نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں شوہر کا یہ کہناکہ "اگر میں نے اس عورت سے نکاح کیا تو اسے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے" اس میں اگرچہ شوہر نے نکاح پر تین طلاقیں معلق کی ہیں، لیکن چونکہ یہ طلاقیں الگ الگ الفاظ سے معلق کی گئی ہیں، اس لیے اس عورت سے نکاح کرنے کی صورت میں بیوی پر صرف ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، باقی دو طلاقیں لغو ہوں گی، کیونکہ فقہاءِ کرام نے تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی غیر مدخول بہا بیوی کو الگ الگ الفاظ میں تین طلاقیں دے، تو صرف پہلی طلاق واقع ہوتی ہے، جو کہ طلاقِ بائن ہوتی ہے اور باقی دو طلاقیں لغو شمار ہوتی ہیں، لہٰذا اگر واقعۃً شوہر نے مذکورہ الفاظ اسی ترتیب سے کہے ہیں جیسے سوال میں مذکور ہے، تو نکاح کرتے ہی عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گی، طلاقِ بائن کا حکم یہ ہے کہ بغیر عدت اور حلالہ کے دونوں آپس میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتےہیں، چنانچہ اگر اسی مجلس میں دوبارہ نکاح کر لیا جائے تو شرعاً یہ نکاح درست ہوگا،تاہم اب شوہر کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
المبسوط للسرخسي:
وإن قال: إذا تزوجتك فأنت طالق طالق طالق، ثم تزوجها طلقت واحدة؛ لأنه ما عطف الثانية، والثالثة على الأولى فتتعلق الأولى بالشرط وتلغو الثانية، والثالثة.
(باب ما لا يقع فيه الطلاق على المرأة،(6/ 128) دار المعرفة)
الأصل لمحمد بن الحسن:
وإذا قال: إذا تزوجتك فأنت طالق طالق طالق، ثم تزوجها وقعت واحدة عليها، وبطل ما سوى ذلك.
(باب الطلاق لغير السنة،(4/ 500)،دار ابن حزم، بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔