سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-460 Fatwa no: 1447-460

متفرق تین طلاق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری اپنی بیوی سے کچھ باتوں پر منہ ماری ہو گئی، پھر میں نے اپنی بیوی کو دو دفعہ طلاق دی ،پھر کچھ دنوں بعد بیوی نے مجھے کہا کہ "مجھے طلاق دو"، میں نے دو دفعہ اسے کہا "طلاق، طلاق"، میں نے یہ الفاظ اس لیے کہے کیونکہ میری بیوی بہت بدزبان ہے، جب وہ میرے ساتھ لڑتی ہے تو ہمیشہ یہی کہتی ہے: "مجھے طلاق دو" ، اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میرے ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی ہے؟ شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں ؟ جزاکم اللہ خیرا
جواب :

مذکورہ تفصیل کے مطابق آپ کی بیوی پر شرعاً تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا نہ رجوع ممکن ہے اور نہ ہی آپ دونوں کا آپس میں دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے، الا یہ کہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے باقاعدہ نکاح کرے، اور وہ دوسرا شوہر یا تو وفات پا جائے یا کسی وجہ سے طلاق دے دے، پھر عورت عدت گزار لے، تو اس کے بعد آپ دونوں باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی  نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار:
وقالت لزوجها: ‌طلقني ‌فقال ‌فعلت طلقت، فإن قالت زدني فقال فعلت طلقت أخرى.
(‌‌باب طلاق غير المدخول بها (ص213) دار الكتب العلمية بيروت)
الفتاوى العالمكيرية:
‌وإذا ‌قال ‌لامرأته ‌أنت ‌طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج .
(الفصل الأول في الطلاق الصريح (1/ 355) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب