نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمذکورہ تفصیل کے مطابق آپ کی بیوی پر شرعاً تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا نہ رجوع ممکن ہے اور نہ ہی آپ دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے، الا یہ کہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے باقاعدہ نکاح کرے، اور وہ دوسرا شوہر یا تو وفات پا جائے یا کسی وجہ سے طلاق دے دے، پھر عورت عدت گزار لے، تو اس کے بعد آپ دونوں باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار:
وقالت لزوجها: طلقني فقال فعلت طلقت، فإن قالت زدني فقال فعلت طلقت أخرى.
(باب طلاق غير المدخول بها (ص213) دار الكتب العلمية بيروت)
الفتاوى العالمكيرية:
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج .
(الفصل الأول في الطلاق الصريح (1/ 355) دار الفكر بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔