سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-463 Fatwa no: 1447-463

مدرسے کے چندے کی رقم سے کاروبار کرنے کا شرعی حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی مدرسے کے پاس جمع شدہ چندہ موجود ہو، تو کیا اس چندے سے مدرسے کے فائدے کے لیے کوئی جائز کاروبار کیا جا سکتا ہے؟ یعنی اس نیت سے کہ منافع مدرسے کی ضروریات پر خرچ کیا جائے اور اس طریقے سے اصل سرمایہ بھی محفوظ رہے،برائے کرم اس عمل کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ مدرسہ میں چندہ دینے والوں کا اصل مقصد چونکہ اس چندہ کو اس کے مصرف تک پہنچانا ہے ، لہذا اس چندہ کی رقم کو مصرف تک پہنچانے کی بجائے  تجارت  میں لگانا جائز نہیں ہے ، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے ؛ کیونکہ اس طرح کرنے سے چندہ کی رقم مصرف تک پہنچانے میں بلاوجہ تاخیر ہوگی ، البتہ اگر   چندہ کی رقم  مدرسہ کے فنڈ سے زائد ہو اور فی الحال اس کی کوئی ضرورت بھی نہ ہو تو پھر چند شرائط کے ساتھ اس زائد رقم کو تجارت میں لگانا جائز ہے ، وہ چند شرائط درج ذیل ہیں :
1۔ چندہ دینے والوں کی طرف سے  مدرسہ کے متولی کو اس کی اجازت ہو ۔
2۔مدرسہ کی منتظمہ کمیٹی کی طرف سے بھی اس کی اجازت ہو ۔
3۔زائد رقم کاروبار میں لگانا مدرسہ کے مفاد میں ہو یعنی اصل مقصد مدرسہ کے مال میں اضافہ ہو یا مدرسہ کی رقم کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھنا ہو ، کسی ذاتی مقصد کے لئے نہ ہو۔
4۔زائد رقم ایسے کاروبار میں لگائی جائے ،جس میں نفع تقریباً یقینی ہو ۔
5۔جو زائد رقم تجارت میں لگائی جائے اس کا نفع مدرسہ کی ضروریات اور مصالح ہی میں خرچ کیا جاتا ہو ۔
6۔رقم اتنی مدت تک تجارت میں نہ لگائی جائے جس سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہو۔
مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ مدرسہ کے فنڈ کو تجارت میں لگانا جائز ہے ، تاہم یہ بات واضح رہے کہ جب تک زکوٰۃ و صدقات ِ واجبہ کی رقم کی شرعی تملیک نہ ہوجائے  اس وقت تک اس وقت تک ان کو تجارت میں لگانا جائز نہیں ہوگا ، اور اس طرح زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی ۔ 
الإسعاف فى أحكام الأوقاف:
ولو اشترى المتولي بما ‌فضل ‌من ‌غلة ‌وقف المسجد حانوتا أو مستغلا آخر جاز لأن هذا من مصالح المسجد فلو باعه اختلفوا فيه والصحيح أنه يجوز لأن المشتري لم يذكر شيئا من شرائط الوقف فلا يكون من جملة أوقاف المسجد ولو خشي القيم هلاك النخل أو الشجر الذي في الأرض يجوز له أن يشتري ما يغرسه فيها لئلا يفنى شجرها وليخلف بعضها بعضا ولو أراد المتولي أن يشتري من غلة وقف المسجد دهنا أو حصرا أو إجراء أو حصا ليفرش فيه يجوز أن وسع الواقف في ذلك للقيم بأن قال يفعل ما يراه من مصلحة المسجد وان لم يوسع بل وقف لبناء المسجد وعمارته فليس له أن يشتري ما ذكرنا لأنه ليس من العمارة والبناء.
 (ما يجوز للقيم من التصرف وما لا يجوز، (ص56)هندية بشارع المهدى)
الفتاوى العالمكيرية :
وسئل الخجندي عن قيم المسجد يبيح فناء المسجد ليتجر القوم هل له هذه الإباحة؟ . فقال: ‌إذا ‌كان ‌فيه ‌مصلحة ‌للمسجد فلا بأس به إن شاء الله تعالى قيل: له لو وضع في الفناء سررا فآجرها الناس ليتجروا عليها وأباح لهم فناء ذلك المسجد هل له ذلك فقال: لو كان لصلاح المسجد فلا بأس به إذا لم يكن ممرا للعامة، ..... قيل له: لو وضع القيم على فناء المسجد كراسي وسررا وآجرها قوما ليتجروا عليها ويصرف ذلك إلى وجه نفسه أو إلى الإمام هل له ذلك فقال: لا.
(الباب الخامس في آداب المسجد الخ (5/ 320) دار الفكر بيروت)
حاشية ابن عابدين:
قوله: ويدفع ثمنه مضاربة أو بضاعة) وكذا يفعل في وقف الدراهم والدنانير، وما خرج من الربح يتصدق به في جهة الوقف وهذا هو المراد في قول الفتح عن الخلاصة، ثم يتصدق بها فهو على تقدير مضاف أي بربحها، وعبارة الإسعاف ‌ثم ‌يتصدق ‌بالفضل.
(مطلب في وقف المشاع المقضي به ، (4/ 364) دار الفكر بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب