سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-461 Fatwa no: 1447-461

محلے کی مسجد میں اگر جماعت ثانیہ ہورہی ہو تو اس میں شامل ہونے کے بجائے اکیلے نماز پڑھنا بہتر ہے۔

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم قطر میں مقیم ہیں، جہاں مساجد میں ایک وقت کی فرض نماز کی دو یا تین جماعتیں معمول کے طور پر ہوتی ہیں، جبکہ ایک مفتی صاحب کا بیان سنا کہ فقہ حنفی کے مطابق مسجد میں فرض نماز کے بعد دوبارہ جماعت قائم کرنا درست نہیں، اور ایسی صورت میں اکیلے نماز ادا کرنا افضل ہے، تو کیا ہمارے لیے دوسری یا تیسری جماعت میں شریک ہونا درست ہے یا اکیلا نماز پڑھنا افضل ہے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ خیراً
جواب :

واضح رہے کہ ایسی مسجد جس میں پنچ وقتہ نماز باجماعت ادا کی جاتی ہو اور اس کا امام اور مؤذن بھی مقرر ہو تو ایسی مسجد میں اذان واقامت کے ساتھ اہل محلہ کی جماعت ادا کرنے کے بعد دوسری جماعت کروانا حنفیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے ، لہذا آپ پہلی جماعت میں پہنچ کر نماز پڑھنے کی کوشش کریں اور اگر کبھی پہلی جماعت نکل جائے تو مسجد  سے باہر دوسری جماعت کرلی جائے ، اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو مسجد کے اندر دوسری جماعت کےبجائے اکیلا نماز پڑھنا بہتر ہے ؛ کیونکہ دوسری جماعت میں کئی ساری قباحتیں ہیں :
مثلاً: حضورﷺ اور حضراتِ صحابۂ کرام  کے طریق سے مخالفت، جماعت کی تقلیل کا سبب،پہلی جماعت کےساتھ شرکت میں تکاسل اور اس کی عادت پڑجانے کا خطرہ ، جماعت سے تخلّف کے گناہ کا اظہار اور افتراق و تشتّت کی صورت وغیرہ ۔(ماخذہ ٗ تبويب دارالعلوم کراچی: ( 2639/100)  بتوقیع شیخ الاسلام صاحب حفظہ اللہ)
حاشية ابن عابدين:
(قوله: ‌وتكرار ‌الجماعة) لما روى عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من بيته ليصلح بين الأنصار فرجع وقد صلى في المسجد بجماعة، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم في منزل بعض أهله فجمع أهله فصلى بهم جماعة» ولو لم يكره تكرار الجماعة في المسجد لصلى فيه. وروي عن أنس " أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا إذا فاتتهم الجماعة في المسجد صلوا في المسجد فرادى " ولأن التكرار يؤدي إلى تقليل الجماعة؛ لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة يتعجلون فتكثر وإلا تأخروا. اهـ. بدائع. وحينئذ فلو دخل جماعة المسجد بعد ما صلى أهله فيه فإنهم يصلون وحدانا، وهو ظاهر الرواية ظهيرية.
(باب الاذان، ‌‌[فائدة] التسليم بعد الأذان (1/ 395) دار الفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
قال في شرح الدرر والغرر وفي الكافي ‌ولا ‌تكرر ‌جماعة وقال الشافعي رحمه الله يجوز كما في المسجد الذي على قارعة الطريق لنا أنا أمرنا بتكثير الجماعة وفي تكرار الجماعة في مسجد واحد تقليلها؛ لأنهم إذا عرفوا أنهم تفوتهم الجماعة يتعجلون للحضور فتكثر الجماعة، وفي المفتاح إذا دخل القوم مسجدا قد صلى فيه أهله كره جماعة بأذان وإقامة ولكنهم يصلون وحدانا بغير أذان ولا إقامة؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم خرج ليصلح بين الأنصار فاستخلف عبد الرحمن بن عوف - رضي الله تعالى عنه - فرجع بعدما صلى فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم بيته وجمع أهله فصلى بهم بأذان وإقامة، فلو كان يجوز إعادة الجماعة في المسجد لما ترك الصلاة فيه والصلاة فيه أفضل. اهـ
(باب الاذان،‌‌إجابة المؤذن (1/ 273) دار الكتاب الإسلامي)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو صلى في مسجد بأذان وإقامة هل يكره أن يؤذن ويقام فيه ثانيا؟ فهذا لا يخلو من أحد وجهين: إما أن كان مسجدا له أهل معلوم، أو لم يكن: فإن كان له أهل معلوم: فإن صلى فيه غير أهله بأذان وإقامة لا يكره لأهله أن يعيدوا الأذان والإقامة، وإن صلى فيه أهله بأذان وإقامة، أو بعض أهله يكره لغير أهله وللباقين من أهله أن يعيدوا الأذان والإقامة، وعند الشافعي لا يكره وإن كان مسجدا ليس له أهل معلوم بأن كان على شوارع الطريق - لا يكره تكرار الأذان والإقامة فيه»
(فصل بيان محل وجوب الأذان (1/ 153) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب