سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-451 Fatwa no: 1447-451

کیا ترکہ کی زمین کی فروخت پر وارث کی خاموشی رضامندی شمار ہوگی؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ترکے کی زمین دوسرے شخص کو فروخت کر دی، حالانکہ اس نے اپنی بہنوں کو ان کا حصہ ابھی تک نہیں دیا تھا، بیچتے وقت کسی نے کچھ اعتراض نہیں کیا، اب اس بات کو کافی عرصہ گزر چکا ہے۔ تقریباً تیس سال بعد، ان میں سے ایک بہن اُس خریدار پر دعویٰ کر رہی ہے کہ اُس زمین میں اُس کا بھی حصہ ہے،سوال یہ ہےکہ کیا اس خاتون کا خریدار پر دعویٰ کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بہن نے زمین کی فروختگی کی اجازت نہیں دی تھی (خواہ فروختگی سے پہلے یا بعد میں)، تو اس وقت اگرچہ انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، تب بھی یہ خاموشی اُن کی طرف سے رضامندی شمار نہیں ہوگی، کیونکہ (لا يُنسب إلى ساكتٍ قولٌ)، لہٰذا یہ بیع اُن کے حق میں نافذ نہیں ہوئی ،لہذا وہ اپنے حصے کے مطالبے کے لیے خریدار پر دعویٰ کرنے کا حق رکھتی ہے، کیونکہ صاحبِ حق کے خاموش رہنے سے اس کا حق ختم نہیں ہوتا، بلکہ عرصہ دراز گزرنے کے بعد بھی صاحبِ حق اپنے حق کا مطالبہ کر سکتا ہے، اور جس کے ذمے حق ہے اُس پر دیانتاً فرض ہے کہ وہ اسے صاحبِ حق تک پہنچائے، خواہ کتنا ہی زمانہ گزر چکا ہو،ہاں عدالت جھوٹے دعووں کی روک تھام کے لیے کسی مخصوص مدت کے بعد ایسے مسائل کو سننے سے انکار کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، لیکن اگر فریقین ثالثی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کسی شخص کو ثالث بنائیں، تو ثالث کے لیے اس کی سماعت درست ہے، اور اگر وہ شرعی گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
تكملة حاشية ابن عابدين :
اعلم أن من القواعد الفقهية أنه لا ينسب إلى ساكت قول كما في مسائل: منها: رأى ‌أجنبيا ‌يبيع ‌ماله ولم ينهه لا يكون وكيلا لسكون المالك.
 (‌‌‌‌كتاب الاقرار،(8/ 239) دار الفكر بيروت)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي:
قال رحمه الله (باع عقارا، وبعض أقاربه حاضر يعلم البيع ثم ادعى لا تسمع) أي لا تسمع دعواه لم يعين القريب هنا، وفي الفتاوى لأبي الليث رحمه الله عينه فقال لو باع عقارا، وابنه أو امرأته حاضر يعلم به، وتصرف المشتري فيهازمانا ثم ادعى الابن أنه ملكه، ولم يكن ملك أبيه وقت البيع اتفق مشايخنا على أنه لا تسمع مثل هذه الدعوى، وهو تلبيس محض، وحضوره عند البيع، وتركه فيما يصنع إقرار منه بأنه ملك البائع، وأن لا حق له في المبيع، وجعل سكوته في هذه الحالة كالإفصاح بالإقرار قطعا للأطماع الفاسدة لأهل العصر في الإضرار بالناس، وتقييده بالقريب ينفي جواز ذلك مع الغريب.
(قوله لو باع عقارا وابنه أو امرأته حاضر) قال قاضيخان رحمه الله في كتاب الدعوى في باب ما يبطل دعوى المدعي. وفيما إذا باع الرجل شيئا بحضرة امرأته وهي ساكتة ثم ادعت بعد ذلك أنه لها اختلف المشايخ فيه قال بعضهم لا تسمع دعواها والصحيح أنها تسمع اهـ
قوله اتفق مشايخنا) أي مشايخ سمرقند وأما مشايخ بخارى فقالوا تسمع فينظر المفتي في ذلك فإن كان في أكبر رأيه أنها لا تسمع لاشتهار المدعي بالحيل والتلبيس.
وأفتى به كان حسنا سدا لباب التزوير. اهـ. فصول (قوله وتقييده بالقريب ينفي جواز ذلك مع الغريب) أي إذا رأى أجنبيا يبيع ماله فسكت ولم ينهه لا ينفذ ذلك عليه بسكوته كما تقدم في كتاب المأذون اهـ
(العقار المتنازع فيه لا يخرج من يد ذوي اليد، (6/ 222) دار الكتاب الإسلامي)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
ثم اعلم أن عدم سماع الدعوى بعد مضي ثلاثين سنة أو بعد الاطلاع على التصرف ‌ليس ‌مبنيا ‌على ‌بطلان ‌الحق في ذلك وإنما هو مجرد منع للقضاة عن سماع الدعوى مع بقاء الحق لصاحبه حتى لو أقر به الخصم يلزمه ولو كان ذلك حكما ببطلانه لم يلزمه ويدل على ما قلناه تعليلهم للمنع بقطع التزوير والحيل كما مر فلا يرد ما في قضاء الأشباه من أن الحق لا يسقط بتقادم الزمان. (2/ 4) وكذا فيها (2/ 7) :  (سئل) فيما إذا ‌ادعى ‌أخوات ‌زيد ‌عليه بحصتهن من دار أبيهن المتوفى من خمس عشرة سنة وهو معترف بأن الدار مخلفة لهم عن أبيهم فهل تسمع الدعوى؟
(الجواب) : نعم إذا كان المدعى عليه مقرا تسمع الدعوى عليه ولو طالت المدة أكثر من خمس عشرة سنة كما أفتى بذلك العلامة أبو السعود العمادي.
(كتاب الدعوى،(2/ 4) تا (2/ 7) دار المعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب