سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-458 Fatwa no: 1447-458

مبیع کا قبضہ دیے بغیر محض ضمان منتقل کرنے کا معاہدہ شرعاً معتبر نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :
محترم مفتیانِ کرام! ایک شخص (بائع) نے اسلام آباد، بری امام کے علاقے میں واقع اپنا ایک مکان دوسرے شخص (مشتری) کو فروخت کیا، فریقین کے مابین باقاعدہ اسٹام پیپر تحریر ہوا، جس میں دو گواہوں کی موجودگی میں یہ شرط صراحتاً درج کی گئی کہ اگر آئندہ کسی بھی وقت حکومتِ وقت مذکورہ علاقے پر قبضہ کر لے یا کسی سرکاری کارروائی کے نتیجے میں مکان منہدم ہو جائے تو اس کا ذمہ دار بائع نہیں ہوگا، بلکہ مشتری ہوگا ، مکان کی کل قیمت دس لاکھ روپے طے پائی، تاہم مشتری نے اکتوبر کے مہینے میں مکمل رقم ادا کرنے کے بجائے صرف ساڑھے پانچ لاکھ روپے ادا کیے اور بقیہ ساڑھے چار لاکھ روپے فروری میں ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ اس پر بائع نے عدمِ اعتماد کی بنا پر مؤخر ادائیگی قبول کرنے سے انکار کیا، بعد ازاں مشتری نے یہ تجویز پیش کی کہ جب تک مکمل رقم ادا نہ ہو، مکان بائع کے قبضے میں ہی رہے گااور جب باقی رقم ادا کر دی جائے گی تو بائع مکان مشتری کے حوالے کر دے گا، مشتری نے بروقت ادائیگی کا وعدہ بھی کیا، جس پر فریقین اسی صورت پر متفق ہو گئے۔ بعد ازاں فروری سے قبل ہی حکومتِ وقت نے مذکورہ علاقے کو اپنی تحویل میں لے کر وہاں موجود مکانات مسمار کر دیے، اس وقت تک مکان بدستور بائع کے قبضے میں تھا،اس صورتحال کے بعد مشتری بائع سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ چونکہ مکان سرکاری کارروائی میں منہدم ہو چکا ہے، اس لیے بائع اسے وصول شدہ رقم واپس کرے، حالانکہ اسٹام پیپر میں مذکورہ شرط واضح طور پر درج ہے۔اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورتِ حال میں شرعاً نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟کیا بائع پر وصول شدہ رقم واپس کرنا لازم ہے؟یا معاہدے میں درج شرط کے مطابق مشتری ہی اس نقصان کا ذمہ دار شمار ہوگا؟قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں راہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ والسلام
جواب :

واضح رہے کہ اگر مبیع بائع کے قبضہ میں ہو اور مشتری کو قبضہ دینے سے پہلے وہ ہلاک ہو جائے تو اس کا نقصان اور ضمان شرعاً بائع ( بیچنے والے )کے ذمہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں مشتری کو نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں، اگرچہ فریقین نے باہمی رضامندی سے یہ شرط طے کی ہو کہ ہلاکت کی صورت میں مشتری ذمہ دار ہوگا؛ کیونکہ ضمان کی منتقلی کے لیے قبضہ شرط ہے،  بغیر قبضہ کے محض یہ معاہدہ کرنا کہ ہلاکت کی صورت میں مشتری ذمہ دار ہوگا، شرعاً معتبر نہیں، جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں قاضی خان کے حوالہ سے منقول اس جزئیہ سے معلوم ہوتا ہے : (اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع فقال المشتري تكون هنا الليلة فإن ماتت ماتت لي فهلكت ‌هلكت ‌من ‌مال ‌البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان) یعنی اگر کسی شخص نے بائع کے اصطبل میں موجود ایک بیمار دابہ خریدا اور مشتری نے کہا کہ یہ دابہ آج رات یہیں رہے گا، اگر مر گیا تو اس کا نقصان میرے ذمہ ہوگا، اس کے باوجود اگر وہ جانور قبضہ سے پہلے ہلاک ہو جائے تو اس کی ہلاکت بائع کے مال سے شمار ہوگی، مشتری کے مال سے نہیں؛ کیونکہ مبیع قبضہ سے پہلے بائع کے پاس ہلاک ہوئی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ مبیع (مکان) بائع کے قبضہ میں ہلاک ہوا ہے، اس لیے اس کا ضمان بھی بائع ہی پر لازم ہوگااور مشتری نے مبیع کی جو قیمت (ساڑھے پانچ لاکھ)ادا کر دی تھی، وہ قیمت واپس کرنا بھی بائع کے ذمہ لازم ہے ۔
فيض الباري على صحيح البخاري:
وحاصل الترجمة على ما فهمه الشارحون: أن المبيع إن هلك قبل القبض، هل يهلك من مال البائع أو المشتري؟ فالجمهور إلى أنه لو هلك قبل قبض المشتري، هلك من مال البائع، وبعده من مال المشتري.
(باب إذا اشترى.أو دابة.مات قبل القبض (3/ 441) دار الكتب العلمية)
مجمع الضمانات (ص237):
رجل اشترى ثوبا ولم يقبضه، ولم ينقد الثمن فقال للبائع: لا آمنك عليه ادفعه إلى فلان فيكون عنده حتى أدفع إليك الثمن فدفعه البائع إلى فلان وهلك عنده كان الهلاك على البائع؛ لأن المدفوع إليه يمسكه بالثمن لأجل البائع فتكون يده كيد البائع. رجل اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع فقال المشتري للبائع: تكون ها هنا الليلة فإن ماتت ماتت لي فهلكت ‌هلكت ‌من ‌مال ‌البائع لا من مال المشتري.
الفتاوى العالمكيرية:
اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع فقال المشتري تكون هنا الليلة فإن ماتت ماتت لي فهلكت ‌هلكت ‌من ‌مال ‌البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان.
(الفصل الثاني في تسليم المبيع  الخ(3/ 20) دار الفكر بيروت)
شرح الزيادات - قاضي خان:
رجل اشترى جاريةً، ولم يقبضها حتى وطئها المشتري، وهي بكر، أو ثيّب، فلا عقر عليه؛ لأنه وطئ ملك نفسه، ويصير قابضًا لها بالاستيلاء عليها، وللبائع أن يستردّها لاستيفاء الثمن؛ لأنه كان له حق الحبس لاستيفاء الثمن، فكان له حق الاسترداد. فإن هلكت الجارية قبل أن يُحدث البائع منعا، هلكت من مال المشتري؛ لأنها هلكت بعد القبض. وإن هلكت بعدما أحدث البائع منعًا، هلكت من مال البائع؛لأنه صارمستردًا بالمنع بعد الوطئ،فانتقض قبض المشتري،وصار كأن لم يكن.
(‌‌باب الهبة للعبد المبيع قبل القبض وبعده (3/ 826) المجلس العلمي)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب