نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں شوہر کا اپنی بیوی سے یہ کہنا "اگر تم گھر سے باہر گئی تو تجھے طلاق" یہ طلاق کوگھر سے باہر نکلنے کی شرط کے ساتھ معلق کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں تعلیقِ طلاق کہا جاتا ہےاور تعلیق یمین کے حکم میں ہوتی ہے اور یمین سے رجوع نہیں ہوسکتا یعنی اگر شوہر اس تعلیق کو ختم کرنا چاہے تو ختم نہیں کرسکتا ،( واليمين لا يقبل الرجوع بإجماع الأمة) جیسا کہ شیخ الحدیث حضرت مفتی اسامہ پالنپوری صاحب نے اپنی کتاب "فقہی ضوابط" (1/172) (جس کی شیخ الحدیث فقیہ العصر حضرت سعید احمد پالن پوری صاحبؒ نے نظر ثانی فر مائی ہے) میں لکھا ہے:
ضابطہ: تعلیق یمین کا حکم رکھتی ہے ، پس اس کو باطل کرنے کا اختیار کسی کو نہیں حتی کہ شوہر کو بھی نہیں ۔
تفریع :پس اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا : '' اگر تو میکے گئی تو تجھے طلاق " اب شوہر اجازت دیتا ہے اور بیوی بھی جانا چاہتی ہے تو یہ اجازت دینا صحیح نہیں ، اگر بیوی میکے جائے گی تو طلاق واقع ہوجائے گی ؛ کیونکہ اس شرط کو ختم کرنا یمین کو باطل کرنا ہے اور یمین کا باطل کرنا حالف کے بھی اختیار میں نہیں ہے ، پس شوہر اس تعلیق کو باطل نہیں کر سکتا (جیسا کہ طلاق دینے کے بعد طلاق کو باطل نہیں کرسکتا) ۔
لہذامذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں شوہر اپنی لگائی ہوئی شرط (تعلیق) کو ختم نہیں کر سکتااور جب بھی وہ شرط پائی جائے گی (یعنی بیوی گھر سے باہر جائے گی) تو طلاق واقع ہو جائے گی، اگر ایک طلاق معلق کی تھی تو ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر تین طلاقیں معلق کی تھیں تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، مزید یہ کہ تعلیق سے طلاق صرف ایک مرتبہ واقع ہوگی، یعنی ایک بار شرط پوری ہونے کے بعد دوبارہ اسی تعلیق سے طلاق واقع نہیں ہوگی، الا یہ کہ شوہر کے الفاظ تکرار کے متقاضی ہوں، مثلاً: "کلما خرجتِ فأنتِ طالق" (جب جب تم نکلو گی، تمہیں طلاق ہے) تو اس صورت میں ہر بار شرط پائے جانے پر نئی طلاق واقع ہوگی ۔
الدر المختار مع حاشية ابن عابدين:
(اليمين) لغة القوة. وشرعا (عبارة عن عقد قوي به عزم الحالفعلى الفعل أو الترك) فدخل التعليق فإنه يمين شرعا
(قوله فإنه يمين شرعا) لأنه يقوى به عزم الحالف على الفعل في مثل إن لم أدخل الدار فزوجته طالق، وعلى الترك في مثل إن دخلت الدار. قال في البحر: وظاهر ما في البدائع أن التعليق يمين في اللغة أيضا، قال لأن محمدا أطلق عليه يمينا وقوله حجة في اللغة.
(كتاب الأيمان (3/ 703) دار الفكر – بيروت)
النهاية في شرح الهداية :
لأن فيه تعليق وقوع الطلاق بتطليقها كان يمينا؛ لأن كل تعليق يوجد من الزوج في الطلاق هو يمين؛ لأن الطلاق مما يحلف به فكان يمينا، واليمين لا يقبل الرجوع بإجماع الأمة؛ لأن الأيمان تعقد للزجر عن الأفعال أو للحمل على الأفعال على وجه التأكيد. ولو قبلت الرجوع ما أفادت فائدتها.
(فصل في المشيئة (8/ 95 بترقيم الشاملة آليا)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع»:
وذكر محمد في الجامع في رجل له امرأتان فقال لإحداهما أنت طالق إن دخلت هذه الدار لا بل هذه فإن دخلت الأولى الدار طلقتا ولا تطلق الثانية قبل ذلك؛ لأن قوله لإحداهما أنت طالق إن دخلت هذه الدار تعليق طلاقها بشرط الدخول، وقوله: " لا " رجوع عن تعليق طلاقها بالشرط، وقوله " بل " إثبات تعليق طلاق هذه بالشرط، والرجوع لا يصح، والإثبات صحيح فبقيت فيتعلق طلاقها بالشرط.
(فصل في حكم اليمين (3/ 34) دار الكتب العلمية)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله (ولا يملك الرجوع) أي لا يملك الزوج الرجوع بعد قوله طلقي نفسك حتى لا يصح نهيه؛ لأن فيه معنى اليمين إذ هو تعليق الطلاق بتطليقها واليمين تصرف لازم لا يصح الرجوع عنها بخلاف ما إذا قال طلقي ضرتك؛ لأنه توكيل وإنابة، وهذا لأنه أمر بإيقاع الطلاق والأمر لا يقتضي الائتمار على الفور كأوامر الشرع وكسائر الوكالات ويقبل الرجوع كي لا يعود على موضوعه بالنقص، وهذا لأنه إنما استعان بغيره في حاجته ليكون التصرف له لا عليه وربما تزول الحاجة فلو ألزمناه يلحقه ضرر أو يلحقه منة من جهته وهو ضرر أيضا فإن قيل لم كان تمليكا ويمينا إذا أمرها بتطليق نفسها وتوكيلا إذا أمرها بتطليق غيرها أو أمر أجنبيا بذلك حتى صح الرجوع في الثاني دون الأول قلنا المالك هو الذي يتصرف لنفسه والوكيل لغيره فإذا فوض إليها طلاق نفسها تكون مالكة لكونها تتصرف لنفسها وفيه معنى التعليق؛ لأن فيه تعليق وقوع الطلاق بتطليقها فكان يمينا وهي لا تقبل الرجوع ولا خيار في التمليك بعد القيام فعملنا بهما وإذا فوض إليها طلاق غيرها تكون وكيلة لكونها تعمل لغيرها والتوكيل لا يقتصر على المجلس؛ لأن غرضه الإعانة وقد لا تحصل في المجلس ويملك الرجوع كي لا يلحقه الضرر.
(فصل في المشيئة (2/ 226) دار الكتاب الإسلامي)
فتح باب العناية بشرح النقاية:
(ولا يرجع) من فوض الطلاق إلى امرأته (عنه) لأن التفويض فيه معنى اليمين، فإنه تعليق طلاق المرأة بتطليقها، واليمين تصرف لازم فلا يصح الرجوع عنها.
(فصل في تفويض الطلاق (2/ 112) دار الأرقم بن أبي الأرقم)
«الأصل» لمحمد بن الحسن:
ولو قال لها: أنت طالق إن دخلت هذه الدار، لم يبطل ذلك أبداً، وكانت طالقاً متى ما دخلت الدار.
(باب المساكنة في كفارة اليمين(2/ 302) دار ابن حزم، بيروت)
البناية شرح الهداية:
(لأن فيه) ش: أي في قوله طلقي نفسك م: (معنى اليمين، لأنه تعليق الطلاق بتطليقها) ش: فيكون يمينا، لأن الطلاق مما يحلف، وفي كل تعليق معني اليمين لما فيه من المنع والحمل م: (واليمين تصرف لازم) ش: لا يقع الرجوع بإجماع الصحابة، لأن اليمين يعقد للزجر والحل على وجه التأكيد، فلو طلبت الرجوع ما أفادت فائدتها.
(فصل في المشيئة(5/ 393) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔