نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںتمہیداً یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ طلاق اگر کسی شرط پر معلق کی جائے تو یہ تعلیق صرف اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ شرط فی الحال موجود نہ ہو، لیکن مستقبل میں اس کے واقع ہونے کا امکان ہو،ایسی صورت میں طلاق اس شرط کے تحقق کے بعد واقع ہوتی ہے، فوراً واقع نہیں ہوتی، جیسا کہ فقہی اصول میں کہا گیا ہے: "وشرط صحته ( التعلیق) كون الشرط معدوما على خطر الوجود" یعنی تعلیق کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ شرط اس وقت موجود نہ ہو، لیکن اس کے واقع ہونے کا امکان ہو،مثال کے طور پر اگر شوہر اپنی بیوی سے کہے: "اگر تم میکے گئی تو تمہیں طلاق ہے" چونکہ شوہر نے طلاق کو بیوی کے میکے جانے پر معلق کیا ہےاور"میکے جانا" ایسی شرط ہے جو فی الحال واقع نہیں ، بلکہ آئندہ ممکن ہے، اس لیے جب بیوی میکے جائے گی تو طلاق واقع ہوگی، اس سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ لیکن اگر شرط ایسی ہو جو پہلے سے یقینی طور پر موجود ہو، جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "اگر آسمان ہمارے اوپر ہے تو تجھے طلاق ہے " تو یہ درحقیقت شرط نہیں، بلکہ تنجیز ہے( یعنی غیر معلق طلاق ہے ) اور ایسی صورت میں طلاق فوراً واقع ہو جاتی ہے؛ کیونکہ شرط پہلے ہی پائی جا رہی ہے۔ اسی اصول کے مطابق اگر کسی شخص نے ماضی میں کوئی کام کیا ہو (چاہے وہ اسے یاد ہو یا نہ ہو) اور بعد میں وہ یہ کہے کہ: "اگر میں نے وہ کام کیا ہو تو میری بیوی کو تین طلاق ہیں"تو چونکہ وہ کام ہو چکا ہے، شرط موجود اور محقق ہے، اس لیے یہ قول بھی تنجیز کے حکم میں ہے، اور تین طلاقیں فوراً واقع ہو جائیں گی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہو چکا ہے، اور حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، اب دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں الاّ یہ کہ بیوی پہلے خاوند کی عدت ختم ہونے کے بعد کسی اور سے نکاح کر کے اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا کرے، پھر وہ شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے یا وفات پا جائے اور بیوی اس دوسرے خاوند کی عدت گزار لے تب وہ پہلے شوہر سے نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتی ہے۔
النهاية في شرح الهداية:
التعليق بشرط كائن تنجيز؛ أي: بشرط ثابت موجود كما إذا قال: امرأتي طالق إن كان زيد في الدار والحال أنه في الدار يقع الطلاق.
(كتاب الطلاق، فصل في المشيئة (8/ 100) بترقيم الشاملة آليا)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو قال لها: أنت طالق إن شئت فقالت: شئت إن كان كذا فإن علقت بشيء موجود نحو ما إذا قالت: إن كان هذا ليلا أو نهارا وإن كان هذا أبي وأمي أو زوجي ونحو ذلك يقع الطلاق؛ لأن هذا تعليق بشرط كائن، والتعليق بشرط كائن تنجيز.
(كتاب الطلاق ،فصل في قوله طلقي نفسك(3/ 122) دار الكتب العلمية)
الأشباه والنظائر - ابن نجيم:
وشرط صحة التعليق؛ كون الشرط معدوما على خطر الوجود فالتعليق بكائن تنجيز.
(فائدة: من ملك التنجيز ملك التعليق. (ص318) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔