نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ لفظ ِ ’’آزاد ‘‘ کے استعمال کے اعتبار سے تین صورتیں بنتی ہیں :
(1)...... ایک صورت یہ ہے کہ کلام میں طلاق کے خلاف کا کوئی ایسا قرینہ پایا جائے جس سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ شوہر کی مراد لفظ ِ آزاد‘‘ سے طلاق نہیں ہے، مثلاً: شوہر اپنی بیوی سے یوں کہے کہ ’’میری طرف سے تم آزاد ہو چاہے میرے پاس رہو یا اپنے گھر ‘‘یا ’’ شوہر بیوی کو کسی معاملہ میں ( مثلاً : اولاد کی تربیت کرنے کے معاملہ میں یا گھر میں ساتھ رہنے کے حوالے سے یا بازار سے سودا لینے کے معاملہ میں ) مخاطب کرکے کہےکہ تو اس معاملہ میں میری طرف سے آزاد ہو ‘‘یا شوہر یہ کہے کہ ’’تو ہر قسم کپڑا پہننے میں میری طرف سے آزاد ہو ‘‘ان جملوں میں واضح قرینہ موجود ہے جس سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ شوہر کی مراد لفظ ِ ’’آزاد‘‘ سے طلاق نہیں ہے ، لہذا اس صورت میں لفظِ ’’آزاد ‘‘ نہ صریح ہے اور نہ کنایہ ،بلکہ یہ لغو ہے اور اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
(3)......دوسری صورت یہ ہے کہ جب کلام میں طلاق کا قرینہ موجود ہو یا طلاق کا قرینہ تو موجود نہ ہو لیکن طلاق کے خلاف پر بھی قرینہ موجود نہ ہو مثلاً : شوہر یہ کہے کہ’’ میں تجھے اپنی زندگی سے آزاد کرتا ہوں ‘‘يا ’’میں نے تجھے نکاح سے آزاد کیا ‘‘يا شوہر اولاد كو مخاطب كركے یہ كہےکہ’’ میں نے تمہاری ماں کو نکاح کے بندھن سے آزادکردیا ‘‘یا ’’تو آزاد ہے ‘‘ ‘وغیرہ ،وغیرہ،اس صورت میں لفظ ِ ’’آزاد‘‘ طلاق کے لئے صریح ہوگا اور اس سے طلاق ِ رجعی واقع ہوگی (اگر چہ طلاق کی نیت نہ ہو ) ، کیونکہ اگر طلاق کا قرینہ موجود ہو تو اس صورت میں طلاق کے لئے صریح ہونا تو واضح ہے ، لیکن اگر طلاق کا قرینہ نہ ہو یا طلاق کے خلاف کا کوئی قرینہ نہ ہو تو چونکہ آج کل عرف میں لفظِ’’آزاد‘‘ کا طلاق کے لئے استعمال ہونابہت زیادہ ہوچکا ہے اس لئے جب طلاق کے خلاف کا کوئی قرینہ نہ ہو تو عرف کی وجہ سے یہ سمجھا جا ئے گا کہ اس سے طلاق دینا ہی مراد ہے، لہذا اس صورت میں بھی یہ طلاق کے لئے صریح ہوگا اور بغیر نیت کے بھی اس سے طلاق رجعی واقع ہوگی ۔
(3) .....تیسری صورت یہ ہے کہ کہ جب لفظ ِ ’’آزاد ‘‘کو اس طرح استعمال کیا گیا ہو کہ اس کا ایسا استعمال طلاق کے لئےمتعارف نہ ہو (یعنی عام طور پر لوگ اسے طلاق کے لئے استعمال نہ کرتے ہو )جس کا اندازہ شوہر کے کلام کے سیاق وسباق سے کیا جاسکتا ہے ، مثلاً : کوئی شخص اپنی آزاد خیال بیوی کو مخاطب کرکے یہ کہے کہ ’’چونکہ آزاد خیالی آپ کے مزاج کا حصہ بن گئی ہےاس سے چھٹكارا پانا مشکل ہے اس لئے میں بھی تجھے آزاد کرتا ہوں‘‘ اس جملہ کا ایسا استعمال طلاق کے لئے متعارف نہیں ہے کیونکہ اس میں آزاد خیالی کے لیے آزاد کرنے کا معنیٰ متبادر الی الذہن ہے(یعنی گویا کہ شوہر اس کو اباحت افعال وتخییر دینا چاہتا ہےکہ جو کرنا چاہو کرلوں ) لیکن اس میں یہ احتمال بھی کہ شوہر اس کی آزاد خیالی سے تنگ آگیا ہو اور اس کو نکاح سے آزاد کرنے کے لئے مذکورہ جملہ کہا ہو ، اس لئے اس صورت میں یہ کنایات میں سے ہوگا(جیسا کہ اپنی اصل وضع کے اعتبار سے یہ کنایہ ہی ہے )اور اس صورت میں طلاق کے وقوع کے لئے نیت کی ضرورت ہوگی ، لہذا اگر شوہر کی نیت طلاق کی ہو تو طلاق بائن واقع ہوگی ورنہ طلاق واقع نہیں ہوگی، نیز اس صورت میں شوہر اگر مذکورہ جملہ (جو طلاق کے لئے متعارف نہ ہو ) کو ایک سے زائد بار کہے تو اس سے’’البائن لايلحق البائن‘‘ کے قاعدہ کے مطابق صرف پہلی بار کہنے کی وجہ سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی ، مزید طلاقیں واقع نہیں ہوں گی یعنی دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
خلاصہ یہ کہ لفظ ِ’’ آزاد ‘‘اپنے تينوں احتمالات میں سے پہلی صورت میں لغو ہے، دوسری صورت میں صریح رجعی ہے ، تیسری صورت میں کنایہ بائن ہے ۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ صریح ہونے کی صورت میں صریح بائن اور صریح رجعی میں سے کونسا موقف راجح ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے (دارالافتاء جامعة العلوم الاسلامية سوهان اسلام آباد ) کے نزدیک راجح موقف یہ ہےکہ یہ صریح بائن نہیں ہے بلکہ صریح رجعی ہے ، اس لئے لحوق (یعنی متعدد بار طلاق دینے کی صورت میں بعد والی طلاقیں پہلے والی طلاق سے لاحق ہوکر واقع ہوں گی یا نہیں؟) کے مسئلہ میں اس پر صریح بائن کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ صریح رجعی کا حکم لگایا جائےگا، لہذا ایک سے زائد بار یہ الفاظ کہنے کی صورت میں طلاق سابق سے لحوق ہوگا یعنی دو یا تین طلاقیں واقع ہوسکتی ہیں ، لہذا اگر کوئی شخص تین بار اپنی بیوی کو یہ کہے کہ ’’میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ‘‘’’میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ‘‘’’میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ‘‘تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر قضاءً تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی؛ كيونکہ لفظ ِ’’ آزاد ‘‘مذکورہ صورت میں صریح رجعی ہے اور صریح رجعی کے بعد دوسری طلاق (خواہ رجعی ہو یا بائن) لاحق ہو سکتی ہے، لہذ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین بار یہ الفاظ کہے کہ ’’میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ‘‘ تو طلاق ِ ثانی اور ثالث کا پہلی طلاق سے لحوق ہوگااور بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
لیکن اگر لفظ ’’ِ آزاد‘‘ کو صریح رجعی کے بجائے صريح بائن مانا جائے(جیسا کہ بعض دوسرے حضرات کا موقف ہے ) تو دوسری یا تیسری بار یہ الفاظ کہنے سے مزید طلاقیں واقع نہیں ہوں گی ؛ کیونکہ ایسا صریح بائن جو اپنی اصل کے اعتبار سے کنایہ ہو ، وہ بائن ِسابق سے لاحق نہیں ہوتا اور یہ جو فقہی ضابطہ ہے کہ ’’البائن لايلحق البائن ‘‘اس میں دوسری بائن (جو لاحق نہیں ہوتی ) سے مراد وہ بائن ہے جو اصل وضع کے اعتبار سے کنایہ ہو اگرچہ عرف کی وجہ سے صریح بن گیا ہو اور ظاہر ہے کہ کہ لفظ ِ ’’آزاد ‘‘اپنی اصل وضع کے اعتبار سے کنایہ ہے اور غلبۂ ِ عرف کی وجہ سے صریح بن گیا ہے ، لہذا اگر اس کو صریح بائن مانا جائے تو طلاقِ ثانی اور ثالث لاحق نہیں ہوں گی ، لیکن ہمارے نزدیک یہ صریح بائن نہیں ہے بلکہ صریح رجعی ہے ، صریح رجعی یا صریح بائن کے فرق سے لحوق کے مسئلہ پر بھی اثر ہوگا ۔واضح رہے کہ مذكوره بالا تفصیل میں ضمنا ً تمام سوالات کے جوابات تقریبا ًآچکے ہیں اس لئے الگ سے جوابات ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
حاشية ابن عابدين:
وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.
(کتاب الطلاق ،باب الكنايات(3/ ٢٩٩)، دار الفكر - بيروت)
الفتاوى العالمكيرية:
والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة وما كان بالفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام كذا في البدائع. إذا قال الرجل لامرأته: بهشتم ترا اززني فاعلم بأن هذه اللفظة استعملها أهل خراسان وأهل عراق في الطلاق وأنها صريحة عند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - حتى كان الواقع بها رجعيا ويقع بدون النية. وفي الخلاصة وبه أخذ الفقيه أبو الليث وفي التفريد وعليه الفتوى كذا في التتارخانية.
(کتاب الطلاق،الفصل السابع .. بالألفاظ الفارسية (1/ 379)، دار الفكر بيروت)
الفتاوى العالمكيرية :
الطلاق الصريح يلحق الطلاق الصريح بأن قال أنت طالق وقعت طلقة ثم قال أنت طالق تقع أخرى ويلحق البائن أيضا بأن قال لها أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال لها أنت طالق وقعت عندنا والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح بأن قال لها أنت طالق ثم قال لها أنت بائن تقع طلقة أخرى ولا يلحق البائن البائن بأن قال لها أنت بائن ثم قال لها أنت بائن لا يقع إلا طلقة واحدة بائنة لأنه يمكن جعله خبرا عن الأول وهو صادق فيه فلا حاجة إلى جعله إنشاء لأنه اقتضاء ضروري.
(کتاب الطلاق،الفصل الخامس فی الکنایات فی الطلاق(1: 377) دار بيروت)
حاشية ابن عابدين:
(قوله أو أبنتك بتطليقة)عطف على بائن الثانية أي أنت بائن أبنتك بتطليقة.اهح وأشار به إلى أنه لا يشترط اتحاد اللفظين فشمل ما إذا كان الأول بلفظ الكناية البائنة أو الخلع أو الطلاق الصريح إذا كان على مال أو موصوفا بما ينبئ عن البينونة كما علم مما قدمناه بعد كون الثاني بلفظ الكناية البائنة كالخلع ونحوه مما يتوقف على النية ولو باعتبار الأصل كأنت حرام بخلاف الكناية الرجعية فإنها في حكم الصريح فتلحق البائن
(کتاب الطلاق،باب الکنایات (3/ 310)،دار الفكر بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔