سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-42 Fatwa no: 1447-42

'' اگر میں اس گھر میں آئی تو مسلمان نہیں ہوں گی''کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک عورت نے گھر میں تلخ کلامی کے دوران قسم کھائی کہ میں اس گھر میں نہیں آؤں گی ( جس گھر میں رہائش پزیر ہے )اور اگر میں اس گھر میں آئی تو میں نبی علیہ السلام کی امت سے نہیں ہونگی ،میں مسلمان نہیں ہونگی،تو کیا یہ قسم کے دائرے میں داخل ہے یا نہیں ؟اور گھر آنے کی صورت میں وہ کافر ہوگی یا نہیں ؟
جواب :

بصورت مسئولہ اس طرح کہنے سے ( اگر میں اس گھر میں آئی تو میں نبی علیہ السلام کی امت سے نہیں ہونگی ،میں مسلمان نہیں ہونگی )قسم منعقد ہوجاتی ہےاور اس گھر آنے کی صورت میں وہ عورت کافر نہیں ہوگی ،تاہم اگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ ان الفاظ کے ساتھ قسم اٹھانے کے بعد خلاف کرنے کی وجہ سے آدمی کافر ہوجاتا ہے تو اس صورت میں اس گھر میں جانے کی وجہ سے کافر ہوجائیگی اور دوبارہ کلمہ پڑھنا واجب ہوگا اور اگر شادی شدہ ہو تو دوبارہ تجدید نکاح بھی کرنا ضروری ہوگااور اگر یہ عقیدہ نہ ہو تو اس صورت میں اس پر صرف کفارہ قسم لازم ہوگا یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلائیں  یا دس مسکینوں کو کپڑا دیدیں  اور اگر یہ نہ ہوسکے تو تین دن پے درپے روزے رکھیں ،نیز اس قسم کے الفاظ زبان پر لانے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
وَبَرِيءٌ مِنْ الْإِسْلَامِ أَوْ الْقِبْلَةِ أَوْ صَوْمِ رَمَضَانَ أَوْ الصَّلَاةِ أَوْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَعْبُدُ الصَّلِيبَ يَمِينٌ، لِأَنَّهُ كُفْرٌ وَتَعْلِيقُ الْكُفْرِ بِالشَّرْطِ يَمِينٌ .
(كتاب الأيمان،ج3،ص714،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا : وَاخْتُلِفَ فِي كُفْرِهِ (وَ) الْأَصَحُّ أَنَّ الْحَالِفَ (لَمْ يَكْفُرْ) سَوَاءٌ (عَلَّقَهُ بِمَاضٍ أَوْ آتٍ) إنْ كَانَ عِنْدَهُ فِي اعْتِقَادِهِ أَنَّهُ (يَمِينٌ وَإِنْ كَانَ) جَاهِلًا. وَ (عِنْدَهُ أَنَّهُ يَكْفُرُ فِي الْحَلِفِ) بِالْغَمُوسِ وَبِمُبَاشَرَةِ الشَّرْطِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ (يَكْفُرُ فِيهِمَا) لِرِضَاهُ بِالْكُفْرِ.
(كتاب الأيمان،ج3،ص718،ط:دارالفكر)
وفى الهندية:
ولو قال: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني، أو مجوسي، أو بريء من الإسلام، أو كافر، أو يعبد من دون الله، أو يعبد الصليب، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا فهو يمين استحسانا كذا في البدائع.
حتى لو فعل ذلك الفعل يلزمه الكفارة، وهل يصير كافرا اختلف المشايخ فيه قال: شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى -: والمختار للفتوى أنه إن كان عنده أنه يكفر متى أتى بهذا الشرط، ومع هذا أتى يصير كافرا لرضاه بالكفر، وكفارته أن يقول: لا إله إلا الله محمد رسول الله، وإن كان عنده أنه إذا أتى بهذا الشرط لا يصير كافرا لا يكفر.
(كتاب الأيمان،ج2،ص54،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا :وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم ....فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات.
(الفصل الثاني فى الكفارة،ج2،ص61،ط:دارالفكر)
وفي كنزالدقائق:
وكفّارته تحرير رقبةٍ أو إطعام عشرة مساكين كهما في الظّهار أو كسوتهم بما يستر عامّة البدن فإن عجز عن أحدهما صام ثلاثة أيّامٍ متتابعةً ولا يكفّر قبل الحنث .
(كتاب الأيمان،ج1،ص328،ط: دار البشائر الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 12 May 2026

واللہ اعلم بالصواب