سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-444 Fatwa no: 1447-444

"قرآن کی خاطر میرے قریب نہ آنا "کے جواب میں شوہر کا" ٹھیک ہے نہیں آؤں گا "، کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں میاں بیوی کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا۔ بیوی نے قرآن اُٹھا کر شوہر سے کہا "اس قرآن کی خاطر میرے قریب نہ آنا اور میرے کمرے میں نہ آنا"، تو شوہر نے جواب دیا "ٹھیک ہے، میں نہیں آؤں گا"اب شوہر کہتا ہے کہ میں قرآن کی بات کو توڑنا نہیں چاہتا، جب تک شرعی حکم معلوم نہ ہو، اس لیے بیوی کے پاس نہیں جا رہا ،دریافت طلب امور یہ ہیں: اگر شوہر بیوی کے پاس جائے تو اس پر کیا شرعی حکم ہوگا؟ کیا اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟ اور کیا ایسی صورت میں کفارہ لازم آئے گا یا نہیں؟ کتبِ فقہ کی روشنی میں شرعی راہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ قرآن مجید  ہاتھ میں اٹھاکر سوال میں ذکرکردہ یا اس   جیسے الفاظ کہنے  سے  اگر چہ بعض فقہاء کرام ؒسے  یمین  (قسم)   منعقد ہونے کا قول منقول ہے ، لیکن    علامہ شامی صاحب   رحمہ اللہ   نے  "وفيه نظر" کہہ کرمذكوره  فقہاء کرامؒ کے  اس قول کو رد  کیا ہے اور  یہ ثابت كيا  ہے کہ اس سے یمین (  قسم ) منعقد نہیں   ہوتی  (کما فی العبارة الاولیٰ) جبکہ ایلاء کے لئے یمین (قسم) کا ہونا ضروری ہے ،لہذا جب ایلاء منعقد نہیں ہوا ہے تو اگر شوہر بیوی کے پاس چلا جائے تو اس پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہوگا ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين :
(لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن...قال الكمال:ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا...وقال العيني:وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا.وعند الثلاثة المصحف والقرآن وكلام الله يمين.
 (قوله وقال العيني إلخ) عبارته: وعندي لو حلف بالمصحف أو وضع يده عليه وقال: وحق هذا فهو يمين ولا سيما في هذا الزمان الذي كثرت فيه الأيمان الفاجرة ورغبة العوام في الحلف بالمصحف اهـ وأقره في النهر. وفيه نظر ظاهر إذ المصحف ليس صفة لله تعالى حتى يعتبر فيه العرف وإلا لكان الحلف بالنبي والكعبة يمينا لأنه متعارف، وكذا بحياة رأسك ونحوه ولم يقل به أحد. على أن قول الحالف وحق الله ليس بيمين كما يأتي تحقيقه، وحق المصحف مثله بالأولى، وكذا وحق كلام الله لأن حقه تعظيمه والعمل به وذلك صفة العبد، نعم لو قال أقسم بما في هذا المصحف من كلام الله تعالى ينبغي أن يكون يمينا'.
(‌‌ ‌‌كتاب الأيمان (3/ 713،712)دار الفكر – بيروت)
الفتاوى العالمكيرية:
الإيلاء منع النفس عن قربان المنكوحة منعا مؤكدا باليمين بالله أو غيره من طلاق أو عتاق أو صوم أو حج أو نحو ذلك مطلقا أو مؤقتا بأربعة أشهر في الحرائر وشهر في الإماء من غير أن يتخللها وقت يمكنه قربانها فيه من غير حنث كذا في فتاوى قاضي خان فإن قربها في المدة حنث وتجب الكفارة في الحلف بالله سواء كان الحلف بذاته أو بصفة من صفاته يحلف بها عرفا وفي غيره الجزاء ويسقط الإيلاء بعد القربان وإن لم يقربها في المدة بانت بواحدة كذا في البرجندي شرح النقاية..
(الباب السابع في الإيلاء(1/ 476) دار الفكر – بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب