سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-41 Fatwa no: 1447-41

طلاق کے الفاظ میں اختلاف کی صورت میں کس کا قول شرعاً معتبر ہوگا؟

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
میری بہن کی شادی آج سے تقریبا چار سال پہلے ہوئی ،میری بہن ہمارے گھر آئی ہوئی تھی  ،میری بہن کے خاوند نے مورخہ 21 جون 2022ء کو اپنی بیوی کو دبئی سے فون کال کی اور کسی بات پر بحث کے نتیجے میں کہا کہ " میری طرف سے تمہیں ایک طلاق ہے " ، میری بہن نے مجھے اور میرے بہنوئی  کے سامنے اپنی زبانی اقرار کیا کہ میرے خاوند نے ٹیلی فون پر مجھے طلاق دےدی ہے یعنی ہم دو مرد اس کے گواہ ہیں ۔
 اس کے بعد اس کا شوہر اس بات سے مکر گیا کہ میں نے طلاق دی ہے ، اس نے کہا کہ 21 جون 2022ء کو میں نے اپنی بیوی کو یہ کہا تھا کہ "میں آپ کو طلاق دے دوں گا ،" اس کے بعد مورخہ 21 جولائی 2022ء کو اس نے وائس میسج کے ذریعے  بھی یہ کہا تھا کہ "میں تمہیں طلاق دے دوں گا ،" اس کا وائس میسج میرے پاس محفوظ ہے ۔
 اب گاؤں علاقہ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ میری بہن کو اپنی خاوند کے گھر بھیج دو، جناب مفتی صاحب میاں اور بیوی کے بیانات  بالکل متضاد ہیں ،آپ سے یہ فتوی لینا مقصود تھا کہ آیا ہم اپنی بہن کو اپنے خاوند کے گھر بھیج سکتے ہیں ؟اور کیاوہ آئندہ اپنے ازدواجی تعلقات بحال  رکھ سکتے ہیں ؟
تنقیح: میاں بیوی دونوں کے پاس گواہ موجود نہیں ہیں  ۔

 

جواب :

 

واضح رہے کہ جب   بیوی طلاق کا دعوی کرےاوراس کے پاس دو گواہ نہ ہوں اور شوہر طلاق دینے سے انکار کرتا ہو  تو ایسی صورت میں شوہر کی بات قسم کیساتھ معتبر ہوگی، لہذا صورت مسئولہ  میں چونکہ بیوی مدعی طلاق(طلاق کادعوی کرنے والی) اور شوہر مدعی علیہ (جس پر دعوی کیا گیا ہے) ہے اوربیوی کے پاس طلاق کے دعوی پرگواہ  نہیں ہیں جیسا کہ سوال سے واضح ہے اسلئے اس صورت میں اگر چہ قضاء قسم کے ساتھ شوہر کی بات معتبر ہوگی اور نکاح برقرار رہے گا ،البتہ اگر شوہر قسم اٹھا نے سے انکار کرے تو بیوی کی بات معتبر ہوگی اور ایک طلاق رجعی واقع ہوگی ، جس کے بعد عدت (تین ماہواریاں یا وضع حمل سے پہلے)کےدوران  شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوگا ،اور اگر شوہر نے دوران عدت رجوع نہ کیا تو دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا ، اس کے بعد اگر وہ دونوں دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے رہنا چاہتے ہوں تو دوگواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کیساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا اور اس صورت میں شوہر کو آئندہ کیلئے صرف دو  طلاقوں کا حق حاصل ہوگا ۔
كما في سنن الترمذي:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ البَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الجُمَحِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ اليَمِينَ عَلَى المُدَّعَى عَلَيْهِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ البَيِّنَةَ عَلَى المُدَّعِي، وَاليَمِينَ عَلَى المُدَّعَى عَلَيْهِ.
(بَابُ مَاجَاءَفِي أَنَّ البَيِّنَةَ عَلَى المُدَّعِي،ج3،ص618،ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
السُّنَّةَ الْمَشْهُورَةَ «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ» ) وَتَمَامُهُ فِي الْفَتْحِ. 
(مطلب:استخلاف القاضي نائبا عنه،ج5،ص401،ط:دارالفكر بيروت)
وفى النهر الفائق:
قال في (الفتح): وهو الحق, وفيه لو قال: أطلقك لم يقع إلا إذا غلب استعماله في الحال.
(باب الثلاث الصريح،ج2،ص322،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب