سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-440 Fatwa no: 1447-440

غسل کے وقت عورت کے بال دھونے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر خواتین پر جنابت یا حیض و نفاس کی وجہ سے غسل واجب ہو جائے، تو کیا غسل میں بالوں کو مکمل دھونا ضروری ہے؟ کیونکہ بعض خواتین کے بال بہت لمبے اور گھنے ہوتے ہیں، جنہیں روزانہ یا ہر دوسرے دن دھونا ممکن نہیں ہوتا، تو کیا ایسی صورت میں صرف سر کے بالوں پر مسح کر لینا یا ہاتھ گیلا کر کے اس ذریعے جلد کو گیلا کر دینا کافی ہو گا؟ کیا اس طرح غسل ادا ہو جائے گا؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب :

واضح رہے کہ غسل کرتے وقت اگر عورت کے سر کے بال کھلے ہوں تو واجب غسل میں بالوں کو دھونا اور جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے، صرف بالوں کی جڑ تک پانی پہنچانا کافی نہیں ہوگا ، البتہ اگر بالوں کی چٹیا باندھ رکھی ہو یا بالوں کو گندھے ہوئے ہوں تو ان کو کھولنا ضروری نہیں، اس صورت میں بالوں کو تر کیے بغیر صرف جڑوں کو تر کرنا کافی ہے،  البتہ اگر بالوں کو کھولے بغیر جڑوں تک پانی پہنچانا مشکل ہو تو سارے بالوں کو کھول کر دھونا ضروری ہے ۔ 
اللباب في شرح الكتاب:
(وليس) يلازم (على المرأة أن تنقض)أي تحل ضفر (‌ضفائرها في الغسل) حيث كانت مضفورة، وإن لم يبلغ الماء داخل الضفائر، قال في الينابيع: وهو الأصح ومثله في البدائع، وفي الهداية: وليس عليها بل ذوائبها، وهو الصحيح، وفي الجامع الحسامي: وهو المختار، وهذا (إذا بلغ الماء أصول الشعر) أي منابته، قيد بالمرأة لأن الرجل يلزمه نقض ضفائره، وإن وصل الماء إلى أصول الشعر. وبالضفائر لأن المنقوض يلزم غسل كله، وبما إذا بلغ الماء أصول الشعر لأنه إذا لم يبلغ يجب النقض.
(‌‌كتاب الطهارة (1/ 16) المكتبة العلمية، بيروت - لبنان)
الفتاوى العالمكيرية (1/ 13):
وليس على المرأة أن تنقض ‌ضفائرها في الغسل إذا بلغ الماء أصول الشعر وليس عليها بل ذوائبها هو الصحيح. كذا في الهداية.
 ولو كان شعر المرأة منقوضا يجب إيصال الماء إلى أثنائه ويجب على الرجل إيصال الماء إلى أثناء اللحية كما يجب إلى أصولها وإلى أثناء شعره وإن كان ضفيرا. 
(کتاب الطهارة،الفصل الأول في فرائض الغسل (1/ 13) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب