سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-450 Fatwa no: 1447-450

کسی سے نکاح کرنے پر الگ الگ تین طلاق معلق کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہایک آدمی کی منگنی ہوئی تھی،شروع میں راضی تھا،بعد میں کچھ مسئلہ ہوا،جس پر اس نے کہا کہ اگر میں نے اس عورت کے ساتھ نکاح کیا،تو اس کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے،تو اب اگر نکاح کرے گا،تو کیا طلاق واقع ہوگی یانہیں؟اگر واقع ہوگی،تو کل کتنی طلاقیں واقع ہوگی۔وضاحت فرمائیں ۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں شوہر کا یہ کہناکہ  "اگر میں نے اس عورت سے نکاح کیا تو اسے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے"  اس میں اگرچہ شوہر نے نکاح پر تین طلاقیں معلق کی ہیں، لیکن چونکہ یہ طلاقیں الگ الگ الفاظ سے معلق کی گئی ہیں، اس لیے اس عورت سے نکاح کرنے کی صورت میں بیوی پر صرف ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، باقی دو طلاقیں لغو ہوں گی، کیونکہ فقہاءِ کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی غیر مدخول بہا بیوی کو الگ الگ الفاظ میں تین طلاقیں دے، تو صرف پہلی طلاق واقع ہوتی ہے، جو کہ طلاقِ بائن ہوتی ہے اور باقی دو طلاقیں لغو شمار ہوتی ہیں، لہٰذا اگر واقعۃً شوہر نے مذکورہ الفاظ اسی ترتیب سے کہے ہیں جیسے سوال میں مذکور ہے، تو نکاح کرتے ہی عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گی،  طلاقِ بائن کا حکم یہ ہے کہ بغیر عدت اور حلالہ کے دونوں آپس میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتےہیں، چنانچہ اگر اسی مجلس میں دوبارہ نکاح کر لیا جائے تو شرعاً یہ نکاح درست ہوگا،تاہم اب شوہر کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
المبسوط للسرخسي:
وإن قال: إذا ‌تزوجتك ‌فأنت ‌طالق ‌طالق طالق، ثم تزوجها طلقت واحدة؛ لأنه ما عطف الثانية، والثالثة على الأولى فتتعلق الأولى بالشرط وتلغو الثانية، والثالثة.
(باب ما لا يقع فيه الطلاق على المرأة،(6/ 128) دار المعرفة)
الأصل لمحمد بن الحسن:
وإذا قال: إذا ‌تزوجتك ‌فأنت ‌طالق ‌طالق طالق، ثم تزوجها وقعت واحدة عليها، وبطل ما سوى ذلك.
(‌‌باب الطلاق لغير السنة،(4/ 500)،دار ابن حزم، بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب