سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-452 Fatwa no: 1447-452

کیا زمین صرف زبانی طور پر وقف کرنے سے وقف ہو جاتی ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی پروگرام کے اندرمجمعِ عام میں یہ اعلان کرے کہ: "میں اپنے والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے اپنی زمین میں سے یہ دو کنال زمین مسجد و مدرسہ کے لیے اللہ کے راستے میں وقف کرتا ہوں" تو کیا صرف اعلان کر دینے سے اس شخص پر یہ زمین وقف کرنا لازم ہو جائے گا؟ اور اگر لازم ہو جائے تو بعد میں وہ شخص زمین وقف کرنے سے انکار کرے، یا زمین وقف نہ کرے، تو شریعت کی طرف سے اس شخص پر کیا حکم یا سزا ہے؟ اور اگر دو کنال میں سے صرف آٹھ مرلے وقف کرے اور باقی زمین وقف نہ کرے، تو کیا ایسا کرنا درست ہوگا یا نہیں؟
جواب :

سوال میں ذکرکردہ  الفاظ"میں اپنے والدین کے ایصال ِ ثواب کے لئے اپنی زمین میں سے یہ دو کنال زمین مسجد و مدرسہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے راستے  میں وقف کرتا ہوں"سے وقف تام  ہوچکا ہے  ؛کیونکہ امام ابویوسف ؒ، ائمہ ثلاثۃ  رحمہم اللہ اور اکثر علماء ؒکے نزدیک صرف زبانی طورپر   وقف کرنےسے بھی وقف صحیح ہوجاتا ہے اور یہی مفتیٰ بہ قول ہے ،چنانچہ  ہندیۃ (2/ 351)میں مذکورہے : ''وإذا كان الملك يزول عندهما ‌يزول ‌بالقول ‌عند ‌أبي ‌يوسف رحمه الله تعالى وهو قول الأئمة الثلاثة وهو قول أكثر أهل العلم وعلى هذا مشايخ بلخ وفي المنية وعليه الفتوى كذا في فتح القدير وعليه الفتوى كذا في السراج الوهاج'' لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب واقف نے دو کنال زمین مسجد و مدرسہ کے لیے وقف کر دی تو اس سے اس کی ملکیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ،اب واقف کو نہ تو اس زمین میں کسی قسم کا تصرف کرنے کا حق ہے اور نہ اسے یہ اختیار ہےکہ وہ صرف آٹھ مرلے وقف کرے اور باقی زمین اپنے پاس رکھ لے،اگر وہ ایسا کرے گا تو شرعاً وہ  گناہگار ہوگا، کیونکہ وقف کے بعد زمین اللہ کی ملک ہو چکی ہے۔
الفتاوى العالمكيرية:
‌وقف ‌المشاع ‌المحتمل للقسمة لا يجوز عند محمد - رحمه الله تعالى - وبه أخذ مشايخ بخارى وعليه الفتوى كذا في السراجية والمتأخرون افتوا  بقول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه يجوز وهو المختار وكذا في خزانة المفتين
(فصل في وقف المشاع (2/ 365)ط: دار الفكر بيروت)
درر الحكام شرح غرر الأحكام:
وكذا لو كان الواقف واحدا فجعل نصف الأرض وقفا على الفقراء مشاعا ‌والنصف ‌الآخر ‌على ‌أمر ‌آخر جاز وهذا كله على قول محمد أما على قول أبي يوسف يجوز الوقف في كلها؛ لأن الوقف عنده يجوز غير مقبوض وغير مقسوم، وبعض مشايخ زماننا أفتوا بقول أبي يوسف وبه يفتى. 
(كتاب الوقف،(2/ 134)ط: دار إحياء الكتب العربية)
الدر المختار مع ردالمختار :
(ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز وفي غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه ابن كمال (ويفرز) فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني (ويجعل آخره لجهة) قربة (لا تنقطع) هذا بيان شرائطه الخاصة على قول محمد،لأنه كالصدقة، وجعله أبو يوسف كالإعتاق واختلف الترجيح، والأخذ بقول الثاني أحوط وأسهل بحر وفي الدرر وصدر الشريعة وبه يفتى وأقره المصنف.
(قوله: واختلف الترجيح) مع التصريح في كل منهما بأن الفتوى عليه لكن في الفتح أن قول أبي يوسف أوجه عند المحققين.
(مطلب في وقف المرتد والكافر،(4/ 348)ط: دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأجمعوا على أن من جعل داره أو أرضه مسجدا يجوز، وتزول الرقبة عن ملكه لكن عزل الطريق وإفرازه والإذن للناس بالصلاة فيه، والصلاة شرط عند أبي حنيفة ومحمد، حتى كان له أن يرجع قبل ذلك، وعند أبي يوسف تزول الرقبة عن ملكه بنفس قوله: ‌جعلته ‌مسجدا، وليس له أن يرجع عنه على ما نذكره.
(فصل في شرائط جواز الوقف،(6/ 219)ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب