سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-446 Fatwa no: 1447-446

كَلَّا بَلْ تکذبون بالدین " کی جگہ "كَلَّا بَلاَ تکذبون " پڑھنے کا حکم"نماز مىں

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے نماز میں "کلا بل تکذبون بالدین "کی جگہ "کلا بَلاَ تکذبون بالدین" پڑھ لیا، یعنی (بَلْ) کے بجائے (بَلا) پڑھ لیا ،کیا نماز ہوگئی یا اعادہ ضروری ہے ؟براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ نماز میں قراءت کے دوران اگر ایسی غلطی واقع ہو جائے جس کے نتیجے میں معنیٰ میں ایسی تبدیلی پیدا ہو جائے جس کا عقیدہ رکھنا کفر ہو تو ایسی صورت میں نماز مطلقاً فاسد ہو جاتی ہے اور اگر وہ تبدیلی موجب ِ کفر نہ ہو تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس تبدیلی کی وجہ سے  لفظ قرآنی بالکل بے معنیٰ رہ جائے یا ایسے معنیٰ پیدا ہوں   جو آیات ِ قرآنی کے مطلب سے بعید ہوں تو نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اگر معنیٰ بعید نہ ہو ں بلکہ قریب قریب رہیں   تو نماز فاسد نہیں ہوتی ،  صورت ِ مسئولہ میں "کلا بل تکذبون بالدین "کی جگہ  "کلا بَلاَ تکذبون بالدین" پڑھنے سے معنیٰ میں ایسی تبدیلی پیدا  نہیں ہوئی جس سے نماز فاسد ہوتی ہے ، بلکہ دونوں کا معنی قریب قریب ہیں؛ کیونکہ"بَلاَ" اور" بلیٰ"  كا تلفظ ايك ہی ہے اورلفظ   ِ" بلیٰ"  عربی میں  اثبات بعد النفی کے لئے آتا ہے ، جس کی وجہ سے مذکورہ آیت کا معنی ٰ یہ بنتا ہے کہ "ہر گز نہیں ، بلکہ (ہاں ) تم روز ِ جزاء کو جھٹلاتے ہو" اور یہ معنیٰ  اصل آیت کے معنیٰ (ہر گز نہیں ، بلکہ تم روز ِ جزاء کو جھٹلاتے ہو ) کے بالکل قریب قریب ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں نماز فاسد نہیں ہوئی ، اور اس کا اعادہ ضروری نہیں۔
الفتاوى العالمكيرية:
 (ومنها) ذكر كلمة مكان كلمة على وجه البدل إن كانت الكلمة التي قرأها مكان كلمة يقرب معناها وهي في القرآن لا تفسد صلاته نحو إن قرأ مكان العليم الحكيم وإن لم تكن تلك الكلمة في القرآن لكن يقرب معناها عن أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا تفسد وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - تفسد نحو إن قرأ التيابين مكان التوابين وإن لم تكن تلك الكلمة في القرآن ولا تتقاربان في المعنى تفسد صلاته بلا خلاف إذا ‌لم ‌تكن ‌تلك ‌الكلمة ‌تسبيحا ولا تحميدا ولا ذكرا وإن كان في القرآن ولكن لا تتقاربان في المعنى نحو إن قرأ وعدا علينا إنا كنا غافلين مكان فاعلين ونحوه مما لو اعتقده يكفر تفسد عند عامة مشايخنا وهو الصحيح من مذهب أبي يوسف - رحمه الله تعالى -. هكذا في الخلاصة.
(الفصل الخامس في زلة القارئ (1/ 80) دار الفكر بيروت)
حاشية ابن عابدين:
‌والقاعدة ‌عند ‌المتقدمين أن ما غير المعنى تغييرا يكون اعتقاده كفرا يفسد في جميع ذلك، سواء كان في القرآن أو لا إلا ما كان من تبديل الجمل مفصولا بوقف تام وإن لم يكن التغيير كذلك، فإن لم يكن مثله في القرآن والمعنى بعيد متغير تغيرا فاحشا يفسد أيضا كهذا الغبار مكان هذا الغراب.
 (فروع مشى المصلي مستقبل القبلة هل تفسد صلاته (1/ 631) دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب