نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ عرف میں پیسوں کو ہاتھ نہ لگانے کا مطلب استعمال کرنا ہوتا ہے ،لہذا صورت ِ مسئولہ میں شوہر کے یہ کہنے" اگرمیں گھر میں پڑے ان پیسوں کو ہاتھ لگاؤ ں تو تین شرطوں کے ساتھ طلاق " سے تین طلاق معلق ہوگئیں ہیں، لہذا جب بھی شوہر ان پیسوں کا استعمال کرے گا یا کسی کو اپنا وکیل بنا کر استعمال کروائےتو اس صورت میں بیوی پر تین طلاق واقع ہو کرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی اور حلالہ کے بغیر پھر دونوں کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکے گا ۔
طلاق سے بچنے اور ان پیسوں کے استعمال کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہےکہ کہ شوہر کی طرف سے وکیل بنائے بغیر کوئی شخص خود سے کسی اور سے قرض لے، اور پھر گھر میں موجودان پیسوں سے اس قرض کی ادائیگی کرے، اس طرح اگر شوہر وہ قرض کی رقم استعمال کرے تو طلاق واقع نہ ہو گی،لہذا شوہر کسی کو(خواہ بیوی ہو یا کسی اور کو ، عالم دین ہو تو زیادہ بہتر ہے ) وکیل بنائے بغیر اس کے سامنے یہ صورت ِ حال بیان کرےجس سے سامنے والا بندہ خود سمجھ جائے گا اور وہ یہ طریقہ اختیار کرے گا ، لیکن اس میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ شوہر اسے وکیل نہ بنائے یعنی اسے یہ نہ کہے کہ آپ اس طرح کریں، بلکہ خود اپنی طرف سے ساری کاروائی انجام دے ، اس طرح کرنے سے طلاق بھی واقع نہیں ہوگی اور پیسے بھی استعمال کر سکیں گے۔
الفتاوى العالمكيرية:
قال لامرأته: إنك تسرقين من دراهمي فقالت: تبت فقال الرجل: لو رفعت من دراهمي فأنت طالق فوجدت المرأة صرة مطروحة حين كنست الدار فرفعتها ووضعتها في ناحية وأخبرت زوجها إن رفعت لا لتحبس عنه أرجو أن لا تطلق قال لها: إن رفعت من كيسي دراهم فأنت طالق فحلت رأس الكيس وأمرت ابنتها فرفعت قال في الكتاب: أخاف أن تطلق اتهم امرأة برفع دراهمه فقال لها بالفارسية اكرازدرم من توبرداري فأنت طالق ثلاثا ثم إنها وجدت دراهم زوجها في منديل فرفعت وأعطت امرأة وقالت لها: ارفعي منها شيئا فرفعت المأمورة بعض الدراهم ودفعته إلى الآمرة وقع الطلاق قال لها: إن سرقت من دراهمي إلى سنة فأنت طالق ثم دفع إليها دراهم لتنظر إليها فرفعت من ذلك شيئا بغير علم الزوج ثم قال لها الزوج: أرفعت من هذه الدراهم شيئا؟ فقالت: نعم لا على وجه السرقة وردت على الزوج إن ردت بعدما فارقته طلقت وإن ردت قبل أن تفارقه لا تطلق وإن أنكرت طلقت أيضا امرأة رفعت من كيس زوجها درهما واشترت لحما وخلط اللحام الدرهم بدراهمه فقال لها الزوج: إن لم تردي علي ذلك الدرهم اليوم فأنت طالق ثلاثا فمضى اليوم وقع الثلاث والحيلة في ذلك أن تأخذ المرأة كيس اللحام فتسلمه إلى الزوج فقد بر في يمينه كذا في الفتاوى الكبرى.
(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا (1/ 436) دار الفكر بيروت)
درر الحكام شرح غرر الأحكام:
الأصل أن الألفاظ المستعملة في الأيمان مبنية على العرف عندنا.
(باب حلف الفعل ، (2/ 44) دار إحياء الكتب العربية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔