سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-462 Fatwa no: 1447-462

مدرسہ کی نیت سے خریدی ہوئی زمین کی قیمت چندہ کی رقم سے ادا کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص 10 مرلے زمین ادھار کے پیسوں سے خریدتا ہے اور نیت اس کی یہ ہوتی ہے کہ میں اس زمین پر ایک مدرسہ اور ساتھ میں اپنے لیے ایک گھر تعمیر کروں گا، اب وہ شخص زمین خرید چکا ہے کچھ حصے میں اپنا گھر تعمیر کر رہا ہے اور باقی حصے میں مدرسے کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ (1)۔اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ چندہ دیں گے آیا وہ رقم صرف مدرسہ کی تعمیر میں ہی خرچ کی جائے گی یا زمین کی جو اصل مالیت مدرسے کے حصے کی بنتی ہے اس میں بھی اس کو خرچ کرنا جائز ہے تاکہ مدرسہ کی زمین کے قرض پیسوں کا بوجھ ختم ہوسکے؟ (2)۔نیز مذکورہ مدرسہ کے لئے مدرسہ ہی کی زمین پر مسجد بنائی جائے تو وہ شرعی مسجد کہلائے گی اور مسجد شرعی کا ثواب اور اس کے تمام تر آداب و احکام اس پر جاری ہوں گے یا نہیں؟ (3)۔مذکورہ مسجد یا مدرسہ کو دیا جانے والا چندہ ایک دوسرے کے مصالح میں استعمال کیا جاسکے گا یا نہیں؟
جواب :

(1)۔۔۔ واضح رہے کہ شرعی طور پر کسی جگہ کے وقف ہونے کے لیے صریح الفاظِ وقف کے ساتھ اس کو وقف کرنا ضروری ہوتا ہے،صرف وقف کی نیت سے زمین خرید لینا اس زمین کو شرعاً وقف نہیں بناتا، لہٰذا مذکورہ شخص نے جو زمین مدرسہ اور اپنے لیے گھر بنانے کی نیت سے خریدی ہے،وہ شرعاً وقف نہیں ہوئی، بلکہ بدستور خریدار کی ملکیت شمار ہوگی، اور خریدار ہی کے ذمہ اس زمین کی قیمت ادا کرنا لازم ہے۔ لہذا مدرسے کی تعمیر کے لیے جو رقم چندے کی صورت میں دی گئی ہےاس رقم سے (بغیر چندہ دینے والوں کی اجازت کے) زمین کی قیمت ادا کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ وہ رقم مدرسہ کی تعمیر کے لیے مخصوص ہے، لہٰذا اسی مقصد میں خرچ کرنا ضروری ہے۔
(2) ۔۔۔ شرعی مسجد بننے کے لیے ضروری ہے کہ جس زمین پر مسجد بنانے کا ارادہ ہو، اسے باقاعدہ طور پر الفاظِ وقف کے ذریعے مسجد کے لیے وقف کیا جائے، اگر زمین کو وقف کیے بغیر اس پر مسجد تعمیر کی جائے تو وہ شرعی مسجد نہیں کہلائے گی بلکہ ’’مصلیٰ‘‘شمار ہوگی اور مصلیٰ کے وہ احکام نہیں ہوتے جو شرعی مسجد کے ہوتے ہیں،تاہم اس جگہ نماز پڑھنے سے نماز ادا ہو جائے گی اور جماعت کی صورت میں جماعت کا ثواب بھی ملے گا، لیکن مسجدِ شرعی کا شرف حاصل نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ شخص نے زمین مدرسہ کی  نیت کے ساتھ خریدی ہے، باقاعدہ الفاظِ وقف کے ذریعے وقف نہیں کی، اس لیے اگر وہ اس مقام کو شرعی مسجد بنانا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ پہلے اس زمین کو شرعاً وقف کرے، پھر اس پر مسجد تعمیر کرے۔البتہ مدرسہ کے قیام کے لیے زمین کا وقف ہونا ضروری نہیں مملوکہ زمین پر بھی مدرسہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
(3)۔۔۔ اگر مسجد اور مدرسہ اس طرح ایک دوسرے کے تابع ہوں کہ دونوں کا انتظام ایک ہی انتظامیہ کے زیرِ نگرانی  ہو، تو ایسی صورت میں ان کے لیے جمع شدہ چندہ کو باہمی مفاد اور ضرورت کے تحت دونوں میں خرچ کرنا شرعاً جائز ہے؛ کیونکہ جب مدرسہ مسجد کے تابع ہو یا مسجد مدرسہ کے تابع ہو، تو دونوں ایک دوسرے کے مصالح میں شمار ہوں گے، اور جس طرح براہِ راست مسجد یا مدرسہ پر خرچ کرنا جائز ہے، اسی طرح ان کے مصالح و ضروریات پر خرچ کرنا بھی شرعاً درست ہے، البتہ اگر مذکورہ چندہ زکوٰۃ یا صدقاتِ واجبہ میں سے ہو تو بغیر تملیک کے مسجد یا تعمیرِ مدرسہ پر براہِ راست خرچ کرنا جائز نہیں ہے ، تملیک کا طریقہ کار بوقت ِ ضرورت کسی دارالافتاء سے معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کریں ۔ 
الفتاوى التاتارخانية،كتاب الوقف(۸/۱۵۶)مكتبه اعزازيه):
وإذا بنى مسجدا لا يصير مسجدا حتى يقر بلسانه أنه مسجد لا يباع ولا يوهب ولا يرهن ولا يورث......... ولو أمر القوم أن يصلوا فيه بجماعة صلاة أو صلوات يوما أو شهرا لا يكون مسجدا حتى يقول ما بيناه من القول.
البحر الرائق ،كتاب الوقف،ركن الوقف (5/ 205) دار الكتب الإسلامي):
وأما ركنه فالألفاظ الخاصة الدالة عليه وهي ستة وعشرون لفظا الأول: أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ولا خلاف فيه.
فتح باب العناية بشرح النقاية،كتاب الصلاة، فصل في مكروهات الصلاة (1/ 313) دار الأرقم بن أبي الأرقم – بيروت):
(و) كره كراهة التحريم (الوطاء) أي الجماع (والحدث).....(فوقه) لأن علو المسجد له حكمه... (لا) يكرهان (فوق بيت فيه مسجد) أي موضع أعد للصلاة، لأنه لا ‌يأخذ ‌حكم ‌المسجد. ولهذا لا يصح الاعتكاف فيه إلا للنساء. والتقييد بالفوق للمشاكلة، وإلا فهما لا يكرهان في البيت الذي فيه مسجد، فكيف فوقه. بل الظاهر أنهما لا يكرهان في مسجد البيت أيضا، فإنه ليس بمسجد حتى جاز بيعه. فلم يكن له حرمة المسجد كما في «الكافي». وفي «الخلاصة»: يندب لكل مسلم أن يتخذ مسجدا في بيته يصلي فيه النوافل والسنن، لكن ليس له حكم المسجد.
الدرالمختار مع  رد المحتار،كتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد (4/ 360) دار الفكر – بيروت):
 (اتَّحَدَ الْوَاقِفُ وَالْجِهَةُ وَقَلَّ مَرْسُومُ بَعْضِ الْمَوْقُوفِ عَلَيْهِ) بِسَبَبِ خَرَابِ وَقْفِ أَحَدِهِمَا (جَازَ لِلْحَاكِمِ أَنْ يَصْرِفَ مِنْ فَاضِلِ الْوَقْفِ الْآخَرِ عَلَيْهِ) لِأَنَّهُمَا حِينَئِذٍ كَشَيْءٍ وَاحِدٍ. (قوله: اتحد الواقف والجهة) بأن ‌وقف ‌وقفين ‌على ‌المسجد ‌أحدهما على العمارة والآخر إلى إمامه أو مؤذنه والإمام والمؤذن لا يستقر لقلة المرسوم للحاكم الدين أن يصرف من فاضل وقف المصالح، والعمارة إلى الإمام والمؤذن باستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة إن كان الوقف متحدا لأن غرضه إحياء وقفه، وذلك يحصل بما قلنا.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب