سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-445 Fatwa no: 1447-445

قرض پر لیا ہوا سونا کے عوض گائے فروخت کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ محمد اعظم اور اس کی زوجہ رفیعہ بی بی نے 19 اکتوبر 2019ء کو اپنے سسر عبداللہ خان کو رفیعہ بی بی کا مملوکہ سونا (۳ تولہ ۲ ماشہ) بطور قرض اس شرط پر دیا کہ بعد میں اتنا ہی سونا واپس کرے گا،بعد ازاں 2023ء میں رفیعہ بی بی نے اپنے والد سے ایک گائے خریدی، جس کی قیمت ۳ لاکھ روپے طے پائی، کچھ دن بعد والد نے بیٹی سے کہا "یہی گائے اُس سونے کے بدلے ہو گئی"،اس پر رفیعہ بی بی نے جواب دیا: "صحیح دو اللہ وو خیر کی" (یعنی ٹھیک ہے، اللہ خیر کرے گا) رفیعہ بی بی کی ماں اور بہن جو اس وقت موجود تھیں، وہ کہتی ہیں کہ اس نے صرف "ٹھیک ہے" کہا۔ اور خود رفیعہ بی بی نے بھی زبانی طور پر مان لیا کہ ہاں میں نے اس وقت "ٹھیک ہے" کہا تھا،اب شوہر محمد اعظم کا کہنا ہے کہ مجھے میری بیوی کا سونا واپس کیا جائے، جبکہ عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ وہ سونا تو 2023ء میں گائے کے بدلے ختم ہو چکا ہے، اور بیٹی نے اسی وقت رضامندی ظاہر کر دی تھی،یاد رہے کہ 2019ء میں اس سونے کی قیمت تقریباً ۲ لاکھ ۲۰ ہزار روپے تھی اور گائے کی قیمت ۳ لاکھ روپے طے ہوئی تھی، جبکہ 2023ء میں ایک تولہ سونے کی قیمت ۲ لاکھ ۲۲ ہزار روپے تھی،شوہر محمد اعظم کا مؤقف یہ ہے کہ گائے کو سونے کے بدلے شمار کرنے کا مجھے کوئی علم نہیں تھا، لہٰذا میرا ضمیر نہیں مانتا کہ اتنا سونا گائے کے عوض ختم ہو گیا ہو، اس لیے اب میں اپنی بیوی کا سونا واپس طلب کرتا ہوں۔ دریافت طلب امريہ ہے کہ کیا شوہر کا آج سونا واپس طلب کرنا شرعاً درست ہے؟جبکہ بیوی خود اقرار کر رہی ہے کہ میں نے 2023ء میں والد کی بات کے جواب میں "ٹھیک ہے" کہا تھا، قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ،جزاکم اللہ خیراً
جواب :

سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق جب والد (عبد اللہ خان)نے بیٹی (رفیعہ بی بی) کو تین لاکھ روپے میں گائے فروخت کرنے کے بعد کہا کہ "یہی گائے اُس سونے کے بدلے ہو گئی" اور بیٹی (رفیعہ بی بی) نے اس پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا "ٹھیک ہے، اللہ خیر کرے گا"، تو اس سے بیع شرعی طور پر منعقد ہو گئی اورسونا گائے کے بدلے عبد اللہ خان کی ملکیت بن گیا،لہٰذا شوہر محمد اعظم کا سونے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ 
الفتاوى العالمكيرية:
ويصح الإيجاب بلفظ الجعل كقوله جعلت لك هذا بكذا لما ذكره محمد رحمه الله أن القاضي إذا قال للدائن جعلت لك هذا بدينك كان بيعا وهو الصحيح وبقوله رضيت وينعقد بلفظ أجزت بعد قوله بعت كذا في البحر الرائق وكذلك لو قال المشتري اشتريت بكذا فقال البائع رضيت أو أمضيت أو أجزت كذا في الاختيار شرح المختار وكذا لو قال هذا العبد ‌بيع ‌لك ‌بدينك فقبل الآخر ينعقد البيع كذا في الغياثية قال لغيره اشتريت عبدك بألف درهم فقال البائع قد فعلت أو قال نعم أو قال هات الثمن صح البيع بينهما وهو الأصح كذا في جواهر الأخلاطي ولو قال اشتريته بكذا فقال البائع هو لك أو عبدك أو فداك تم البيع كذا في الوجيز للكردري ولو قال لآخر بعت منك كذا بكذا فقال أخذت تم البيع كذا في الخلاصة ولو قال لآخر عوضت فرسي بفرسك فقال وأنا فعلت أيضا فهذا بيع وعليه فتوى شمس الأئمة الأوزجندي كذا في جواهر الأخلاطي وإذا قال لغيره هذا العبد عليك بألف درهم فقال الآخر قبلت يكون بيعا كذا في المحيط.
(الفصل الأول فيما يرجع إلى انعقاد البيع(3/ 4) دار الفكر بيروت)
المحيط البرهاني:
رجل مات وترك عبداً قيمته ألف درهم لا مال له غيره، وعلى الميت لرجل ألف درهم دين فأعطى القاضي الغريم بدينه وقال هذا العبد: ‌بيع ‌لك ‌بدينك أو قال: جعلته لك بدينك وبنى على اللفظين أحكام البيع، قال شمس الأئمة السرخي: وهذا هو الصحيح؛ لأنهما بمعنى البيع إن لم يأتيا بلفظ البيع، والعبرة في العقود للمعاني لا للألفاظ، وهذه المسألة أيضاً دليل على أن من قال لغيره: هذا العبد ‌بيع ‌لك ‌بدينك فقبل ذلك الغير، إنه ينعقد البيع بينهما. وفي «طلاق النوازل» : إذا قال لغيره: هذا العبد عليك بألف درهم فقال الآخر: قبلت يكون بيعاً.
 ( ‌‌الفصل الأول: فيما يرجع إلى انعقاد البيع (6/ 270) دار الكتب العلمية)
الفتاوى العالمكيرية:
ولو كان لأحدهما ‌على ‌صاحبه ‌ألف ‌درهم وللآخر عليه دنانير فنادى أحدهما صاحبه من وراء الجدار أو من بعيد فقال بعتك ما لي عليك بما لك علي لم يجز وكذلك لو تصارفا بالرسالة لأنهما متفرقان بأبدانهما كذا في محيط السرخسي ..... ثم فرق بين بيع الدراهم بالدراهم والدنانير بالدنانير وبين بيع الفلوس بالدراهم أو بالدنانير حيث لم يشترط في بيع الفلوس بالدراهم أو بالدنانير قبض البدلين قبل الافتراق ويكتفى بقبض أحد البدلين كذا في المحيط.
(الباب الأول في تعريف الصرف (3/ 217) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب