سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-438 Fatwa no: 1447-438

عمل میں کوتاہی کی وجہ سے کوئی دائرۂِ اسلام سے خارج نہیں ہوتا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلے کےبارےمیں کہ مون چین لیون ( اسلامی نام علی ) نے اسلام قبول کرلیا اس کے بعد بشریٰ مجید کا نکاح مون چین لیون ( اسلامی نام علی ) سے ہوا جو نکاح سے پہلے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا،شادی کو تقریباً چھ سال ہو چکے ہیں، شادی کے بعد ایک سال پاکستان رہا پھر چین واپس چلا گیا، پھر چند سال بعد اپنی بیوی بشریٰ مجید کو بھی چین بلایا اور یہاں سے جب بلایا تو کہا کہ ہم الگ رہیں گے مگر اپنے خاندان کے ساتھ ہی رکھا۔ اور اس کے بعد بیوی نے وہاں جا کر دیکھا کہ دین اسلام کی طرف بالکل رجحان نہیں ہے، نہ نماز پڑھتا ہے نہ قرآن، وہ اپنی مذہب اور عقیدے میں ہی تھا، بیوی کے مجبور کرنے پر اسلام کی طرف نہ آیا، اور نہ پہلا کلمہ آتا ہے ا اور نہ ہی اس کا مطلب آتا ہے،بشریٰ مجید جو اس کی بیوی ہے وہ پاکستان واپس آئی، اب آپ اس مسئلے کا حل بتائے اور دین میں اس کا کیا حکم ہے۔ وضاحت: "وہ اپنی مذہب اور عقیدے میں ہی تھا" سے مراد یہ ہے کہ سائلہ کے بقول اس کا شوہر اب تک خود کو مسلمان کہتا ہے اور اسلامی عقائد سے انکار نہیں کرتا، تاہم دینی احکام پر عمل سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے ، البتہ وہ کبھی کبھار اپنے والدین کے مذہبی تہواروں میں شریک ہو جاتا ہے، سائلہ نے خود اسے ایسی مذہبی رسومات میں شامل ہوتے نہیں دیکھا، لیکن اندازہ ہے کہ وہ والدین کی خوشی کے لیے ان تقریبات میں شریک ہوتا ہے، نیز یہ بھی واضح نہیں کہ وہ ان تقریبات میں شرکت کے دوران سابقہ مذہب کے عقیدے کے مطابق کوئی عبادت یا مشرکانہ عمل کرتا ہے یا نہیں۔ مزید وضاحت: بشرٰی مجید اس شرط پر ہی چین واپس جانا چاہتی ہیں کہ شوہر ان کے لیے علیحدہ گھر کا بندوبست کرے۔ کیونکہ شوہر کا پورا خاندان غیر مسلم ہے اور ان کے ساتھ رہنے سے بیوی کو دینی و ذہنی تکلیف ہو رہی ہے،سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً بیوی کو علیحدہ رہائش کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے؟ اور کیا شوہر پر یہ لازم ہے کہ وہ اس مطالبے کو پورا کرے؟
جواب :

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اسلام قبول کرنے کے بعد دینی احکام پر عمل میں کوتاہی یا غفلت کا شکار ہو( مثلاً نماز نہ پڑھتا ہو، روزے چھوڑ دیتا ہو)لیکن اسلامی عقائد کو دل سے برحق مانتا ہو اور ضروریاتِ دین یا قطعیاتِ دین میں سے کسی قطعی حکم کا انکار نہ کرے، تو ایسا شخص شرعاً مسلمان ہی شمار ہوتا ہے، اگرچہ عملی سستی کی وجہ سےوہ گناہ گار ضرور ہےلیکن محض عمل کی کمی یا شرعی احکام پر عمل میں غفلت کی بنیاد پر وہ دائرہ ِاسلام سے خارج نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا نکاح ختم ہوتا ہے،لہٰذا سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق  اگر شوہر اسلامی عقائد کا قائل ہو، ضروریاتِ دین یا قطعیاتِ دین کا انکار نہ کرتا ہوصرف  شرعی احکام پر عمل میں غفلت برتتا ہو، تو وہ گناہ گار ضرور ہے، لیکن شرعاً مسلمان ہے اور اس کا نکاح بھی قائم و برقرار ہے۔   جہاں تک بیوی (بشرٰی مجید) کے علیحدہ گھر کے مطالبے کا تعلق ہےتواگر شوہر اور بیوی مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے ہوں تو بیوی کو دوسرے رشتہ داروں سے الگ مستقل گھر کا حق حاصل ہے، اور شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس حق کو پورا کرے، ليكن اگر شوہر اور بیوی متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہوں تو شوہر پر مستقل علیحدہ مکان فراہم کرنا ضروری نہیں، البتہ اُس پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے لیے گھر میں ایسا مستقل، محفوظ اور آزاد حصہ مخصوص کرے، جس میں الگ کمرہ، بیت الخلاء اور باورچی خانہ ہو، سامان کی حفاظت ممکن ہو، اور دیگر افراد کی مداخلت نہ ہو،اگر ایسا ممکن نہ ہو، یا شوہر کے اہلِ خانہ کی مداخلت، یا اُن کا غیر اسلامی طرزِ زندگی بیوی کے لیے اذیت یا دینی نقصان کا باعث بن رہا ہو تو ایسی صورت میں بھى شوہر پر شرعاً لازم ہے کہ وہ بیوی کے لیے مکمل علیحدہ رہائش کا بندوبست کرے تاکہ بیوی اپنے دینی و خاندانی فرائض اطمینان کے ساتھ ادا کر سکے۔ 
إكفار الملحدين في ضروريات الدين:
أهل القبلة في إصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين أي الأمور التي علم في الشرع واشتهر، ‌فمن ‌أنكر ‌شيئاً من الضروريات كحدوث العالم وحشر الأجساد، وعلم الله سبحانه بالجزيئات، وفرضية الصلاة والصوم لم يكن من أهل القبلة، ولو كان مجاهداً بالطاعات، وكذلك من باشر شيئاً من إمارات التكذيب كسجود الصنم والإهانة بأمر شرعي والاستهزاء عليه، فليس من أهل القبلة، ومعنى:"عدم تكفير أهل القبلة أن لا يكفر بارتكاب المعاصي، ولا بانكار الأمور الخفية غير المشهورة.
(ما المراد بأهل القبلة الذين لا يكفرون؟ (ص17) المجلس العلمي باكستان)
حاشية ابن عابدين:
(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) .....(بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها، ... (قوله خال عن أهله إلخ) ؛ لأنها تتضرر بمشاركة غيرها فيه؛ لأنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك من المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار ذلك؛ لأنها رضيت بانتقاص حقها....... (قوله بقدر حالهما) أي في اليسار والإعسار، فليس مسكن الأغنياء كمسكن الفقراء كما في البحر؛ لكن إذا كان أحدهما غنيا والآخر فقيرا؛ فقد مر أنه يجب لها في الطعام والكسوة الوسط، ويخاطب بقدر وسعه والباقي دين عليه إلى الميسرة، فانظر هل يتأتى ذلك هنا (قوله وبيت منفرد) أي ما يبات فيه؛ وهو محل منفرد معين قهستاني. والظاهر أن المراد بالمنفرد ما كان مختصا بها ليس فيه ما يشاركها به أحد من أهل الدار قوله (ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا (قوله لحصول المقصود) هو أنها على متاعها؛ وعدم ما يمنعها من المعاشرة مع زوجها والاستمتاع (قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها.
(کتاب الطلاق ، باب النفقة، مطلب في مسكن الزوجة(3/ 599) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب