سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-459 Fatwa no: 1447-459

متروکہ کمپنی کی تقسیم کا طریقہ کار

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب مرحوم کی سعودیہ میں "افغان المشرق" کے نام سے ایک کمپنی تھی، کمپنی مکمل طور پر والد صاحب کی ملکیت تھی، ہمارے دو بڑے بھائی والد صاحب کے ساتھ سعودیہ ہی میں تھے، جن کی کمپنی سے تنخواہ مقرر تھی اور پاکستان میں گھر کے تمام اخراجات اور دیگر بھائیوں کے اخراجات کمپنی ہی سے آتے تھے اور والد صاحب نے اپنی حیات میں اس امر کا تذ کرہ بھی کیا کہ کمپنی میں سب بھائی شریک ہیں ، والد صاحب کی وفات کے بعد ہم نے بڑے دونوں بھائیوں کو یہاں سے اٹارنی ( وکالت نامہ ) بھیجا کہ وہی دونوں کمپنی کے تمام معاملات کو دیکھیں اور ورثاء میں ہم چار بھائی، دو بہنیں اور والدہ محترمہ ہیں، بہنوں کو والد صاحب مرحوم نے اپنی حیات میں ان کا حصہ دیا تھا ، اب سوال یہ ہے کہ: (1) ۔یہ کمپنی تمام ورثاء میں کیسے تقسیم ہوں گی ، کیا ہماری بہنوں کا اس کمپنی میں حصہ ہے یا نہیں ؟ جبکہ ہمارے والد صاحب اپنی حیات میں انہیں حصہ دے چکے ہیں؟ (۲)۔ اب والدہ صاحب کی وفات کے بعد کمپنی کی ملکیت شرعی طور پر کسی طرح تقسیم ہوگی ؟ اور ماہانہ یا سالانہ جو منافع آرہا ہے اس کی تقسیم کسی طرح ہوگی ؟ کیا کمپنی کے تمام اثاثے، سرمایہ ، منافع ، بقایا جات اور نام (ٹائٹل ) بھی ترکہ میں شامل ہوں گے ؟ (۳) ۔والد صاحب کی حیات میں بڑے بھائی کو کمپنی میں جو اختیار حاصل تھا، جو کہ بعد از وفات بھی قانو نا قائم ہے، کہ شرعا یہ اختیار باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اور کیا اب بڑے بھائی دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر ان اختیارات کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ (۴)۔ کیا کمپنی کے تمام معاملات سنبھالنے والے دونوں بھائی کو دیگر بھائیوں سے سالانہ یا ماہانہ حساب پیش کر ناشرعاً لازم ہے ؟ (5)۔اگر کچھ بھائی پاکستان میں ہیں اور کچھ سعودی عرب میں، تو کیا تقسیم میں کوئی فرق یا اضافی شرعی ذمہ داری پیدا ہوتی ہے ؟ اور کیا ہر بھائی کا کمپنی کے فیصلوں میں برابر حق ہے ؟ اگر اختلاف ہو تو شر عی حل کیا ہے ؟ (6)۔جو بھائی سعودی عرب میں بیٹھ کر عملی طور پر کمپنی چلا ر ہے ہیں ، کیا انہیں الگ سے اجرت ( Salary ) یا محنت کا حصہ مل سکتا ہے؟ (7)۔ اگر والد صاحب نے وفات سے پہلے کمپنی کی کچھ ملکیت بیٹوں کے نام منتقل کی ہو، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ (8)۔اگر کمپنی کے کچھ کاغذات ، لائسنس ، یار جسٹریشن صرف ایک یا دو بھائیوں کے نام پر ہوں تو کیا شر عاً وہ ذاتی ملکیت سمجھی جائے گی یا تمام ورثاء کی ؟ (9) ۔ اگر کسی بھائی نے سرمایہ لگایا ہے یا ذاتی محنت زیادہ ہے، تو اس کا شر عی حل کسی طرح طے ہو گا؟ (10) ۔اگر کسی بھائی یا بہن نے وراثت سے اپنا حصہ معاف کرنا ہو تو شر عی طریقہ کیا ہے ؟ (11)۔اگر ورثاء چاہیں کہ کمپنی نہ بیچی جائے بلکہ چلتی رہے اور سب منافع لیں تو اس کا شرعی طریقہ کار کیا ہونا چاہیے ؟
جواب :

(1، 2) ۔۔۔۔واضح رہے کہ مرحوم نے اپنی بیٹیوں کو اپنی زندگی میں جو کچھ دیا، وہ ان کی طرف سے بطورِ تحفہ (گفٹ) تھا، جو میراث کا عوض یا بدل نہیں بنتا اوراس بنا پر بیٹیوں کا حقِ وراثت ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ بدستور میراث میں اپنے شرعی حصے کی حق دار ہیں، لہٰذا مرحوم نے انتقال کے بعد جو ترکہ چھوڑا، اس میں بیٹیوں کو بھی دیگر ورثاء کی طرح شرعی حصے ملیں گے، اور میراث کی تقسیم درجِ ذیل شرعی اصولوں کے مطابق کی جائے گی۔
مرحوم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ "افغان المشرق" کمپنی  اور اس کے منافع سمیت   جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، پلاٹ، نقد رقم، سونا، چاندی ،مال تجارت، کپڑے، فرنیچر، سازوسامان، غرض جو بھی چھوٹا بڑا سامان چھوڑا ہے، نیز مرحوم کا وہ قرضہ جو دوسروں کے ذمہ ہو اور مرحوم نے اسکو وصول نہ کیا ہو وہ سب مرحوم کا ترکہ ہےجس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، تاہم اگر کسی نے یہ اخراجات بطورِ احسان ادا کر دئیے ہوں تو مرحوم کے ترکہ سے یہ اخراجات نہیں نکالے جائیں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجبُ الاداء ہو تو وہ ادا کریں یا مرحوم نے  بیوی کامکمل  مہر ادا نہ کیا ہو اور بیوی نے خوشدلی سے معاف بھی نہ کیا ہو تو اسے ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پرعمل کریں، اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کے کل اسی  (8۰) برابر حصے کر کےان میں سے بیوہ کودس(10) حصے دیدیں ، اور ہر ایک بیٹے کوچودہ چودہ (١٤) حصے دیدیں، اورہرایک بیٹی کو سات سات (٧) حصہ دیدیں ۔
التعريفات لعلي بن محمد بن علي الزين الشريف الجرجاني (ت 816هـ):
تركة الميت: متروكة، وفي الاصطلاح: هو المال الصافي عن أن يتعلق حق الغير بعينه. التركة: في اللغة ما يتركه الشخص ويبقيه، وفي الاصطلاح: ‌ما ‌ترك ‌الإنسان ‌صافيًا خاليًا عن حق الغير.
(‌‌باب التاء (ص56) دار الكتب العلمية بيروت)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
تتعلق ‌حقوق ‌أربعة مترتبة في تركة الميت وهي:
1 - تجهيز وتكفين الميت بلا إسراف ولا تعتبر من أمواله.
2 - تؤدى جميع ديونه من أمواله الباقية.
3 - تنفذ وصيته من أمواله الباقية بعد ذلك من ثلث أمواله وتوفى. 
4-تقسم جميع أمواله الباقية بين ورثته على الوجه الشرعي.
(خاتمة في حق أحكام القرض والدين(3/ 95) دار الجيل)
 (3تا 6)۔۔۔۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں بیٹوں میں سے جس کو  کمپنی میں کام کرنے کے حوالے سے جو اختیارات دیے تھے، ان کا دائرہ صرف اُن کی زندگی تک محدود تھا، والد صاحب کے انتقال کے بعد وہ اختیارات خودبخود ختم ہو چکے ہیں، اب مرحوم کی کمپنی اور دیگر جائیداد میں تمام ورثاء (چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا سعودیہ میں) برابر کے شریک ہیں، اور کسی فرد کو تنہا کسی قسم کا تصرف کرنے کا شرعی حق حاصل نہیں ہے، الا یہ کہ تمام ورثاء باہمی رضا مندی سے کسی ایک یا دو افراد کو کمپنی سنبھالنے کی اجازت دے دیں ، اس صورت میں اگر ورثاء میں سے کوئی سالانہ یا ماہانہ حساب کا مطالبہ کریں، تو جس کے پاس کمپنی یا مال ہے، اُس پر لازم ہے کہ وہ  باہمی رضامندی سے مکمل اور شفاف حساب پیش کرے۔
واضح رہے کہ کسی وارث کا سعودیہ یا پاکستان میں ہونا، یا کمپنی کا انتظام سنبھالنا، اسے کمپنی میں کسی اضافی حق، اختیار یا ذمہ داری کا مستحق نہیں بناتا، بلکہ تمام ورثاء شرعی طور پر برابر کے شریک ہیں ،البتہ اگر ورثاء میں سے کوئی فرد کمپنی کے انتظامی امور سنبھال رہا ہو اور وہ اس خدمت کے بدلے تنخواہ لینا چاہے، تو تمام ورثاء کی مشاورت سے اُس کی تنخواہ مقرر کرکے دینا شرعاً جائز ہے، کیونکہ  بعض علماء  کرام ؒ نے شریک کو الگ  سےتنخواہ دینا   جائز  قراردیا ہے۔
شرح مختصر الطحاوي للجصاص:
قال أبو جعفر:(وموت الموكل يخرج الوكيل من الوكالة، علم بذلك الوكيل،أو لم يعلم).لأن الملك قد ‌انتقل ‌عن ‌الموكل، فبطل أمره من جهة الحكم، كما لو باعه الموكل.
(بطلان الوكالة بموت الموكل(3/ 276) دار البشائر الإسلامية)
البناية شرح الهداية :
 ومن استأجر رجلا لحمل طعام مشترك بينهما لا يجب الأجر، لأنه ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه فيه فلا يتحقق تسليم المعقود عليه) ش: وفيه خلاف الشافعي - رَحِمَهُ اللَّهُ -.قيل: هاهنا نظير أن الأول في قوله حيث لا يجب الأجر كيف يقول لا يجب، لأنه قد وجب وقبض وهو نصف الطعام، ثم يقول لأن المستأجر ملك الأجر.
والثاني في قوله لأن ما من جزء يحمله إلا وهو عامل لنفسه نظر، فإن هذا ممنوع، لأن صورة المسألة أن الطعام مشترك بينهما، فكيف يقال إن كل جزء منه يكون الشريك الحامل له عاملا لنفسه، وإن كان مراده أن ما من جزء إلا وهو مشترك بينهما فيكون بهذا الاعتبار عاملا لشريكه يعكس عليه ويقال: إنه 
إذا كان ما من جزء إلا وهو مشترك ببينهما فيكون بهذا الاعتبار عاملا لشريكه.
ولكن الحق أن الجزء الذي لشريكه ليس هو عاملا لنفسه فيه، بل لشريكه فهو في الحقيقة عامل لنفسه، وعامل لشريكه فأخذه الأجرة في مقابلة عمله لشريكه
(استأجر رجلا ليخبز له هذه العشرة اليوم (10/ 299) دار الكتب العلمية)
(7تا 8)۔۔۔۔ واضح رہے کہ کسی کو جائیداد وغیرہ دینے کے لیے باقاعدہ تقسیم کرکے مالکانہ قبضہ دینا ضروری ہے، صرف جائیداد وغیرہ نام کرنے سے ملکیت منتقل نہیں ہوتی، صورتِ مسئولہ میں اگر والدِ مرحوم نے کمپنی کی کچھ ملکیت بطور ِ ھبہ  بیٹوں کو مکمل مالکانہ قبضہ دے کر منتقل کی تھی، تو وہ ان کی ملکیت شمار ہوگی،البتہ اگر صرف ان کے نام کردی تھی، لیکن قبضہ نہیں دیا تھا، تو وہ املاک بھی مرحوم کا ترکہ شمار ہوں گی اور دیگر ترکہ کی طرح تمام ورثاء میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق تقسیم ہوں گی۔ 
الفتاوى العالمكيرية (4/ 374):
‌ومنها ‌أن ‌يكون ‌الموهوب ‌مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع، أو عكسه أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة، أو عكسه لا تجوز، وكذا لو وهب دارا أو ظرفا فيها متاع للواهب، كذا في النهاية.
(الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها (4/ 374) دار الفكر بيروت)
حاشية ابن عابدين:
 (وقوله: ‌بخلاف ‌جعلته ‌باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب ا.
(‌‌كتاب الهبة (5/ 689) دار الفكر – بيروت)
 (9)۔۔۔ اگر کسی بھائی نے باپ کیساتھ  مذکورہ کمپنی میں شریک ہونے کی غرض سے باہمی معاہدہ سے   الگ سےاپنا ذاتی سرمایہ لگایا ہے تو وہ اپنے لگائے گئے سرمایہ کے تناسب سے کمپنی میں شریک شمار ہوگا،چنانچہ سب سے پہلے کمپنی سے اس بھائی کے سرمایہ کے تناسب سے اس کا حصہ الگ کیا جائے گا، اس کے بعد جو کچھ باقی بچے گا وہ والدِ مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، اور وہ مذکورہ بھائی سمیت تمام ورثاء میں، مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
 [ ‌‌(المادة 1073) تقسيم ‌حاصلات ‌الأموال المشتركة في شركة الملك] (المادة 1073) - (تقسيم ‌حاصلات ‌الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم ‌حاصلات ‌الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة؛ لأن الغنم بالغرم بموجب المادة (88) .
(‌‌(المادة 1073) (3/ 26) دار الجيل)
(10)۔۔۔ واضح  رہے کہ میراث سےحصہ لئے بغیرصرف زبانی طور پر دستبردار ہونا شرعاً معتبر نہیں ہے،البتہ  اگر واقعۃً کوئی وارث خوش دلی سے دستبردار ہونا چاہتا ہے تو  اس کے لئے درج ذیل دوصورتوں میں سے کسی صورت  پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
(الف)شرعی ضابطہ میراث کے مطابق باقاعدہ میراث کی تقسیم کا حساب کر کےہر وارث کو اس  کا حصہ مالک اور قابض بنا کر دےدیا جائے، حصہ لینے کے بعد  اگر ان میں سے کوئی اپنا حصہ ورثاء میں سےکسی کو ہبہ کرنا چاہے،تو کرسکتا ہے۔
 (ب) مذکورہ وارث میراث میں سے اپنے حصے کے بدلے کوئی چھوٹی موٹی چیز  اور اس کے ساتھ کچھ رقم وغیرہ لیکر اپنے باقی حصے سے  دستبردار ہو جائے،اس صورت میں پھر اس کا بقیہ حصہ دیگر ورثاء میں اُن کے حصوں کےتناسب سےتقسیم ہوگا۔
(11)۔۔۔ اگر تمام ورثاء عاقل و بالغ ہوں اورسب  اس بات پر متفق ہوں کہ کمپنی کو فروخت نہ کیا جائے، بلکہ اسے اسی طرح برقرار رکھا جائے اور منافع آپس میں تقسیم کیا جاتا رہے، تو شرعاً اس کی بھی گنجائش ہے،اس صورت میں منافع کی تقسیم کا طریقہ وہی ہوگا جو اوپر جواب نمبر (1) میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے،  لہٰذا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق منافع تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دیا جائے گا۔ 
تكملة حاشية ابن عابدين:
ولو قال ‌تركت ‌حقي ‌من ‌الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ
(‌‌باب دعوى النسب (8/ 208) دار الفكر، بيروت)
 حاشية ابن عابدين:
 (‌أخرجت ‌الورثة ‌أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر)
(‌‌فصل في التخارج (5/ 642) دار الفكر – بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب