سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-441 Fatwa no: 1447-441

غیر رہائشی مدارس کو زکوٰۃ دینے کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
محترم مفتی صاحب! جس مدرسے میں رہائشی طلباء نہ ہوں، طلباء صبح سات بجے آتے ہوں اور دوپہر ایک بجے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہوں، اور بجلی وغیرہ کے اخراجات اہلِ محلہ ادا کرتے ہوں، تو ایسی صورت میں اس مدرسے کو زکوٰۃ کی رقم دینا شرعاً کیسا ہے؟ جبکہ مدرسے میں طلباء کے کھانے پینے اور رہائش کا کوئی انتظام نہیں ہوتا،ازراہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ زکوۃ اور صدقات واجبہ کا اصل مصرف فقراء اور مساکین ہیں،انہی کو مالک اور قابض بنا کر دینا ضر دری ہے، زکوۃ اور صدقات واجبہ کی رقوم کو مدرسہ کی تعمیر و مرمت، اساتذہ کی تنخواہوں، بلوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات میں شرعی تملیک کے بغیر براہِ راست لگانا ہر گز جائز نہیں ہے، اس سے زکوٰۃ اور صدقات واجبہ ادا نہیں ہوں گےاور بلا ضرورت زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقوم کو شرعی تملیک کے ذریعے ان مصارف میں استعمال کر نا  زکوٰۃ وغیرہ کی اصل روح کے منافی ہے۔
مذکورہ مدرسہ میں چونکہ غیر رہائشی طلبہ پڑھتے ہیں، جن کے قیام و طعام وغیر ہ کا انتظام مدرسہ نہیں کرتا، تو پوری کوشش کی جائے کہ عطیات اور صدقات نافلہ کے ذریعے مذکورہ مدرسہ کے حقیقی اخراجات پورے کیے جائیں اور حتی الامکان زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ لینے سے اجتناب کیا جائے،لیکن اگر عطیات اور صدقات نافلہ کے ذریعے مذکورہ مدرسہ کے حقیقی اخراجات پورے نہ ہو سکیں تو بقدرِ ضرورت زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ وصول کر سکتے ہیں، مگر مدرسہ کی انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ ان رقوم کو شرعی تملیک کے بعد طلباء سے متعلق ضروریات میں استعمال کریں۔ 
اور تملیک کا بے غبار طریقہ یہ ہے کہ جس قدر رقم ضروریات وغیرہ کے لیے درکار ہو، کسی مستحق ِ زکوٰۃ شخص سے کہا جائے کہ تم اتنی رقم کسی سے اپنے لیے قرض لے کر مدرسہ کے لیے بطور چندہ دے دو، تمہیں ثواب ملے گا، پھر ہم تمہارا قرض زکوۃ کی رقم سے ادا کر دیں گے، پھر جب وہ شخص اپنے لیے مطلوبہ رقم قرض لے کر مدرسہ میں بطور چندہ دیدے تو اس قدر زکوٰۃ کی رقم اسے مالک و قابض بنا کر دیدیں، تا کہ وہ اس رقم سے اپنا قرض ادا کر دے، اس طرح زکوٰۃ اپنے مصرف میں خرچ ہوگی اور مدرسہ کی ضروریات کے لیے عطیہ کی رقم آجائیگی(کذا فی فتاوٰی محمودیہ: 22/315)۔ 
نیز اگر عطیات اور صدقات ِ نافلہ مدرسہ کے اخراجات کے لئے ناکافی ہوں تو ضرورت کے وقت یہ صورت(جو آج کل مدارس میں عام ہے )  بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ مدرسہ میں جتنے مستحق ِ  زکوٰۃ بالغ طلباء  موجود ہوں ان سے ایک وکالت نامہ لکھوا لیا جائے جس کا مضمون حسب ذیل ہو:
’’جب تک میں مدرسہ ہذا  سے بحیثیت  غیر مستطیع طالب منسلک ہوں ، میری طرف سے مہتمم ِ مدرسہ کو یا جس کو وہ اجازت دیں اس کا اختیار ہوگا کہ وہ میرے لئے زکوٰۃ یا صدقات کی رقم یا اشیاء  وصول کریں ، نیز  مہتمم مدرسہ کو میں اس امر کا بھی وکیل بناتا ہوں کہ وہ میرے طرف سے اسےطلباء کی ضروریات طعام وقیام و تعلیم وغیرہ میں  خودیا اپنے کسی نمائندہ کے ذریعے حسب ِ صوابدید صرف کریں یا مدرسہ کی ملکیت میں دیدیں یا اس پر وقف کردیں ‘‘
اور اگر مستحق زكوٰة  بالغ  طلباء موجود نہ ہوں تو کسی طالب علم کے والد جو مستحق ِ زکوٰۃ ہوں وہ بھی اپنی طرف سے مہتمم ِ مدرسہ کو زکوٰۃ کی وصولی اور وصولی کے بعد حسب صوابدید مدرسہ کے اخراجات میں خرچ کرنے کا وکیل بناسکتے ہیں ، لہٰذا اگر غیر رہائشی مدارس میں زکوٰۃ یا صدقاتِ واجبہ کی رقم تملیک کے ذکرکردہ دونوں طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پر عمل کرتے ہوئے وصول کی جاتی ہو، تو ایسے مدارس کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار(2/ 344):
ويشترط أن يكون ‌الصرف (‌تمليكا) ‌لا ‌إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد)
(قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ... (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 189):
(لا إلى بناء مسجد) أي لا يجوز أن يبني بالزكاة مسجدا؛ لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا بناء القناطير وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد ‌وكل ‌ما ‌لا ‌تمليك ‌فيه.
الاختيار لتعليل المختار (1/ 119):
قال: (‌والمديون ‌الفقير) وهو المراد بقوله تعالى: {والغارمين} [التوبة: 60] وإطلاق الآية يقتضي جواز الصرف إلى مطلق المديون إلا أنه قام الدليل، وهو قوله عليه الصلاة والسلام: «لا تحل الصدقة لغني» على أنه لا يجوز صرفها إلى من يملك نصابا فاضلا عما عليه.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب