نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ اگر مبیع بائع کے قبضہ میں ہو اور مشتری کو قبضہ دینے سے پہلے وہ ہلاک ہو جائے تو اس کا نقصان اور ضمان شرعاً بائع ( بیچنے والے )کے ذمہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں مشتری کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں، اگرچہ فریقین نے باہمی رضامندی سے یہ شرط طے کی ہو کہ ہلاکت کی صورت میں مشتری ذمہ دار ہوگا؛ کیونکہ ضمان کی منتقلی کے لیے قبضہ شرط ہے، بغیر قبضہ کے محض یہ معاہدہ کرنا کہ ہلاکت کی صورت میں مشتری ذمہ دار ہوگا، شرعاً معتبر نہیں، جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں قاضی خان کے حوالہ سے منقول اس جزئیہ سے معلوم ہوتا ہے : (اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع فقال المشتري تكون هنا الليلة فإن ماتت ماتت لي فهلكت هلكت من مال البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان) یعنی اگر کسی شخص نے بائع کے اصطبل میں موجود ایک بیمار دابہ خریدا اور مشتری نے کہا کہ یہ دابہ آج رات یہیں رہے گا، اگر مر گیا تو اس کا نقصان میرے ذمہ ہوگا، اس کے باوجود اگر وہ جانور قبضہ سے پہلے ہلاک ہو جائے تو اس کی ہلاکت بائع کے مال سے شمار ہوگی، مشتری کے مال سے نہیں؛ کیونکہ مبیع قبضہ سے پہلے بائع کے پاس ہلاک ہوئی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ مبیع (مکان) بائع کے قبضہ میں ہلاک ہوا ہے، اس لیے اس کا ضمان بھی بائع ہی پر لازم ہوگااور مشتری نے مبیع کی جو قیمت (ساڑھے پانچ لاکھ)ادا کر دی تھی، وہ قیمت واپس کرنا بھی بائع کے ذمہ لازم ہے ۔
فيض الباري على صحيح البخاري:
وحاصل الترجمة على ما فهمه الشارحون: أن المبيع إن هلك قبل القبض، هل يهلك من مال البائع أو المشتري؟ فالجمهور إلى أنه لو هلك قبل قبض المشتري، هلك من مال البائع، وبعده من مال المشتري.
(باب إذا اشترى.أو دابة.مات قبل القبض (3/ 441) دار الكتب العلمية)
مجمع الضمانات (ص237):
رجل اشترى ثوبا ولم يقبضه، ولم ينقد الثمن فقال للبائع: لا آمنك عليه ادفعه إلى فلان فيكون عنده حتى أدفع إليك الثمن فدفعه البائع إلى فلان وهلك عنده كان الهلاك على البائع؛ لأن المدفوع إليه يمسكه بالثمن لأجل البائع فتكون يده كيد البائع. رجل اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع فقال المشتري للبائع: تكون ها هنا الليلة فإن ماتت ماتت لي فهلكت هلكت من مال البائع لا من مال المشتري.
الفتاوى العالمكيرية:
اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع فقال المشتري تكون هنا الليلة فإن ماتت ماتت لي فهلكت هلكت من مال البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان.
(الفصل الثاني في تسليم المبيع الخ(3/ 20) دار الفكر بيروت)
شرح الزيادات - قاضي خان:
رجل اشترى جاريةً، ولم يقبضها حتى وطئها المشتري، وهي بكر، أو ثيّب، فلا عقر عليه؛ لأنه وطئ ملك نفسه، ويصير قابضًا لها بالاستيلاء عليها، وللبائع أن يستردّها لاستيفاء الثمن؛ لأنه كان له حق الحبس لاستيفاء الثمن، فكان له حق الاسترداد. فإن هلكت الجارية قبل أن يُحدث البائع منعا، هلكت من مال المشتري؛ لأنها هلكت بعد القبض. وإن هلكت بعدما أحدث البائع منعًا، هلكت من مال البائع؛لأنه صارمستردًا بالمنع بعد الوطئ،فانتقض قبض المشتري،وصار كأن لم يكن.
(باب الهبة للعبد المبيع قبل القبض وبعده (3/ 826) المجلس العلمي)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔