سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-455 Fatwa no: 1447-455

گاؤں میں جمعہ کی پڑھی ہوئی نمازوں کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
مفتیانِ کرام سے عرض ہے، ہمارا گاؤں جو کہ تقریباً 450 افراد پر مشتمل ہے، جس میں دو مساجد ہیں، ان میں سے ایک جامع مسجد ہے جہاں پر جمعہ بھی پڑھی جاتی ہے،لڑکوں کے لیے پرائمری تک ایک پرائیویٹ اور ایک گورنمنٹ سکول ہے، اور چار کریانہ دکانیں ہیں، دو ڈسپنسرڈاکٹرز ہیں، ایک عیدگاہ ہے، گاؤں کا اپنا قبرستان بھی ہے، لڑکوں کے لیے مڈل اور ہائی لیول تک سکول گو کہ قریب جو شہر ہے اور بازار، ان کے مسافت گاؤں سے کم از کم پانچ یا چھ کلومیٹر ہے، لیکن اتصال نہیں ہے، درمیان میں کئی سارے کھیت اور میدان ہیں،اس طرح ایک نائی کی دکان اور ایک روٹیوں کا تندور بھی ہے، ایک عدد زرعی ادویات کا دکان بھی ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ: 1. کیا اس گاؤں میں نمازِ جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ 2. اگر جائز نہیں اور ابھی تک جمعہ پڑھا جا چکا ہے، تو فرض ظہر جو کئی سالوں سے فوت ہوئی ہے، اس کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں؟ 3. جمعہ کے ناجائز ہونے کی صورت میں، کیا نمازِ عید سے پہلے قربانی جائز ہوگی یا نہیں؟
جواب :

(۱)۔۔۔حضرات ائمہ  احناف رحمہم اللہ  کے نزدیک جمعہ کے صحیح ہونے کے لئےشہر، فناء شہر یا قصبہ کا ہونا شرط ہےاورقصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں تقريباً چار ہزار کے قریب آبادی ہو  اور اس میں ایسا بازار بھی ہو جس میں کم از کم چالیس پچاس دکانیں متصل ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہواور اس میں روز مرہ  کی ضروریات کی ہر باآسانی  ملتی ہو  نیز وہاں ڈاکخانہ،چوکی ،تھانہ  اور ڈاکٹر بھی ہوں اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے معروف ہوں،  لہذا جس قصبہ میں  مذکورہ شرائط نہ پائی جاتی ہوں ، وہاں  جمعہ قائم کرنا درست نہیں، سوال میں ذکرکردہ تفصیل اگر واقعتاً  درست ہےتو اس کے مطابق  آپ کا گاؤں قصبہ یا بڑا گاؤں نہیں ہےبلکہ چھوٹا گاؤں ہے،جہاں جمعہ وعیدین کی نمازیں ادا کرنا جائز نہیں  ہےبلکہ اس میں جمعہ کی بجائے ظہرکی نماز پڑھنا لازم ہے ۔
کما في مصنف ابن أبي شيبة: 
5099 حدثنا عباد بن العوام ، عن حجاج ، عن أبي إسحاق ، عن الحارث  عن علي  قال : لا جمعة ، ولا تشريق ، ولا صلاة فطر ، ولا أضحى ، إلا في مصر جامع ، أو مدينة عظيمة.
)ج:2،ص:101(
وفي بدائع الصنائع:
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتىلا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا 

في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها
)ج:1،ص:259،ط: دارالكتب العلمية)
(۲)۔۔۔سوال میں ذکر کردہ حالات  کے پیشِ نظر چونکہ آپ کے گاؤں میں حضراتِ حنفیہ ؒکے مطابق   جمعہ کی نماز پڑھنا درست نہیں، لہٰذا آپ لوگوں پر لازم ہے کہ اس گاؤں میں جمعہ کی نماز پڑھنے سے اجتناب کریں اور جمعہ کے دن ظہر کی نماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کریں اوراب تک  آپ لوگوں نے مذکورہ گاؤں میں جمعہ  کی جتنی نمازیں پڑھی ہیں تو ان کی قضاء  آپ لوگوں  پر لازم ہے۔
البتہ اگر  آپ لوگوں نے کسی مستند عالمِ دین  سے پوچھ کر مذکورہ گاؤں میں جمعہ کی نماز پڑھنا شروع کی تھی اور  چاروں مذاہب میں سے کسی کے مطابق مثلاً:  فقہ شافعی کے مطابق   یہاں جمعہ پڑھنا جائز ہو سکتا ہو، توچونکہ پچھلے کئی سالوں کی نمازوں کی قضاء  کرنے میں حرج معلوم ہوتا ہےاس لیے اگر  اب تک پڑھی ہوئی نمازوں کی قضاء نہ  کی جائے  تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے،تاہم احتیاط کا تقاضا یہ  ہے کہ آپ میں سے جو لوگ جتنی نمازوں کی قضاء کرسکتے ہیں، وہ قضاء کرلیں،اور آئندہ اپنے گاؤں میں  جمعہ کے دن ظہر کی نمازباجماعت ادا کرنے  کا اہتمام کریں۔
وفي التاتارخانیة:
2339: وذکر السید الامام ابو القاسم السمرقندی فی کتاب الملتقط :اذا وقعت صلاة الامام فاسدة،ینبعی ان یخبر الناس الذین صلوا خلفه ،لیعیدوا صلاتهم،فان غابوا یکتب الیهم من یامرهم بذالک، لیخرج هو وهم من العهدة، الا اذا کان فی فصل مجتهد فیه، جاز ان یاخذ فی تلک الصلاة بقول من یقول بالجواز، کما حکی ان ابا یوسف اغتسل یوم الجمعة وصلی ببغداد،فوجدوا فی تلک البئر فارة میتة، فاخبر بذالک فقال :ناخذ بقول اخواننا من اهل المدینة  تمسکا بالحدیث المروی عن النبی علیه السلام انه قال ’’اذا بلغ الماء قلتین لا یحتمل خبثا‘‘اما اذا کان الفساد بامر حتم یامر الناس بالاعادة.
(ج:2،ص:252)
(3)۔۔۔ جواب نمبر (1) ميں ذكر كرده  تفصیل کے مطابق چونکہ نمازِ جمعہ و عیدین کے صحیح ہونے کے لیے شہر، فناءِ  شہر یا قصبہ ہونا شرط ہے اور سوال میں ذکر کردہ گاؤں میں یہ شرائط مفقود ہیں، اس لیے وہاں جمعہ و عیدین قائم کرنا شرعاً درست نہیں، لہٰذا ایسی صورت میں نمازِ عید سے پہلے قربانی کرنا جائز ہے، کیونکہ جب عید کی نماز ہی درست نہیں، تو اس سے پہلے قربانی کرنے پر ممانعت کا حکم لاگو نہیں ہوگا۔
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي:
قال: "ووقت الأضحية يدخل بطلوع الفجر من يوم النحر، إلا أنه لا يجوز لأهل الأمصار ‌الذبح ‌حتى ‌يصلي ‌الإمام ‌العيد، فأما أهل السواد فيذبحون بعد الفجر". والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام: "من ذبح شاة قبل الصلاة فليعد ذبيحته، ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين" وقال عليه الصلاة والسلام: "إن أول نسكنا في هذا اليوم الصلاة ثم الأضحية" غير أن هذا الشرط في حق من عليه الصلاة وهو المصري دون أهل السواد، لأن التأخير لاحتمال التشاغل به عن الصلاة، ولا معنى للتأخير في حق القروي ولا صلاة عليه.
(ج:4،ص:357)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب