سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-40 Fatwa no: 1447-40

طلاق دینے میں اختلاف کی صورت میں کس کا قول معتبر ہوگا؟

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک آدمی کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ میں تم کو طلاق دونگا،حالانکہ لڑکی کا کہنا ہے کہ شوہر نے کہا تھا کہ تم کو طلاق دیتا ہوں تم چلی جاؤ، اب شرعا اس کا کیا حکم ہے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ تنقیح: میاں بیوی دونوں کے پاس گواہ موجود نہیں ہیں ۔

جواب :

واضح رہے کہ جب   بیوی طلاق کا دعوی کرےاوراس کے پاس گواہ نہ ہوں اور شوہر طلاق دینے سے انکار کرتا ہو  تو ایسی صورت میں شوہر کی بات قسم کیساتھ معتبر ہوگی، لہذا صورت مسئولہ  میں چونکہ بیوی مدعی طلاق(طلاق کادعوی کرنے والی) اور شوہر مدعی علیہ (جس پر دعوی کیا جائے) ہے اوربیوی کے پاس طلاق کے دعوی پرگواہ  نہیں ہیں جیسا کہ سوال سے واضح ہے اسلئے اس صورت میں اگر چہ قضاء قسم کے ساتھ شوہر کی بات معتبر ہوگی اور نکاح برقرار رہے گا ،البتہ اگر شوہر قسم اٹھا نے سے انکار کریں تو بیوی کی بات معتبر ہوگی اور ایک طلاق رجعی واقع ہوگی ، جس کے بعد عدت (تین ماہواریاں یا وضع حمل سے پہلے)کےدوران  شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوگا ۔
كما في معرفة السنن والآثار:
وَبِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ»، فَإِنَّهُ إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(باب القضاء باليمين مع الشاهد،ج14،ص296،ط: جامعة الدراسات الإسلامية)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
السُّنَّةَ الْمَشْهُورَةَ «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ» ) وَتَمَامُهُ فِي الْفَتْحِ. 
(مطلب:استخلاف القاضي نائبا عنه،ج5،ص401،ط:دارالفكر بيروت)
وفى النهر الفائق:
قال في (الفتح): وهو الحق, وفيه لو قال: أطلقك لم يقع إلا إذا غلب استعماله في الحال.
(باب الثلاث الصريح،ج2،ص322،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب