سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-448 Fatwa no: 1447-448

گندم کی فصل کےساتھ اگنے والی اضافی گھاس پر عشر كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
عرض یہ ہے کہ گندم کی فصل کے ساتھ بعض اوقات اضافی قسم کی جڑی بوٹی یا پالتو گھاس(جس کو ہماری زبان میں’’ کاریانڑہ‘‘ كہا جاتا ہے) بھی اُگ آتی ہے، جو عام طور پر گندم کو نقصان دیتی ہےکسان حضرات فصل کی صفائی کے دوران اسے اکھاڑ کر جانوروں کو کھلا دیتے ہیں یا بعض اوقات تلف کر دیتے ہیں،اب سوال یہ ہے کہ: کیا اس قسم کی غیر مطلوبہ گھاس یا اضافی نباتات پر بھی عشر واجب ہوگا یا نہیں ؟ برائے کرم اس مسئلے کا شرعی حکم واضح طور پر بیان فرمائیں۔جزاکم الله خیراً و أحسن الجزاء
جواب :

واضح رہے کہ فصل( گھاس)  میں  وجوب ِ عشر کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ  مقصود بالزرع ہو یعنی اسے باقاعدہ کاشت کی گئی ہو، اورسوال میں ذکر کردہ گھاس (کاریانڑہ وغیرہ)  چونکہ باقاعدہ کاشت نہیں کی گئی   بلکہ وه    گندم کے ساتھ ضمنی طور پر  اُ  گ آئی  ہے، اس لئے اس پر  عشر واجب  نہیں   ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ومنها أي من شرائط المحلية .....ومنها أن يكون الخارج ‌من ‌الأرض ‌مما ‌يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادة فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لا تستنمى بها الأرض ولا تستغل بها عادة؛ لأن الأرض لا تنمو بها بل تفسد فلم تكن نماء الأرض.
(کتاب الزکوة،فصل الشرائط المحلية،(2/ 58) دار الكتب العلمية)
المبسوط للسرخسي:
والمستثنى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خمسة أشياء: السعف فإنه من أغصان الأشجار، وليس في الشجر شيء والتبن فإنه ساق للحب كالشجر للثمار ‌والحشيش ‌فإنه ‌ينقى ‌من ‌الأرض، ولا يقصد به استغلال الأراضي والطرفاء والقصب فإنه لا يقصد استغلال الأراضي بهما عادة.
(كتاب الزكوة ،باب عشر الأرضين (3/ 2) دار المعرفة - بيروت)
وفي حاشية ابن عابدين:
أشار إلى أن ما اقتصر عليه المصنف كالكنز وغيره ليس المراد به ذاته بل لكونه من جنس ما لا يقصد به استغلال الأرض غالبا وأن المدار على القصد حتى لو قصد به ذلك وجب العشر كما صرح به بعده.
( كتاب الزكوة،‌‌باب العشر(2 / 327) دار الفكر - بيروت)
في حاشية الشرنبلالي على درر الحكام (1 / 186):
أقول وكذا لا يجب في نحو سعف وتبن؛ لأنه يشترط أن يكون الخارج مما يقصد إنباته حتى لو اتخذ أرضه مقصبة أو مشجرة أو منبتا للحشيش وأراد به الاستنماء بقطع ذلك وبيعه كان فيه العشر كما في العناية وبيع ما يقطعه ليس بقيد ولذا أطلقه قاضي خان عنه.
( كتاب الزكوة،‌‌باب العشر(1 / 186)دار إحياء الكتب العربية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب