سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-449 Fatwa no: 1447-449

کرایہ کے مکان میں گیس لیکج کی صورت میں اضافی بل کی ادائیگی کس کی ذمہ داری ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا ایک ملکیتی مکان ہے، جو میں نے کرایہ پر دیا ہوا ہے، گزشتہ ماہ گلی میں میٹر کے پائپ کے گیس لیک ہوتی رہی ،جسکا خرچہ میں نے برداشت کیا،پھر گیس لیک ہونے کی وجہ سے گیس کا بل بھی زیادہ آیا ، کرایہ دار کا مطالبہ ہے کہ میں اس زائد بل کی ادائیگی میں ان کے ساتھ شریک ہوں، کیونکہ خرابی مین لائن میں ہوئی تھی، نہ کہ گھر کے اندر ،اب شرعی طور پر میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا کرایہ دار کا یہ مطالبہ درست ہے؟ اگر درست ہے تو میرے ذمے کتنی ادائیگی لازم ہے؟ اور کیا اس کا اندازہ گزشتہ ماہ کے بل سے لگایا جائے گا یا پچھلے سال کے اسی ماہ کے بل سے، کیونکہ سردی و گرمی کے لحاظ سے گیس کا استعمال مختلف ہوتا ہے؟برائے مہربانی شرعاً جو بھی صورت بنتی ہو، وہ واضح فرما دیجیے ۔
جواب :

چونکہ گیس (یا بجلی) کے بِل کا تعلق اس کے استعمال سے ہےاور اسے مستأجر (کرایہ دار) استعمال کرتا ہے، اس لیے بل کی ادائیگی  کرایہ دار کے ذمے ہوتی ہے، تاہم اگر میٹر یا اس سے متعلقہ لائن میں کوئی فنی یا تکنیکی خرابی پیدا ہو جائے، تو اس کی مرمت و اصلاح مالکِ مکان کی ذمے داری ہوتی ہے(لأن أعمال الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر )۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ خرابی میٹر سے پہلے کی لائن میں تھی، جس کی مرمت بھی آپ (موجِر)  نے کرائی، لہٰذا اس خرابی کے نتیجے میں جتنا اضافی بل آیا ہے، اس میں چونکہ آپ کی کوتاہی بھی شامل ہے ،اس لئے اس کی ادائیگی بھی آپ کے ذمے ہوگی۔
باقی رہی یہ بات کہ اضافی بل کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ کوئی ایسا متعین پیمانہ موجود نہیں جس سے گیس کے اضافی استعمال کو یقینی طور پر ناپا جا سکے، اس لیے اس کا تعیین اندازے سے ہی کیا جائے گا۔
ایسے اندازے کے لیے بہتر یہ ہے کہ گیس کے معاملات کو سمجھنے والے دو معتبر افراد کو فیصل کے طور پر مقرر کر لیا جائے، جو فریقین کی بات سن کر اور حالات کو مدنظر رکھ کر اندازہ لگائیں کہ کتنا بل اضافی آیا ہے،( لأن الأخذ بقول الغير هو المرجح فيما لم يشتهر من الشرع فيه تقدير) وہ حضرات سابقہ مہینے یا گزشتہ سال کے اسی مہینے کے بل سے استدلال (استیناس) کر سکتے ہیں، لیکن صرف انہی کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرنا مشکل ہے ؛ کیونکہ ہر مہینے گیس کی قیمت اور استعمال میں واضح فرق ہوتا ہے۔
البتہ اگر مالک اور کرایہ دار باہمی رضامندی سے سابقہ مہینے کے بل کی بنیاد پر اضافی بل کا اندازہ لگا لیں اور اسے تسلیم کر لیں، تو یہ طریقہ بھی شرعاً درست ہے۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
(المادة 529) أعمال الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر: مثلا تطهير الرحى على صاحبها، كذلك تعمير الدار وطرق الماء وإصلاح منافذه وإنشاء الأشياء التي تخل بالسكنى وسائر الأمور التي تتعلق بالبناء كلها ‌لازمة ‌على ‌صاحب ‌الدار وإن امتنع صاحبها عن أعمال هؤلاء فللمستأجر أن يخرج منها إلا أن تكون حين استئجاره إياها كانت على هذه الحال وكان قد رآها فإنه حينئذ يكون قد رضي بالعيب فليس له اتخاذ هذا وسيلة للخروج من الدار بعد وإن عمل المستأجر هذه الأشياء منه كانت من قبيل التبرع فليس له طلب ذلك المصروف من الآجر. على الآجر أن يصلح من المأجور ما يخل بمنفعته أو بالبناء، أي يعود على الآجر نوعان من النفقة على المأجور: 1 - ما يخل بمنفعة المأجور. 2 - ما يتعلق بالبناء أي فيما هو من قبيل البناء (التنوير) . فقوله (تطهير الرحى على صاحبها) مثال للنوع الأول، وقوله (تعمير الدار وطرق الماء وإصلاح نافذه وإنشاء الأشياء التي تخل بالسكنى. .. إلخ) .
مثال للنوع الثاني مثلا تطهير الرحى المأجورة على الآجر، ولو نشأ الخراب عن استعمال المستأجر إياها (التنوير، رد المحتار) لأنه لا يمكن الانتفاع بالرحى إلا بالماء، والماء لا يجري إلا بكري النهر إلا أن يكون قد شرط الكري على المستأجر (الهندية في الباب السابع عشر وليراجع شرح المادة 514) . أما كري مسيل الحمام ورفع ما به من أوساخ ومياه فعلى المستأجر (رد المحتار) ويعتبر في رفع الثلج عرف البلدة (انظر المادة 36) .
(أعمال الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر (1/ 608) دار الجيل)
البناية شرح الهداية:
وعن أبي حنيفة في"الجامع الصغير"في مثله ينزح حتى يغلبهم الماء ولم يقدر الغلبة بشيء كما هو دأبه وقيل:يؤخذ في هذا الحكم بقول رجلين لهما بصارة في أمر الماء، وهذا أشبه بالفقه.
م:(وقيل) ش: قائله أبو نصر بن محمد بن سلام م: (يؤخذ في الحكم بقول رجلين) ش: إذا قالا: ماء هذا البئر مائة دلو، أو مائتا دلو ولو نزح ذلك القدر؛ لأن الأخذ بقول الغير هو المرجح فيما لم يشتهر من الشرع فيه تقدير، قال الله تعالى: {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} [النحل: 43] (النحل: الآية 43) كما في جزاء الصيد حيث قال: {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95] (المائدة: الآية 95) ، والشهادة حيث قال: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2] 
م: (لهما بصارة في أمر الماء) ش: هذه جملة من المبتدأ المتقدم والخبر وقعت صفة لرجلين و" البصارة" بفتح الباء الموحدة، وهو مصدر من بصر يبصر بضم الصاد وبصر بالشيء علمه، والبصير العالم، والمعنى لهما بصارة أي علم بأمر البئر وحذاقة وخبرة. م: (وهذا أشبه بالفقه) ش: أي بالمعنى المستنبط من الكتاب وسننه ففي الكتاب، الاثنان نصاب الشهادة الملزمة لما ذكرها، وفي البينة شاهدان أو يمينه، ويقال: معنى قوله: وهذا أشبه بالفقه، أي بقول الفقهاء حيث اعتبروا قول رجلين في قيم الأشياء.
(حكم وقوع النجاسة في البئر (1/ 459) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب