سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-447 Fatwa no: 1447-447

كھیتی کے لئے پانی دیکر فصل میں سے اجرت مقرر کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
محترم جناب حضرت مفتی صاحب! ہم چار ،پانچ لوگوں نے ایک ٹیوب ویل لگایا ہے ، جس کا پانی ہم مختلف لوگوں کی فصلوں کو دیتے ہیں اورفصل میں سے دو فیصد اس کی اجرت طے کرتے ہیں،کیا اس طرح فصل میں سے اجرت وصول کرنا جائز ہے ؟ کسی نے ہم سے کہا ہے کہ فصل میں سے اجرت طے کرنا جائز نہیں ہے ۔
جواب :

واضح رہے کہ زمین کی سیرابی کے لیے کسی کو پانی دینا اور اس کی اجرت پیداوار سے مقرر کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ "استیجار ببعض الخارج" ہے، اور "استیجار ببعض الخارج" اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے  ،البتہ یہاں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ مزارعت کی بنیاد بھی "استیجار ببعض الخارج" پر ہے، پھر وہ کیوں جائز ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ قیاس کے اعتبار سے مزارعت بھی ناجائز ہے، کیونکہ اس میں بھی"استیجار ببعض الخارج"   کی وجہ سےاجرت مجہول ہوتی ہے، لیکن تعامل اور نص کی بنیاد پر مزارعت کو اجرت کے مجہول ہونے کے باوجود  استحساناً جائز قرار دیا گیا ہے،یہ نص صرف مزارعت کی صورت میں "استیجار الارض ببعض الخارج" اور "استیجار العامل ببعض الخارج" کے متعلق وارد ہوئی ہے اور اصول یہ ہے کہ جہاں کسی معاملے کا جواز خلافِ قیاس نص سے ثابت ہو، تو اس کا حکم صرف اسی موردِ نص تک محدود ہوتا ہے، لہٰذا جواز بھی مزارعت کی انہی دو مخصوص صورتوں تک محدود ہے، اس کے علاوہ کسی اور صورت کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، باقی تمام صورتیں بدستور ناجائز رہیں گی ، اسی لیے فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر ایک فریق کی طرف سے صرف بیل (بقر) ہوں اور باقی امور، جیسے زمین، بیج اور محنت دوسرے فریق کی طرف سے ہوں، تو یہ معاملہ جائز نہیں (لأنه استئجار ‌البقر ‌ببعض ‌الخارج و لم يرد به أثر)  ،اسی طرح اگر مزارعت کے علاوہ کسی کو کان کنی کے لیے اجرت پر رکھا جائے اور اجرت کان سے نکلنے والی چیز میں مقرر کی جائے، تو یہ بھی جائز نہیں، کیونکہ یہ اگرچہ   "استیجار العامل ببعض الخارج" کی صورت ہے، لیکن چونکہ وہ صرف  مزارعت میں تعامل اور نص کی بنیاد پر استحساناً جائز قرار دیا گیا ہے، اورکان کنی کی صورت میں "استیجار العامل ببعض الخارج" پر کوئی نص وارد نہیں، اس لیے یہ صورت  اجرت کے مجہول ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، مزید یہ کہ یہ "قفیز الطحان" کی ممنوعہ صورت میں داخل ہونے کی بنا پر بھی ناجائز ہے۔
لہٰذا جس طرح کان کنی میں کام کرنے والے عامل یامزارعت میں صرف بیل دینے والے کے لیے پیداوار سے اجرت مقرر کرنا ناجائز ہے، اسی طرح اگر کوئی صرف پانی دے اور اس کی اجرت پیداوار سے طے کی جائے، تو یہ بھی جائز نہیں ہوگا۔
البتہ اگر پانی کی اجرت پیداوار سے وابستہ رکھنے کے بجائے نقد رقم کی صورت میں مقرر کی جائے، یا پیداوار کی جنس سے متعین اجرت طے کی جائے (مثلاً متعین طور پر دو بوری گندم بطور اجرت مقرر کی جائے) اور یہ اجرت پیداوار کے ہونے یا نہ ہونے پر موقوف نہ ہو، بلکہ ہر حال میں ادا کرنا لازم ہو، تو یہ صورت جائز ہے۔
حاشية ابن عابدين:
والجواب ‌أن ‌القياس ‌أن ‌لا ‌تجوز ‌المزارعة لما فيها من الاستئجار ببعض الخارج، وإنما ترك بالأثر وهو ورد في استئجار العامل أو الأرض فيقتصر عليه.
(‌‌كتاب المزارعة(6/ 278) دار الفكر - بيروت)
حاشية ابن عابدين (6/ 279):
‌وعد ‌في ‌جامع ‌الفصولين ‌من ‌الفاسدة ما لو كان البذر لواحد، والأرض لثان، والبقر لثالث، والعمل لرابع أو البذر والأرض لواحد والبقر لثان والعمل لثالث؛ لأن استئجار البقر ببعض الخارج لم يرد به أثر، فإذا فسدت في حصة البقر تفسد في الباقي.
(‌‌كتاب المزارعة(6/ 279) دار الفكر - بيروت)
تكملة فتح القدير نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار:
‌فإن ‌استئجار ‌الأرض ‌ببعض ‌من ‌الخارج استئجار ببعض مجهول أو معدوم، وكل ذلك مفسد كما مر في دليل أبي حنيفة على عدم جواز المزارعة، كيف ولو كان ذلك استئجارا ببعض معلوم لكانت المزارعة جائزة على مقتضى القياس أيضا.
وقد صرحوا بأن القياس يقتضي أن لا تجوز المزارعة مطلقا لكونها استئجارا ببعض الخارج. وهو لا يجوز لكنا جوزناها فيما إذا كانت استئجار منفعة الأرض أو العامل استحسانا بالنص والتعامل ولم نجوزها فيما سوى ذلك عملا بالقياس لعدم ورود الشرع به فيه. فالحق في تعليل جواز هذا الوجه أن يقال: لأنه استئجار الأرض ببعض الخارج وهو جائز بالنص وتعامل الأمة.
(‌‌كتاب المزارعة(9/ 466) دار الفكر - بيروت)
المبسوط للسرخسي (14 / 48):
ولو استأجره لينقي تراب المعدن أو تراب الصياغة بنصف ما يخرج منه، كان فاسدا؛ لأن الأجر مجهول، ووجوده على خطر، وهو استئجار ببعض ما يخرج من عمله، فيكون بمعنى قفيز الطحان، فله أجر مثله؛ لأنه أوفى المنفعة بعقد فاسد.
(باب الإجارة في الصياغة (14 / 48) دار المعرفة - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب