہونے کے بعد ادا کی گئی  ہیں  اس لئے حضرت امام ابو حنیفۃ﷫کے قول کے مطابق یہ نمازیں ادا نہيں ہوئیں،تاہم صاحبین ؒکے قول کے مطابق ادا ہوگئی  ہیں ،لہٰذا اعادہ ضروری نہیں،  البتہ آئندہ نمازیں احتیاط پر عمل کرتے  ہوئے حضرت امام ابو حنیفۃ﷫کے قول کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔
نوٹ: سوال میں ذکر کردہ  دونوں نقشوں میں جو  فرق ہے وہ  شاہد اس بنیاد پر واقع ہوا  ہے کہ سابقہ نقشہ(جس پر مفتی فرید صاحبؒ کے دستخط ہیں)  کو صاحبین اور ائمہ ثلاثہ﷭کے قول کے مطابق تیار کیا گیا ہے جبکہ دوسرا نقشہ حضرت امام ابو حنیفۃ﷫ؒ کے قول کے مطابق تیار کیا گیا ہے، اس لیے احتیاطاً دوسرے نقشے کے مطابق نماز ادا کرنی چاہیے۔  
الدرالمختار مع  رد المحتار (1/ 361):
(و) وقت (المغرب منه إلى) غروب (الشفق وهو الحمرة) عندهما، وبه قالت الثلاثة وإليه رجع الإمام كما في شروح المجمع وغيرها، فكان هو المذهب.
(قوله: وإليه رجع الإمام) أي إلى قولهما الذي هو رواية عنه أيضا، وصرح في المجمع بأن عليها الفتوى، ورده المحقق في الفتح بأنه لا يساعده رواية ولا دراية إلخ. وقال تلميذه العلامة قاسم في تصحيح القدوري: إن رجوعه لم يثبت، ... وإذا تعارضت الأخبار والآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك كما في الهداية وغيرها. قال العلامة قاسم: فثبت أن قول الإمام هو الأصح، ومشى عليه في البحر مؤيدا له بما قدمناه عنه، من أنه لا يعدل عن قول الإمام إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة، لكن تعامل الناس اليوم في عامة البلاد على قولهما، وقد أيده في النهر تبعا للنقاية والوقاية والدرر والإصلاح ودرر البحار والإمداد والمواهب وشرحه البرهان وغيرهم مصرحين بأن عليه الفتوى. وفي السراج: ‌قولهما ‌أوسع ‌وقوله ‌أحوط، والله أعلم.
[تنبيه]قدمنا قريبا أن التفاوت بين الشفقين بثلاث درج كما بين الفجرين فليحفظ.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 258):
(قوله: والمغرب منه ‌إلى ‌غروب ‌الشفق) ... (قوله: وهو البياض) أي الشفق هو البياض عند الإمام وهو مذهب أبي بكر الصديق وعمر ومعاذ وعائشة رضي الله عنهم وعندهما وهو رواية عنه هو الحمرة وهو قول ابن عباس وابن عمر وصرح في المجمع بأن عليها الفتوى ورده المحقق في فتح القدير بأنه لا يساعده رواية ولا دراية، أما الأول فلأنه خلاف الرواية الظاهرة عنه، وأما الثاني فلما في حديث ابن فضيل «وإن أخر وقتها حين يغيب الأفق» وغيبوبته بسقوط البياض الذي يعقب الحمرة وإلا كان باديا ويجيء ما تقدم يعني إذا تعارضت الأخبار لم ينقض الوقت بالشك ورجحه أيضا تلميذه قاسم في تصحيح القدوري وقال في آخره فثبت أن قول الإمام هو الأصح. اهـ.
وبهذا ظهر أنه لا يفتى ويعمل إلا بقول الإمام الأعظم ولا يعدل عنه إلى قولهما أو قول أحدهما أو غيرهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة وإن صرح المشايخ بأن الفتوى على قولهما كما في هذه المسألة وفي السراج الوهاج فقولهما أوسع للناس وقول أبي حنيفة أحوط
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح(ص177):
قوله: "‌إلى ‌غروب ‌الشفق الأحمر" وقيل هو البياض الذي بعد الحمرة وهو قول الصديق والصديقة وأنس ومعاذ وأبي هريرة ورواية عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهم أجمعين وبه قال عمر بن عبد العزيز والأوزاعي وداود الظاهري وغيرهم واختاره من أهل اللغة المبرد وثعلب وصحح كل من القولين وأفتى به ورجح في البحر قول الإمام قال ولا يعدل عنه إلى قولهما ولو بموجب من ضعف أو ضرورة تعامل لأنه صاحب المذهب فيجب إتباعه والعمل بمذهبه حيث كان دليله واضحا ومذهبه ثابتا ولا يلتفت إلى جعل بعض المشايخ الفتوى على قولهما اهـ وقوى الكمال قول الإمام أيضا بما حاصله أن الشفق يطلق على البياض والحمرة وأقرب الأمر أنه إذا تردد في أن الحمرة أو البياض لا ينقضي الوقت بالشك ولا صحة لصلاة قبل وقتها فالاحتياط في التأخير.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب