سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-464 Fatwa no: 1447-464

مرحوم بیٹے کے نام رجسٹرڈ پلاٹ کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں رحمت بی بی، واجد خان مرحوم کی والدہ ہوں،میں نے اپنا ذاتی مکان فروخت کر کے ان پیسوں سے اسلام آباد میں ایک عدد پلاٹ خریدا تھا، میرے بیٹے واجد خان نے یہ پلاٹ اپنے نام کروا لیا تھا، اب واجد خان وفات پا چکے ہیں، اور واجد خان پر تقریباً ستر لاکھ روپے کا قرضہ ہے،میں یہ پلاٹ فروخت کر کے اپنے بیٹے کا سارا قرضہ ادا کرنا چاہتی ہوں، اس پلاٹ سے میں اپنی بہو، جو کہ واجد خان کی بیوہ ہے، کو کوئی حصہ نہیں دینا چاہتی، بلکہ صرف قرض ادا کر کے اپنے بیٹے کا بوجھ ختم کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ مجھے اپنے بیٹے کی آخرت کی بہت فکر ہے،لیکن واجد خان کی بیوی کا مطالبہ ہے کہ اسے اور اس کے بچوں کو پلاٹ سے اپنا حصہ دیا جائے، اس کی بیوی کسی قسم کا کوئی قرضہ ادا نہیں کرنا چاہتی، بلکہ وہ اپنے لیے گھر خریدنا چاہتی ہے،میری علماء کرام سے گزارش ہے کہ کیا میرا اپنے مرحوم بیٹے کا قرضہ ادا کرنے کا فیصلہ درست ہے یا غلط؟ براہِ کرم میری شرعی رہنمائی فرمائیں؟
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃًآپ نے اپنا ذاتی مکان فروخت کرکے اس کی رقم سے اسلام آباد میں مذکورہ  پلاٹ خریدا تھا اور اس میں آپ کے مرحوم بیٹے واجد خان کا کوئی مالی حصہ نہیں تھا اور نہ ہی آپ نے اسے باقاعدہ طور پر ہبہ (گفٹ) کر کے مالک بنایا تھا تو صرف اس کے نام پلاٹ رجسٹر کروانے سے وہ اس کا مالک نہیں بنا،لہٰذایہ پلاٹ شرعاً آپ ہی کی ملکیت ہے، واجد خان کی بیوہ یا اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں اور نہ ہی انہیں اس میں سے  مطالبہ کرنے کا حق حاصل  ہے،ایسی صورت میں اگر آپ اپنی خوش دلی سے پلاٹ فروخت کرکے واجد خان کا قرض ادا کرنا چاہتی ہیں، تو یہ بالکل درست ہے، بلکہ یہ نیک عمل آپ کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہوگا  ۔
اور اگر بالفرض یہ پلاٹ مرحوم واجد خان کی ملکیت ہوتا تب بھی شریعت کا حکم یہ ہے کہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے تمام واجب الادا قرضے ادا کیے جائیں، لہٰذا دین کی ادائیگی سے قبل بیوہ یا بچوں کا اس میں سے کوئی حصہ لینے یا مطالبہ کرنے کا حق نہیں، قرض کی ادائیگی کے بعد بچا ہوا مال شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا، مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہواکہ چاہے یہ پلاٹ آپ کا ذاتی ہو یا مرحوم کا، دونوں صورتوں میں قرض کی ادائیگی کے لیے اسے فروخت کرنا بالکل درست ہے، بلکہ اگر یہ مرحوم کی ملکیت ہو تو قرض کی ادائیگی کے لیے فروخت کرنا شرعاً ضروری ہے، چاہے ورثاء راضی ہوں یا نہ ہوں۔
حاشية ابن عابدين:
(وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: ‌جعلته ‌باسمك، ‌لا ‌يكون ‌هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اهـ. 
(‌‌كتاب الهبة،(5/ 689)ط: دار الفكر - بيروت)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
تتعلق ‌حقوق ‌أربعة مترتبة في تركة الميت وهي:
1 - تجهيز وتكفين الميت بلا إسراف ولا تعتبر من أمواله.
2 - تؤدى جميع ديونه من أمواله الباقية.
3 - تنفذ وصيته من أمواله الباقية بعد ذلك من ثلث أمواله وتوفى. 
4-تقسم جميع أمواله الباقية بين ورثته على الوجه الشرعي.
(خاتمة في حق أحكام القرض والدين(3/ 95) دار الجيل)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب